قائد اعظم کے مقصد کو پورا کریں گے

قائدا عظم محمد علی جناح کراچی ٢۵ دسمبر ١٨٧٦ کو پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام جناح پونجا تھا۔ آپ خواجہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے پونجا کراچی کے چوٹی کے تاجروں میں سے ایک تھے۔ آپ چمڑے کی تجارت کرتے تھے ۔ قائدا عظم نے سندھ کے ایک ہائی اسکول سے میڑک کا امتحان پاس کیا اور کراچی ہی کے ایک مکتب میں قرآن مجید پڑھا۔اس کے بعد ایک دوسرے مدرسہ میں داخل ہو کر فارسی کی چند کتب بھی پڑھیں۔

قائدا عظم کی دو خصوصیات شروع ہی سے نمایاں نظر آتی ہیں۔ آپ کی ذہانت اور ہر نئی چیز کو متجسس نگاہوں سے دیکھنے کا جذبہ دوسرے اعلی لباس پہنے کا شوق ، آپ کافی ذہین تھے۔ قائدا عظم چار سال بعد ١٨٩٦ میں بیر سٹرلاء کی اعلی ڈگری لے کر ہندوستان واپس آئے ، پھر آپ وکالت کرنے کے لیےممبئی چلے گئے۔ ممبئی میں آپ کے تین چار سال بڑی تنگدستی میں گزرے ۔ لوگ آپ کی ذہانت سے آشنا ہوگئے۔ آپ نے ہمیشہ اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے نبھائے۔

١٩١٣ میں قائدا عظم انگلستان میں تھے ۔ آپ مولانا جوہر کی کوشش سے مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ واپسی پر آپ نے کراچی کے عظیم الشان جلسہ میں انڈیا کو نسل کی کی ترتیب میں اصلاح کرنے کی زبردست تجویز پیش کی، جسے تمام ہندوستان میں سراہا گیا۔مئی ١٩١۴ میں انڈین نیشنل کا نگریس نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر انگلستان بھیجا ، جہاں آپ نے بڑی قابلیت اور جرات سے ہندوستانیوں کی نمائندگی کی ۔اس کے بعد حالات تیزی سے بدلنے لگے۔

1913ء میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1916ء میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت تک آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھےاور اس وقت برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک ہی پلیٹ فارم تھا ۔ آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ نے کانگریس چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل رہے۔

آپ ایک سچے، دیانتددار، محنتی، قانون پسند اور مخلص انسان تھے۔ آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر اور پاکستانی سیاستدان تھے۔ آپ کی قیادت نے ایک آئینی طریقےپر مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست پاکستان کے نام سے حاصل کی، جو کہ ایک لمبی جدو جہد کے بعد حکومت برطانیہ سے حاصل ہوئی۔ 1896ء میں قائد اعظم نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لئے مشہور چودہ نکات پیش کئے۔

آپ نے پرجوش ہوکر مقابلہ کیا اور پوری کوشش کی مسلمانوں کو حقوق دلوانے کی اور آخر کار آپ کی جدو جہدکا نیتجہ ١۴ اگست ١٩۴٧ کو پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔

١٩۴٧ کے انقلاب کی وجہ سے محمد علی جناحؒ زندہ جاوید ہوگئے۔ آپ پاکستان کے پہلے گورنر جزل مقرر ہوئے قائداعظمؒ اس وقت تک زندہ جاوید رہیں گے، جب تک تاریخ میں پاکستان کا نام موجود ہے ۔

مگر افسوس ہے کے پاکستان بنے ہوئے 74 سال ہوگئے ہیں ۔

قائدا عظم کا جو خواب تھاوہ اب بھی پورا نہ ہوسکا، پاکستان دو قومی نظریہ کے تحت حاصل کیا گیا، تاکہ اس میں اسلامی قوانین نافذ ہوں۔ مگر افسوس آج تک اسلامی قوانین نافذ نہیں ہوسکے، جس کی وجہ سے آج تک ہم بہت سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

٢۵ دسمبر کو قائد اعظم کی سالگرہ کا دن ہے، اس دن ہم لوگوں کو صرف تقریبات ہی منعقد نہیں کرنے چاہیے، بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے لیے جہدوجہد کرنی چاہیے۔ آزادی بڑی نعمت ہیں اور ہمیں آپنے ملک کی حفاظت کرنی چاہیے ۔ ہم سب مل کر آج یہ عہد کریں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے مقصد کو پورا کریں گے۔

اﷲ ہمارے ملک کا نگہبان ہو۔ آمین۔

جواب چھوڑ دیں