بار بار کی خلاف ورزیوں پر صرف احتجاج؟

یہ مسخری سی بات ہے تو بہت پرانی لیکن اسے دہرا دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ ہم (پاکستان) اس کے علاوہ کرتے بھی کچھ اور نظر نہیں آتے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ کمزور انسان کسی کی زیادتی سہہ سہہ کر اندر ہی اندر جلتا اور کڑہتا رہتا ہے اور جب اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑتا ہے تو وہ اپنے بڑے پر پھٹ کر یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ صاحب اب زیادتی کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے ورنہ ۔ ۔ ۔

جب صاحب گردن تان کر پوچھتے ہیں کہ ورنہ کیا؟ تو وہی غریب، بے بس، لاچار اور پسا ہوا انسان گردن جھکا کر بڑی بے بسی اور آہستہ آواز میں یہی کہتا ہے کہ “ورنہ اسی تنخواہ پر گزارا کرونگا”۔ یہی حال ایک طویل عرصے سے پاکستان کا بھارت کے ساتھ ہے کہ جب بھی بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر کسی جارحانہ کارروائی کا ارتکاب ہوتا ہے پاکستان شدید بر ہمی کا اظہار کرتا ہے اور اس کے فوراً بعد ایک طویل خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ڈی جی سائوتھ ایشیا زاہد حفیظ چودھری نے بھارتی ناظم الامور گورو اہلوالیا کو احتجاجی مراسلہ دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے 2017 سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے اور اس دوران بھارت کی جانب سے سیکڑوں بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی فوج شہری آبادیوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنا رہی ہے اور 11جنوری کو بھی بلا اشتعال فائرنگ سے چوکی گاؤں کے 24 سالہ محمد اشتیاق شہید ہوگئے۔ مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی عظمت، بین الاقوامی انسانی حقوق قوانین کی خلاف ورزی ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب جو بھی خلاف ورزی بھارت کی جانب سے کی جاتی ہے اور اس سے جو جانی و مالی نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑتاہے کیا وہ معمول کی کارروائی بن کر نہیں رہ گئی؟۔ شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جب ایسی کارروائیاں نہیں ہوتی ہوں۔ ہر جارحیت کے بعد یہ بات بھی معمول کی کارروائی بن گئی ہے کہ بھارتی ناظم الامور کو طلب کیا جاتا ہے اور بطور احتجاج اس کو یا تو زبانی کلامی کچھ کہہ سن لیا جاتا ہے یا پھر حسب روایت اس کے ہاتھ میں احتجاجی مراسلہ پکڑا دیا جاتاہے۔ بھارت کی جارحیت اور پاکستان کی صدائے احتجاج ایک ایسی عام سی بات بن کر رہ گئی ہے جو اپنا اثر کھو چکی ہے کیونکہ بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنی فطرت کے مطابق کر رہا ہے اور پاکستان اس کے جواب میں جو کچھ بھی کہہ سن رہا ہے اپنی عادت کے مطابق کہہ سن رہا ہے۔ ہر جارحانہ کارروائی کے بعد پاکستان کا معمول کا احتجاج ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کہہ رہا ہو کہ

ستم گر آ اپنا ہنر آزمائیں

تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کوئی اچھی چیز نہیں۔ یہ ایک ایسا فعلِ قبیح ہے جو فاتح ہو یا مفتوح، دونوں کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ پاکستان جنگ سے اسی لئے گریز کرتا چلا آیا ہے کہ نتیجے میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا کرتا لیکن بار بار کی سرحدی خلاف ورزیاں بھی اعصاب شکنی کا سبب بن جایا کرتی ہیں۔ اگر یہ خلاف ورزیاں طول پکڑ جائیں تو پھر سرحد کی نگرانی کرنے والے جوانوں کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کرتی ہیں۔ بقول پاکستان، 2017 سے اس قسم کی خلاف ورزیاں زور پکڑتی جارہی ہیں۔ اس بیاں کے بین السطور دیکھا جائے تو گویا یہ کارروائیاں ایک طویل عرصے سے جاری تھیں جن میں 2017 کے بعد سے بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جو پاکستان کیلئے بہت تشویش کی بات ہے۔ بیشک اس کو “جنگ” کانام تو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ایسا بہت محدود پیمانے پر ہو رہا ہے لیکن یہ بھی کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف محدود پیمانے پر ہی سہی، جنگ چھیڑی ہوئی ضرور ہے۔

