محبت

خانہ بدوش ہوا، سفر سے واپسی پہ پہاڑوں کی ٹھنڈک چرا لائی تھی۔گہری سیاہ رات ستاروں سے خالی تھی۔وہ ایک سرد رات تھی، خون جما دینے والی ٹھنڈک فضا میں رچی تھی، ہر طرف سردیوں کا ایک گہرا کہر زدہ سناٹا چھایا تھا ،اس سناٹے میں ایک عجب ہی وحشت برپا تھی۔ سب کچھ کھو دینے کی وحشت ،جیتے جی مرجانے کی وحشت۔ نجانے کتنے سنگ ریزے اس کے نازک وجود پہ برسائے جا چکے تھے ، اس کا رواں رواں لہولہان تھا ،وہ کسی کونے میں پڑی ایک بے کار سی چیز جو سسکتے سسکتے موت کی آغوش میں جانا چاہے مگر اس کی حقیقت جان کے موت بھی اس سے کنارہ کش ہوجائے۔

بد نصیبی ہی بد نصیبی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اس کی سیاہ مخمور آنکھیں جانے کتنی راتوں کی جاگی ہوئی تھیں؟ غموں کی سیاہی سے اپنی آنکھوں کو سجائے، اس کی آنکھیں ایک الگ ہی داستان بیان کررہی تھیں، وہ آنکھیں جن میں ہزاروں دیپ جلتے تھے یک لخت ایک اندھیری کھائی میں بدل چکی تھیں۔ اس کی آنکھیں نیند کے قحط کا شکار تھیں، گالوں کی لالی اب بے رونق ہوچکی تھی، جسم پر اب ہڈیوں کے سوا کچھ باقی نہ تھا۔ وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی کوئی نہیں جانتا تھا، مگر وہ جو کوئی بھی تھی خراب حالات سے بدتر تھی، مگر وہ تو خراب حالات کی آئینہ دار تھی، آج کیسے وہ اس حال پہ پہنچی تھی وہ خود بھی جان نہ پائی۔

وہ چار بہنوں میں سب سے چھوٹی بہن، جسے گھر سے کبھی پیار نہ ملا تو اس نے پیار گھر سے باہر تلاش کیا ، وہ اسے اپنی خوش قسمتی ہی کہتی تھی، کہ وہ اس سے جان سے بڑھ کے پیار کرتا ہے، موسم وصال تھا تو وقت پر لگا کے اڑتا چلاگیا مگر وہ کبھی سمجھ ہی نہ سکی خدا نے کیوں محرم اور نا محرم کا فرق واضح کیا ہے وہ وہ تو بس اس محبت نامی بلا کے شکنجے میں آ چکی تھی محبت کرنے والے تو ہر نقصان کا احساس کئے بغیر اس دلدل میں اترتے چلے جاتے ہیں جہاں صرف موت کا گہرا سناٹا ہوتا ہے۔ اور پھر اس نے محبت کی اس دلدل میں اترنے جانے کے بعد محبت کو ہجرت کرتے دیکھا تھا۔ عشق کو اپنے خیمے اکھاڑتے دیکھا۔ اب بچا تھا تو اس کا خالی وجود۔ اس نے تو محبت کی تھی نہ تو یہ کیسی محبت تھی کہ جس نے اسے دربدر کردیا تھا۔ وہ محبت برد ہوئی تھی۔ وہ جہاں گرد ہوئی تھی۔ وہ محبت پانے کے لیے جہاں گشت ہوئی تھی۔ اس نے اس کا ساتھ پاکے مکمل پروں کے ساتھ اڑنا شروع کیا تھا تو وہ کب منہ کے بل گری پتہ ہی نہیں چلا۔ اور آج وہ اس سیلن زدہ کوٹھری میں بیٹھی اپنی موت کی دعائیں مانگ رہی تھی مگر موت بھی اتنی آسانی سے کسی پر مہربان نہیں ہوتی۔ وہ بھی تو بھیس بدل کے چلی تھی۔ محبت کا چولا اوڑھ کے چلی تھی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی محبت کا چولا اوڑھ کے چلنے والوں کے عقب میں رسوائی اور دکھ چلتا ہے۔ وہ یخ بستہ فرش پہ سر جھکائے بیٹھی، جانے اب کون سے معجزے کا انتظار کر رہی تھی۔

ایک نام نہاد محبت کا معجزہ تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئی تھی جہاں محبت نے بھیس بدل کے وحشت کا روپ دھارا تھا اور ایسا بھیانک کے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین اور سر سے آسمان تک کھینچ لیا اور آج وہ خالی ہاتھ کھڑی تھی۔ باہر سے آنے والی طبلے کی آوازوں نے اس سوچوں میں خلل ڈالا، یہ آواز اس کا دل چیر رہی تھی مگر جسم پر پڑے گہرے زخموں نے اسے مزید سرکشی کی اجازت نہ دی۔ کچھ دیر بعد وہ روشنیوں بھرے دالان میں کھڑی تھی کئی لوگوں کی غلیظ نظریں اسے اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں پھر اس نے خود کی قیمت لگتے دیکھی تھی۔

جواب چھوڑ دیں