وہ ایک سجدہ

بات بہت سیدھی اور سادی سی ہے اور وہ یہ ہے کہ جو قوم جتنا ڈرے گی ڈرائی جائے گی۔ مذہب کوئی ایسا معاملہ نہیں جس کو کسی غیر مذہب قوم کی مرضی و منشا کے مطابق اتنا اختیار دیا جائے جتنا اس کی خواہش ہو۔ دنیا میں بیسیوں مذاہب کے انسان آباد ہیں اور کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو کسی دوسرے مذہب پر چلنے والے کو اس بات کی اجازت دے کہ وہ اس کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرے اور اسے بتائے کہ اسے اپنے مذہب کو کس حد تک اختیار کرنا چاہیے اور کس حد تک نہیں۔

مذہب کے بڑے بڑے اصول تو ایک جانب ہیں، اگر کوئی فروعی مسئلہ بھی ہو تو کوئی بھی مذہب پسند اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے مذہب کی ایسی باتیں جو بہت معمولی ہیں۔ اور اس کو مؤخر کرنے میں کسی بھی قسم کی کوئی پکڑ اللہ کے حضور نہیں ہونی تب بھی وہ اپنی مرضی سے، یا رسانیت سے سمجھانے پر تو ممکن ہے مؤخر کرنے پر راضی ہو جائے لیکن اگر اس میں کسی نے بھی زبردستی دکھانے کی کوشش کی تو وہ اس چھوٹی سی بات کیلئے مرتو سکتا ہے لیکن کسی زبردستی کو برداشت نہیں کر سکتا۔

اسلام چند رسومات یا عبادات کو اختیار کر لینے کا نام نہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کسی انسان یا انسانوں کی آرا سے نہیں بنایا گیا بلکہ یہ اللہ کی جانب سے انسانوں کیلئے بھیجا گیا ایک دین ہے، جو انسان کے ہر شعبہ زندگی سے بحث کرتا ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہی دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ بات ہر مسلمان پر فرض کردی گئی ہے کہ وہ اسے اپنے آپ اور پوری دنیا پر نافذ کرے بصورت دیگر نہ تو اس کی دنیوی زندگی سکون سے گزرے گی اور نہ ہی اخروی زندگی میں وہ کوئی سکون حاصل کر سکے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام میں داخل ہونے کیلئے چند کلمات کو زبان سے ادا کرنا اور دل سے ان ہی تعلیمات کو قبول کرنا شرط ہے، لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ وہ اقوام جو اسلام میں داخل ہونا پسند نہ بھی کریں اور اللہ کی وحدانیت اور محمدرسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی رسالت کو نہ بھی مانیں لیکن اسلام کے بتائے ہوئے زریں اصولوں کو اپنی زندگی میں رائج کر لیں تو وہ سنہری اصول اس قوم کی دنیوی زندگی کو خوبصورت اور حسین بنا کر رکھ سکتے ہیں۔

اسلام عدل کی تعلیم دیتا ہے، انسانیت سکھا تا ہے، علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے، انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے، چھوٹے کو تمیز اور بڑے کو لحاظ کرنے کی ہدایت دیتا ہے، سب سے بڑھ کر صفائی کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے بیان کیاہےکہ صفائی نصف ایمان کا درجہ ہے۔ اسلام کے ان سنہری اصولوں کا مطالعہ کرتے جائیں اور پھر اس بات کا جائزہ لیتے جائیں کہ دنیا کی جن اقوام نے مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھی ان سنہری اصولوں کو اپنا جزوِ زندگی بنا کر رکھا ہوا ہے وہاں لوگوں کی زندگی کتنی آسان، پُر سکون، مطمئن اور خوش کن ہے لیکن اس کے برعکس جن جن اقوام، بشمول مسلمانوں نے اپنی زندگی کو اسلام کے ان سنہری اصولوں کے بر عکس اختیار کر رکھا ہے، ان کی زندگی میں نہ تو سکون ہے، نہ اطمنان ہے، نہ خوشحالی ہے اور نہ ہی ایک دوسرے کے درمیان محبت و یگانگت ہے بلکہ ہر شخص ایک دوسرے کا لہو چوسنے کیلئے بالکل اسی طرح تیار ہے جیسے جنگل میں درندوں کے نزدیک کسی بھی قسم کا کوئی ادب، لحاظ اور تمیز نہیں ہوا کرتی۔