جنگ تو جنگ ہی ہوتی ہے خواہ وہ بہت بڑے پیمانے پر کی جارہی ہو یا اس کے دائرے کو محدود رکھا ہوا ہو۔ یہ ضروری تو نہیں کہ جس کو ہم راکھ کا ڈھیر سمجھ رہے ہوں وہ بالکل ہی ٹھنڈی ہو چکی ہو اور اس کے اندر دبی اب کوئی ایک بھی چنگاری ایسی نہ چھپی ہو جو اچانک شعلہ جوالہ نہ بن سکے، اس لئے ضروری ہے کہ راکھ کے ڈھیر کو بھی مکمل ٹھنڈا کر دیا جائے تاکہ آگ کے دوبارہ بھڑک جانے کا ہر خدشہ ختم ہو کر رہ جائے۔ یہ سرحدی چھیڑ چھاڑیں بظاہر بہت معمولی سی محسوس ہوتی ہیں لیکن ماضی پر نظر ڈالی جائے تو کشمیر کے محاذ کی یہی چھوٹی چھوٹی سرحدی خلاف ورزیاں، پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بہت بڑی بڑی جنگوں کا سبب بن چکی ہیں۔

بھارت کی جانب سے ہر جارحانہ کارروائی کے بعد پاکستان کا بھارتی ناظم الامور کو بلانا، ان سے زبانی احتجاج کرنا یا ان کے ہاتھ میں احتجاجی مراسلہ حوالے کر دینا بے شک ایک قانونی طریقہ ہے جس پر بہر صورت عمل کرنا چاہیے لیکن سرحد پر کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کا نہ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ بار بار کا احتجاج اور بار بار کی خلاف ورزیاں اس جانب اشاہ کرتی ہیں کہ یا تو پاکستان بے بسی کی ایک تصویر ہے یا پھر اتنا مصلحت پسند بنا ہوا ہے کہ دو ٹوک بات کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔

پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکانے سے اجتناب ہی اچھا ہے لیکن اگر کوئی خود سری پر ہی اتر آئے تو پھر ان کے جنون کا سدِ باب صرف بات چیت نہیں ہوا کرتا بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بھارت کی جانب سے ہر کارروائی کے جواب میں پاکستان جوابی حملہ ضرور کرتا ہے اور اپنے نقصان سے کہیں زیادہ نقصان بھارت کو پہنچاتا ہے۔ پاکستان جوابی کارروائی میں کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جس سے معصوم جانوں کا ضیاع ہو، آبادیوں میں رہنے والے متاثر ہوں اور وہ لوگ زد میں آئیں جو بے قصور ہوں جبکہ دشمن ہمیشہ کمزوروں، معصوموں، عورتوں اور بچوں تک کو نشانہ بنانے سے نہیں چوکتا۔

ضروری ہے کہ پاکستان صرف معمول کے احتجاج پر ہی انحصار نہیں کرے بلکہ اب اس احتجاج میں ٹائم فریم یا باالفاظِ دیگر ڈیڈ لائین یعنی ایک آخری حد بھی مقرر کرے۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو صدائے احتجاج ایسی ہی سمجھی جائے گی جیسے کلاس ٹیچر کسی شریر بچے کی گوش مالی کرکے چھوڑ دے یا اس کے والدین کو بلا کر بچے کی شکایت پر شکایت لگاتا رہے لیکن کسی بھی قسم کے انتہائی اقدام سے پہلو تہی کا رویہ اختیار کرتا رہے۔ اس سے نہ صرف بچے کی شرارتوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ پہلے پوری کلاس اور پھر پورے اسکول کا ماحول ہی ابتری کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ بقول رحمان کیانی!

ایک تلوار سے دشمنوں کا کبھی

کچھ بگڑتا نہیں بلکہ تلوار ہی

ٹوٹ جاتی ہے زخمِ مکافات سے

چھوٹ جاتی ہے خود ظلم کے ہاتھ سے

لیکن انسان پر ظلم کے ہاتھ کو

روکنا فرض ہے موڑنا فرض ہے

ایک ظالم کے ہاتھوں سے تلوار کو

چھیننا فرض ہے توڑنا فرض ہے

اس سے پہلے کہ وہ اپنی حد سے بڑھے

ہم پہ لازم ہے امن و اماں کیلئے

اس کے سینے میں سنگین ہم بھونک دیں

جنگ کی آگ میں خود اسے جھونک دیں

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں