طلبہ کا سگریٹ نوشی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان

کچھ دنوں پہلے ایک اسکول کے سامنے سے گزر ہوا ۔اسکول کی چھٹی کا وقت تھا۔طلبہ اسکول سے باہر نکل رہے تھے ۔زیادہ تر بچے اپنے گھروں میں جانے کیلئے گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے ۔تو کچھ پیدل روانہ ہو رہے تھے ۔انھیں دیکھ کر خیال آیا کہ یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ۔ ہمارے ملک کے ستون ہیں ۔یہ مضبوط ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہو گا ۔مستقبل محفوظ ہو گا ۔

ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کچھ لڑکوں پر نظر پڑی۔یہی کوئی چودہ پندرہ سال کے عمریں ہوں گی ۔ایک بچے نے سگریٹ سلگا کر دوسرے بچے کو دی ۔اس طرح چھ سات بچوں نے سگریٹ کے بڑے بڑے کش لینے شروع کر دئیے ۔اچھے علاقے اور نامور اسکولوں کے بچوں کو اس طرح دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا ۔پیسے کا زیاں تو ایک طرف ۔مگر صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ چیز ہے، بعد میں معلوم ہوا کہ آجکل اسکولوں،کالجوںاور یونیورسٹیوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ نامور تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات سگریٹ پی کے اپنے آپ کو جدید معاشرے کا فرد سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو ماڈرن ظاہر کرتے ہیں ۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ رجحان نہ صرف اونچے طبقات میں ہے بلکہ درمیانے اور کم درجے کے طبقات میں بھی سگریٹ نوشی عام ہو رہی ہے۔

اگر معمار ہی کمزور ہو جائیں گے تو آگے انکا اور ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آج کل کے حالات دیکھتے ہوئے بچوں پر گہری نظر رکھیں ۔ جب وہ اتنی محنت سے اپنا وقت اپنا پیسہ لگا کر اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلواتے ہیں تو ان کے دوستوں پر اور ان کی سرگرمیوں پر بھی گہری نظر رکھی جائے ۔

وہ اپنے پچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت پر بھی توجہ دیں ۔انکی صحبت کا خاص خیال رکھا جائے ۔اسکے علاوہ اسکول کی انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ اسکولوں کے قریب سگریٹوں کی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔کھلی سگریٹیں باآسانی دستیاب ہیں۔ اسے روکا جائے ۔صحت مند رہنے کیلئے فائدہ مند اور نقصان دہ چیزوں سے متعلق آگا ہی دی جائے۔ تاکہ ہمارے مستقبل کے معمار ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست ہوں۔ صحت مندافراد سے صحت مندمعاشرہ اور مضبوط ملک وجودمیں آتا ہے ۔

جواب چھوڑ دیں