مسلمانوں پر ظلم کب تک ؟

مسلمانوں کی زبوں حالی کا اب یہ عالم ہو گیا ہے کہ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا حل بھی اہلِ کفر میں ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا ہو، فلسطین کا ہو، روہنگیا کے مسلمانوں کا ہو، ایغور (چین) کے مسلمانوں کا ہو یا افغانستان میں طالبان کا، ہر تنازعے کیلیے ہم امریکہ یا اقوام عالم کی جانب تکنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے دل و دماغ میں یہ بٹھا لیا ہے کہ امریکا یا دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک ہی دنیا بھر کے مسلمانوں اور مسلم امہ کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں۔
جب بھی کہیں بھی مسلمان یا کوئی بھی اسلامی ملک کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے وہ امریکہ کی جانب منھ کرکے دہائیاں دنیا شروع کر دیتا ہے، جبکہ ساری دنیا کا ایک ایک مسلمان اس بات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ سارے دکھ درد اور بیماریاں ان ہی بد بختوں کی پھیلائی ہوئی ہیں اس لیے کہ وہ اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا دین برحق ہے اور اگر یہ سارے بھٹکے ہوئے لوگ درست راہ پر آگئے تو پھر انھیں دنیا پر غالب آنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام اہلِ کفر کا اس بات پر اجماع ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو نہ تو کہیں ابھر نے دیا جائے اور نہ ہی سر اٹھا کے جینے کا موقع فراہم جائے۔
دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کے علاوہ کسی پر کوئی زیادتی ہوتی ہے، پوری دنیا میں ایک چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔ بے شک کسی بھی قوم پر ظلم یا زیادتی کرنا نہایت سنگین جرم ہے اور اس پر خاموش رہنے والے شریک ظلم ہی گنے جانے چاہئیں اور ظلم کے خلاف جہاں سے بھی آواز بلند ہو، قابلِ ستائش ہی گنی جانی چاہیے لیکن انصاف کا دہرا معیار بھی نہیں ہونا چاہیے۔

اگر مسلمان ممالک کی جانب نظر کی جائے تو شاید ہی کسی مسلمان ملک میں کسی غیر مسلم کے ساتھ ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ ہوتا ہو۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلام کسی سے بھی نا انصافی، ظلم اور زیادتی کا درس نہیں دیتا اس لیے ہر مسلمان کسی کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی سے نہ صرف گریز کرتا ہے بلکہ ایک عام اور سادہ سا مسلمان بھی ظلم کرنے والے کا ہاتھ روکنے میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
یہ بات بھی نہیں کہ کسی جہالت، علمی کم مائیگی یا کسی جذباتی صورت حال کی وجہ سے کسی غیر مسلم سے کوئی زیادتی ہوتی ہی نہیں ہوگی لیکن پوری دنیا میں جس بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ظلم و زیادتی کا سلوک کیا جارہا ہے اور بیشتر ممالک میں مسلمان اقلیتیں جس بہیمانہ طرز عمل کا شکار ہیں، ایسا کسی بھی مسلمان ملک میں کسی غیر مسلم کے ساتھ نہیں کیا جارہا۔ اس کے باوجود کسی مسلم ملک میں کہیں بھی کوئی معمولی سا واقعہ ہو جائے تو اس کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور دنیا پھاڑ کھانے کو دوڑ پڑتی ہے جبکہ نہ جانے کتنے ممالک میں مسلمان جانوروں سے بھی بد تر حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان کی عزت، آبرو، جان و مال داؤ پر ہی نہیں لگے ہوئے بلکہ عملاً نہ صرف ان پر ہر قسم کا ظلم و ستم ہو رہا ہے، ان کو گائے بھینسوں کی طرح ذبح بھی کیا جارہا لیکن دنیا افیون کھا کر سکون کی نیند سوئی ہوئی نظر آ تی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود بھی اگر مسلمان اس گمان میں ہیں کہ اہل کفران کے دکھوں کا مداوا کریں گے اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مرہم رکھیں گے تو یہ خود فریبی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ان ہی تمام حقائق کی روشنی میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر امریکی ثالثی خطرناک ہوگی جس سے بھارت کو فائدہ پہنچنے گا، ہم تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، اہم ایشوز پر ہمیں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کشمیر میں پاکستان کا پرچم کبھی نیچے نہیں گرنے دیں گے، ہمیں مسئلہ کشمیر پر جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے”۔ ان کی تقریر کے سبھی جملے محض جملے نہیں بلکہ تاریخی شواہد کی روشنی میں تجزیوں کا ایک نچوڑ ہیں۔ امریکہ کو ثالث بنا لینا ایسا ہی ہے جیسے دودھ کی رکھوالی پر کسی موٹے تازے خونخوار بلے کو بٹھا کر یہ سمجھ لیا جائے کہ دودھ محفوظ رہے گا۔
کشمیر کے سلسلے میں سب سیاسی جماعتوں کا اتفاق، اس کے پرچم کو بلند رکھنے کا عزم اپنی جگہ لیکن یہ بات طے ہے کہ کشمیرکی آزادی کیلیے سال بہ سال یوم یک جہتی منانے، جمعے کے جمعے آدھے گھنٹے کھڑے رہنے یا میلوں لمبی ہاتھوں کی زنجیریں بُن لینے سے کام کسی صورت بھی نہیں چل سکتا۔ اس لحاظ سے راجا فاروق حیدر کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ نرم پالیسی سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا یہ وہ گھی ہے جس کیلیے انگلیوں کو ٹیڑھا کیے بغیر کام نہیں چل سکتا۔

