ابلیس کے چیلے

شیطان کا تخت سمندر پر لگا تھا ابلیس کے چیلے آآکراپنے کارنامے سنا رہے تھے۔ اسے قتل ڈاکہ زنا کچھ پسند نہیں آرہا تھا کہ اچانک ایک اور چیلا آیا اور بتایا کہ آج میں نے گھر گھر میں میاں بیوی کے درمیان شک کا بیج بو دیا ہے۔

میڈیا میں بیٹھے میرے چیلے ایک کے بعد ایک ضرب لگاتے رہے اور مسلم معاشرے کے درخت کی وہ جڑیں اکھاڑ پھینکیں، جو مغربی میڈیا اتنے پیسے پھینک کر نائٹ پیکجز دے کر بھی نہیں کر سکا۔

یہ سن کر ابلیس اٹھا اور اس نے اسکاماتھا چوم لیا (خلیل الرحمٰن کا) “تم میرے پاس ہو ” ڈرامہ پے در پے ایسے ہی بننے والے ڈراموں کے ذریعے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔

سب چیلوں نے ملکر بھنگڑے ڈالے اور اتنی بڑی کامیابی پر جشن منایا گیا۔

اسلامی خاندانی اور معاشرتی نظام جہاں پوری دنیا میں صرف مسلم امہ کے ما تھے کا وہ جھومر ہے، جہاں نئی نسل ایک مضبوط آہنی قلعے میں پروان چڑھتی ہے ۔

مغربی دنیا اس سے محروم ہو چکی ہے اور یہ آخری اعزاز اس امت سے چھیننے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپناتی ہے۔

ہم ٹی وی کی لکس اسٹائل ایوارڈ کی ہر دفعہ جیتنے والی بیسٹ پروڈیوسر مومنہ درید کی فنڈنگ کے پیچھے حکومتی ٹیکس اور نیب کے اداروں نے پتہ لگایا کہ پیسے اسرائیل کی موساد انڈیا کے ذریعے بھیج رہی ہے۔

بات کو ہم جیسوں کے ڈر سے فوراً دبا دیا گیا۔

اب مغرب کی طرح شوہر جب کمانے جائے گا، تو اس کو بیوی کی بےو فائی کادھڑکا لگا رہے گا اور مرد تو پہلے ہی بےوفا مشہور ہے، اس بےچینی کی وجہ سے وہ اب باہر کسی سے بھی دوستی کا ہاتھ آیا موقع جانے نہیں دے گا۔

اسلام وہ سب سوراخ بند کر دیتا ہے، جہاں سے خطرہ ہو، سورۃ نور میں مردوں کو نظر یں نیچے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر عورت کو نگاہوں کے ساتھ پردے کا حکم دیا گیا ہے، اس طرح شوہر کو اطمینان ہوگاکہ اسکی بیوی تو میرے علاوہ کسی کو دیکھتی تک نہیں وہ خود بھی اسی معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرے گا ۔الغرض پورا معاشرہ پرسکون اور جڑیں مضبوط بن جائینگی۔

جواب چھوڑ دیں