جب انسان اللہ سے سرکشی پر کمر بستہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کی اپنی مرضی اس پر سوار ہوجاتی ہے اور یہی وہ مرضی و منشا کا جنون ہے جو ایک اچھے خاصے انسان کو حیوان بلکہ شیطان بنا کر رکھ دیتا ہے اور پھر اس کے اندر دنیا کو اپنا غلام بنانے کا جنون ٹھوکریں مارنے لگتا ہے اور وہ جنون اس کو اتنا اندھا کر دیتا ہے کہ وہ دنیا کی ہر قوم پر اپنی برتری حاصل کرنے کیلئے چڑھ دوڑنے کے خبط میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی حال آج کل امریکہ کا ہے اور وہ اس جنون میں مبتلا ہو چکا ہے کہ دنیا اس کے اشاروں پر ناچے اور جو ناچنے سے انکار کرے وہ اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دے۔

کوئی انسان کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ اندر سے کھوکھلا اور بزدل ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مقابلے کے فرد سے الجھنے سے گریز کرتا ہے۔ اس کی طاقت کا سارا جاہ و جلال اپنے سے کمزور ہی کیلئے نہیں بلکہ نہایت کمزور کیلئے ہوتا ہے۔ فی زمانہ دنیا میں بہادر ترین قوم ہونے کے باوجود بھی دنیا کی کمزور ترین قوم مسلمان ہی ہیں۔ ایک عام مسلمان تو اب بھی اپنے دین کی حرمت کی خاطر مرجانے کیلئے تیار و آمادہ نظر آتا ہے جس کی بہترین مثال کشمیر، فلسطین اور افغانستان کے مسلمان ہیں، لیکن 60 کے قریب مسلمان ممالک پر حکومت کرنے والے حکمران اتنے پست حوصلہ اور بزدل ہیں کہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہوئے ان کے اوسان خطا ہونے لگتے ہیں۔

یہی بزدلی ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو وہ اللہ کی کتاب میں درج احکامات کو اپنے آئین و قانون کی زینت بنانے سے ڈرتے ہیں تو دوسری جانب امریکہ کی غلامی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اپنا دین دھرم بھی امریکہ کے بتائے ہوئے طریقے میں بدل دینا چاہتے ہیں۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے، کشمیر میں جو کچھ مسلمانوں پر گزر رہی ہے، فلسطینی مسلمانوں کی جس طرح زندگی جہنم بنی ہوئی ہے، میانمار میں مسلمانوں کا خون پانی سے بھی سستا ہو کر رہ گیا ہے اور جو کچھ چین کے مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے ایسا سلوک تو کسی انسانی بستی میں جانوروں کے ساتھ بھی روا نہیں رکھا جاتا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہی امریکہ جو کسی بھی ملک میں کسی جذباتی ماحول میں غیر مسلموں کے خلاف زیادتی پر بھڑک اٹھتا ہے۔ اسی قسم کا ایک بیان امریکی سرکار کا پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کیلئے لئے بھی آیا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں وہ تمام اقوام جو مسلمان نہیں، وہ نہ صرف غیر محفوظ ہیں بلکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی روا رکھا جاتا ہے جو کسی طور امریکہ بہادر کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے امریکہ نے یہ بات کس حوالے سے کی ہے۔ یہاں نہ تو کسی مندر کو مسمار کیا گیا اور نہ ہی کسی چرچ پر حملہ ہوا۔ نہ ہی کسی بھی مذہب کی کوئی مقدس کتاب جلائی گئی اور نہ ہی یہاں کسی غیر مسلم کا قتل ہوا۔ رہی یہ بات کہ چھوٹی موٹی کشیدگیاں اگر ہوئی بھی ہیں تو اس کا شکار تو اکثر جگہ مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان ہی ہوئے ہیں، لیکن ایسا کوئی واقعہ بھی کسی نسلی یا مذہبی عصبیت کی بنیاد پر نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوا بھی ہے توکسی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے یا کسی غیر مسلم کی غیر محتاط گفتگو فساد کا باعث بنی ہے۔

بے شک کسی بھی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے لیکن انسانی جذبات کبھی کبھی ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں۔ رہی بات قادیانیت کی تو جب امریکہ کی نظر میں قادیانی مسلمان ہی ہیں (نعوذباللہ) تو پھر وہ امریکہ کی نظر میں “اقلیت” میں کیوں شمار ہوتے ہیں؟۔ امریکہ کے اس متعصبانہ و فتنہ انگیز بیان پر پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “اس کے نتائج، شفافیت اور ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی رپورٹ کا مذہبی آزادی کے فروغ کیلئے معاون ثابت نہ ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں مخصوص ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں مختلف مذاہب کے افراد کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کے زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کیلئے پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت نے ٹھوس کوششیں کیں جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ کیلئے فیصلے دیے”۔

بات بہت سیدھی ہے، جو قوم، بشمول مسلمان، دوسری اقوام کو خوش رکھنے کیلئے جتنی بھی کوشش کرتی رہے گی اتنی ہی مغلوب سے مغلوب تر ہوتی جائے گی۔ یہ ناچ رنگ کے مناظروں کی عکاسیاں، یہ شراب خانوں کی تعمیر کی عمارتیں، یہ سینیما گھروں کی تزئین و آرائش، یہ گرجا گھروں کی نگرانیاں، یہ کرتارپور کی راہداری کھولنا، یہ سکھوں کو گلے لگانا، یہ جہاد سے مسلمانوں کو روکنا، یہ کشمیریوں کے ظلم و ستم پر ہونٹوں پر تالے لگالینا، لاؤڈاسپیکر کا ایکٹ بنا لینا اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ہرچینل پر عورت کو ننگے سے ننگاتر کرکے، انھیں نچا کے اور ان کو گڈوں اور گڑیاؤں کی طرح سجا بنا کے ٹی وی اسکرین پر پیش کرنے سے اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب زداؤں اور امریکہ پرستوں کی خوشنودی حاصل کر لیں گے، تو یہ اس لئے بھی بھول ہے کہ وہاں کی سڑکوں، گلیوں، دکانوں، تفریح گاہوں اور سمندروں کے کنارے بغیر لباس پھر نے والیاں لاکھوں کی تعداد میں دستیاب ہیں۔

وہ اقوام آپ کی ان کمینی حرکتوں سے نہ تو خوش ہو سکتی ہیں اور نہ ہی آپ باوجود کوشش کے من حیث القوم ان جیسے بے غیرت بن سکتے ہیں۔ اس لئے آپ کسی قسم کے خوف کا شکار ہوئے بغیر اپنے آپ کو اپنے دین کے سانچے میں ڈھالیں اور پھر سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں۔ یہی واحد راستہ ہے جس کو اقبالؒ نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

یاد رکھیں آپ کا دشمن اندر سے کھوکھلا اور بزدل ہے۔ ذرا بھی جرات اس کو ہراساں کرنے کیلئے کافی ہے، جس کی بہترین مثال افغان طالبان ہیں۔ اس نقطے کو سمجھیں ورنہ غلامی کی زنجیریں آپ کو اس بری طرح جکڑ لیں گی کہ ان سے آزاد ہونے کا تصور بھی محال ہو جائے گا۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں