بے حیا ئی او پر سے ڈھٹائی

اللہ کی پناہ ہر جگہ ہر چیز میں بے انصافی ، ناقدری، لاپرواہی یہ سب کیا ہے ؟ جانتے بوجھتے لوگ وہی بات بار بار دہراتے ہیں ۔ میڈیا جو آجکل ہر فرد کا پرسنل ممبر بن چکا ہے ۔ کس ڈھٹائی سے بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے ؟ کیا بتا ئوں؟ کئی دفعہ کمپلین کے باوجودکوئی سنوائی نہیں ہوئی ۔

پیمرا کو بھی شکا یات لکھوا چکے ہیں مگر نہ جانے یہ میڈیا والے کیا چاہتے ہیں ؟ کتنے پیسے کمانا اور کیسے کمانا چاہتے ہیں ؟ اللہ ہی جانتا ہے ۔ ایک چاکلیٹ امی کے لئے والا اشتہار ، لکس والا اشتہار ، آلویز اور دیگر صابن اور شیمپوز کے بیوٹی پارلر کے اشتہارات اتنی تکرار سے دکھاتے ہیں کہ ان میں سو ائے بد نظری اور خرافات کے کچھ نہیں ، یہی نہیں مارننگ شوزاور آٹھ بجے کے بعد آنے والے پروگرامز سوا ئے اسلامی پروگراموں کے جو واقعی قابل تحسین ہوتے ہیں جیسے پیام صبح ، روشنی یا شجاع الدین شیخ کے سارے پروگرامز تلاوت تجوید کے پروگرامز، دین خواتین وغیرہ سب ماشاء اللہ بہت اچھے ہوتے ہیں ۔

لیکن اس کے علاوہ آپ نوٹس لیں کہ مختلف چینلز سے خبریں جو آتی ہیں ان خواتین کے لباس کیا ہوتے ہیں ؟ ڈھٹا ئی سے غیرمسلموں کے لباس اور طور طریقے اور دیگر انداز دکھا کر کیا تاثر دینا چاہتے ہیں ۔ پھر خبریں کم سٹی گم والی بات ہو جاتی ہے یہ ٹاک شوز اور دیگر جرم کی داستان ، خفیہ جیسے پروگرامز میں بھی لوگ مسا ئل سننے سنانے اور حل کروانے آتے ہیں لیکن شاید انہیں خبر ہی نہیںکہ وہ خود اپنے چہرے ، کپڑے اور حلیے سے خود ہی لوگوں کے درمیان حیا کی دھجیاں اڑاتے مسئلہ بن جاتے ہیں ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کے درمیان وہ کس طرح چلے جاتے ہیں ؟

اسی طرح فوڈ اسٹریٹ نام کا ایک پروگرام اس میں آنے والی محترمہ ! کیا ضرورت ہے کہ محترمہ ہی پکوان سینٹروں پر جا کر کھانا پکانے ، ترکیب بتا نا سکھائیں کیا مرد حضرات کم پڑگئے ہیں ؟ میڈیا چاہے تو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرے لوگوں کو حدود میں رکھ کر بہت سے کام جا ئز اور موثر بنا سکتا ہے ۔ میرے نزدیک لباس کی نا شائستگی ہی بے حیا ئی نہیں بلکہ وہ ہر کام جو غیر اخلاقی اور لغو اور شریعت کے منافی ہو بے حیائی ہے غلط کام غلط ہی ہو تا ہے، جرم ہی ہوتا ہے اور جرم کا ارتکاب نا قابل معافی ہوتا ہے ۔ بد زبانی ، بدفعالی ، بد کرداری ، بد اعمالی کیا بے حیائی نہیں ؟

یہ پروگرامز مرتب کرنے والے ۔ چیک کر نے والے پیش کرنے والے کیا ان میں کوئی ایسا بندہ نہیں جو جائز ناجائز کا فرق نہ جانتا ہو ؟ پھر کیسے اس طرح کے حلیوں میں لوگ سر عام میڈیا پر آجاتے ہیں اور نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ دیگر سینکڑوں ممالک میں بھی یہ پروگرامز نشرکیے جاتے ہیں ۔ کیا ہمیں لوگوں کے بنا ئو بگاڑ کی پروا نہیں گویا اس کی بے باکی کو بے حیائی نہ سمجھیں ؟

ہمیں کیا اپنے رب سے بھی حیا نہیں آتی کہ مستورات کو ان حلیوں میں پیش کرتے ہیں ۔ انہیں حد سے گزر جانے کا موقع بھی آپ حضرات ہی دیتے ہیں کیوں کیا آپ میں حیا نہیں ؟ نہیں بس یہی تو ڈھٹائی ہے کہ آج کلچر غارت ہوا جا رہا ہے، مرد حضرات خود فیشل ، آئی برو اور نہ جانے کیا کیا کرتے پھرتے ہیں ۔ میں تو خود محلے کے سیلون میں عجیب و غریب جوڑے والے پونی اور داڑھی والے چڈے مجھے لکھتے ہوئے بھی برا محسوس ہو رہا ہے ۔ لوگ اپنے آپ کو اتنا اپ گریڈ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ چڈے کو ہاف پینٹ اور تھری کوارٹر کہہ کر خوشی سے فخریہ اپناتے ہیں اور یہی نہیں سامنے وا لے کو تو بہت ہی زیادہ حقیر اور بیک ورڈ سمجھتے ہیں، ان میں سب شامل ہیں بس جائزہ لینے اور اپنے ضمیر کو جھنجوڑنے کی بات ہے ورنہ جتنی بے حیائی اور ڈھٹائی اس میڈیا نے پھیلائی ہے اس سے کہیں زیادہ عوام نے بلا سوچے سمجھے اپنا ئی ہے۔

یقینی جانئے یہ واحد ذریعہ ہے جس سے بھرپور فا ئدہ اٹھا کر عوام کو سدھا را سنوارا جا سکتا ہے۔ ہمیشہ اچھی بات، اچھا کام، اچھا کردار ، اچھی کہانی حق اور سچ بتائیں زندگی اور مقصد سمجھائیں انہیں سمجھانے پر مجبور کریں ۔ جب برائی کی تشہیر منع ہے تو آپ سر عام برا ئیاں دکھا رہے ہیں۔ برا دیکھ کر برا ہی سیکھے گا نا؟ اچھا دکھائیں یقینا موثر رہے گا ۔ اب تو ہماری تقریبات بھی منی فلمز بن گئی ہیں ۔ جن میں موجود ہر فرد ہی اپنے آپ کو ایک ہیرو یا ہیروئن کے مد مقابل سمجھتا ہے ۔پھر لوفر گانے اور ویڈیوز کے دیوانے، کبھی ماں باپ بہن بھائی نانی، دادی یا استاد کی بھی اتنی بات نہیں مانی ہوگی۔ جو ایک کیمرہ مین کی مانی جاتی ہے یہ سر عام بے حیائی نہیں ؟پہلے تو دلہن کے کمرے میں بھی چند تصاویر لی جاتی تھیں تو اس کو برا سمجھتے تھے۔ بالکل سمجھتے تھے، ٹھیک سمجھتے تھے۔ سمجھنا بھی چاہئے برائی تو برائی ہی ہے۔تھو ڑی ہو یازیادہ اس پر قابو پانا ممکن تھا لیکن ہمارے بڑوں سے یہ قدم نہیں اٹھا بلکہ اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ اب تو الفاظ بھی اپنا تاثر کھو چکے ہیں کیونکہ عوام بھی ڈھیٹ ہوگئی ہے وہی بے حیائی اوپر سے ڈھٹائی ۔

کب تم بگڑے ؟ کیوں تم بگڑے ؟ کس کس کو سمجھاؤ گے ؟

اتنے دور تو آپہنچے ہو اور کہاں تک جا ئو گے ؟

ٓابھی بھی اگر سدھار کی طرف تو جہ نہ دی جائے اپنا تشخص کلچر اپنی ثقافت اور تہذیب کی حفاظت نہ کی گئی ۔ مقصد زندگی کو ملحوظ خاطر نہ رکھا گیا تو یقین جانئیے ہمارا شمار ( مسلمانوں میں اللہ نہ کرے ) نہ ہوگا ہم نقالی میں غیر مسلموں کی اتنا کھو گئے ہیں کہ لباس کردار، اطوار ، اقدار سب کچھ بھول گئے ہیں، جس کا ہمیں افسوس تک نہیں بے حسی بے حیائی نہیں ؟ برائی کو برائی کہنے والا بیک ورڈ ہے تو کوئی بات نہیں ہمیں تو فارورڈ ہونا ہے مگر نیکی کی طرف بھلائی کی طرف جنت کی طرف تو پھر میڈیا سمیت کیوں نہ اپنے کلچر، اپنی تہذیب میں واپس آئیں اس نیک نیتی اور ارادے کے ساتھ کہ اللہ ہمارے ہر کام کو اپنی رضا کے مطابق ہم سے کروالے اور ہمیں نیکیوں میں سبقت لے جانے والا بنا دیں ۔ ہم اپنے چہرے لباس اطوار انداز اخلاق ہر چیز میں سچے اور پکے مسلمان بن جائیں کہ دنیا ہماری شعوری طور پر نقل کرے اور وہ بھی مسلمان بن جائے ۔(آمین)

جواب چھوڑ دیں