اٹوٹ انگ

اٹوٹ انگ ہاں اٹوٹ انگ کہ بغیر جسکے زندگی کا تصور محال ہے۔ بھلا کوئی کیا اٹوٹ انگ کے بغیر جی سکتا ہے؟ تویہ خاموشی کیسی؟

کیوں کشمیر پر بات کرنا جرم ہوگیا؟

بھلا کیوں کشمیر پر سمجھوتے پر تیار ہوگئے؟

کیا یہ وہ نہیں جو قیام پاکستان کے وقت سے لے کر آج تک کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں؟ سالوں کی جدوجہد اور پاکستان پاکستان کے نعرے، زندہ باد پاکستان کی کشش، کیا چھوڑ دیں انہیں؟

یکسر بھلا دیں؟

کوئی پوچھے تو کرفیو میں کیسے جی رہے ہو؟

کیا کھا رہے ہو؟

بچے روتے تو نہیں؟

کیسے سوتے ہوگے؟

بیٹیاں ٹھیک تو ہیں ناں؟

آہ!! کشمیر کی داستان الم سنائیں بھی توکس دل سے؟

کشمیر کو پاکستان نے وہ حق نہ دیا جس کا وہ مستحق ہے۔

اسے بھارت کے لئے تر نوالہ بنا دیا گیا، کمزور اور نہتے مسلمان بے آسرا ہو گئے ہیں۔ پاکستان کوئی آواز بلند کرنے کو تیار نہیں، حکومتی سطح سے احتجاج نہیں، بانی پاکستان قائد اعظم نےجسے پاکستان کا حصہ قرار دیا،ہندو بنیا پہلے رال ٹپکاتا رہا اور اب دنیا بھر سے چھپ کر نوچ رہا ہے، بھارت کو کسی سے ڈر نہیں۔

دنیا خاموش ہے، پاکستان خاموش ہے، مسلم امت خاموش ہے۔

کشمیر لہو لہو ہے، نہ مسلمان بھائی کا حق یاد ہے کہ ایک جسم کی مانند ہیں اور نہ اٹوٹ انگ کے ناطے کوئی فکر، کیاہم طے کر چکے؟ کیا ہم نے ہاتھ اٹھا لیا؟ کیالا الہ کا رشتہ ختم ہو گیا؟ ؟ ؟

جواب چھوڑ دیں