اتنا سب کچھ جانتے ہوئے اور مسلمانوں کیلیے اقوام عالم کا رویہ دیکھنے کے باوجود بھی پاکستان اور ملائیشیا کے وزرائے اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح تک لے جانے پر اتفاق کرتے ہوئے کشمیر، فلسطین اور روہنگیا کے تنازعات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق حل کی ضرورت پر زور دینا خیالی پلاؤ پکانے کی سی بات لگتی ہے۔
جو ادارہ (اقوام متحدہ) 72 برسوں میں بھی کشمیر کے مسئلے کو حل کرانا تو در کنار، اس پر مؤثر طریقے سے سے آواز اٹھانے تک کیلیے تیار نہ ہو، فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار بھی وہ فلسطینیوں کو ہی سمجھتا ہو، روہنگیا مسلمانوں پر کسی بھی دکھ درد کا احساس نہ رکھتا ہو اور چین میں رہنے والے مسلمان اسے کیڑے مکوڑے بھی نہ لگتے ہوں، اس ادارے سے یہ توقع باندھ لینا کہ وہ کسی “حس” کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی سخت ایکشن لے کر یہ تمام مسائل حل کر سکتا ہے، دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ کے سوا اور کچھ نہیں۔
جب اللہ نے کہہ دیا کہ اہلِ کفر کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے تو پھر یہ طے ہے کہ کسی صورت ہو ہی نہیں سکتے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ تمام اسلامی ممالک میں دہرے خنجروں سے کام لے رہے ہیں۔ جن جن ممالک میں سخت شورشیں برپا ہیں اور مسلمان مسلمان ہی سے دست و گریبان ہیں، وہاں اس قتال کے پسِ پشت یہی سارے ابلیسیے کارفرما ہیں اور حکومت کے حامی و مخالفین کو اسلحہ و گولا بارود فراہم کرکے یہی چاہتے ہیں کہ ان میں ایک ایسی نہ ختم ہونے والی خوں ریزی برپا رہے جو قیامت تک درازہو ۔ وہ اب تک نہ صرف اس سارے فتنہ و فساد میں شریک ہیں بلکہ ہر فریق کے غبارے میں ہوا بھرنے میں بھی برابر کے شریک ہیں۔ ایران، عرب ممالک اور خود پاکستان بھی ان کے اہداف ہیں جبکہ افغانستان اس بات کا ایک بہت ہی بڑا ثبوت ہے کہ جہاں برس ہا برس سے جاری خونریزی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔
ایک خبر کے مطابق “طالبان نے سوشل میڈیا پر واشنگٹن پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا نے انخلا کے حوالے سے مذاکرات کو روک دیا ہے جس سے افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہونا تھا۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور طالبان اب بھی ایک ممکنہ معاہدے کے گرد گھوم رہے ہیں جس میں دیکھا جائے گا کہ امریکی افواج ضمانتوں کے عوض افغانستان سے نکلنا شروع کریں گے تاہم ایسا لگتا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے جس سے طالبان کو وائٹ ہاؤس پر الزام تراشی کا موقع ملا اور ان کے مطابق امریکا معاہدے کے لیے اپنے مطالبات کی فہرست کو بڑھا رہا ہے”۔
ان سارے تجزیوں سے یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان جن طاقتوں کی جانب اس نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے مسائل حل کریں گی، جہاں جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے، اس کا ازالہ کریں گی، جن جن ممالک میں فتنہ و فساد مچا ہوا ہے اس کی سرکوبی کیلیے مسلمان حکمرانوں سے تعاون کریں گی اور فلسطین، ایغور، روہنگیا اور کشمیر کے مسلمانوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے حقوق کا تحفظ کریں گی، نہ صرف غلط ہے بلکہ ایسا منصفانہ طرز عمل مسلمانوں کے حق میں روا رکھنا ان کے مشن میں شامل ہی نہیں۔
نائن الیون کے بعد سے تمام اہل کفر نے یہ بات طے کر لی ہے کہ یا تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے یا پھر ایسے حالات پیدا کر دیئے جائیں کہ دنیا کا ایک ایک مسلمان ان کی غلامی کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائے۔ان تمام باتوں کی روشنی میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر کی یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ نرم پالیسی، یوم یک جہتی منانے، ہاتھوں کی زنجیر تاننے، ترانے تیار کرنے اور محض منھ سے گولے چلانے سے کشمیر کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلیے پاکستان کو جارحانہ رویہ اپنانا ہوگا۔
یہی وہ نقطہ ہے جس کیلئے نہ صرف حکومت کو اپنی کمر کس لینی چاہیے بلکہ پاکستان میں بسنے والے ہرطبقے اورہر اکائی کی ذہن سازی شروع کرکےباہمی اتحاد اور اتفاق سے کوئی عملی قدم اٹھانا چاہیے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کشمیر، فلسطین اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو پاکستان اعتماد دینے میں کامیاب ہوسکے۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں