پاکستان کا حجاج بن یوسف

حجاج بن یوسف اس امت کا حیرت انگیز ترین آدمی تھا۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ مسلمانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا، عرب ہی کیا عجم بھی بہت بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہورہے تھے اور حجاج بن یوسف کو یہ بات پریشان کیے دے رہی تھی کہ غیر عرب اس قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کو بغیر اعراب کے کیسے پڑھیں گے؟

 اس کام کے لیے اس نے اہل علم و دانش کی ایک جماعت ترتیب دی اور قرآن پر اعراب لگانے کا مقدس ترین کام سر انجام دیا جو رہتی دنیا تک قرآن کی تلاوت کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا اور یقینایہ حجاج بن یوسف کی زندگی اور آخرت کے لئے بھی بہت بڑا کارنامہ ہے۔

حجاج ایک تہجدگزار آدمی تھا اوراکثر روزے سے رہتاتھا. اس کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ وہ حد درجہ  مہمان نواز آدمی تھا، کھانا کبھی بھی اکیلا نہیں کھاتا۔ ایک دفعہ سفر میں تھا کھانے کا وقت ہوا تو توشہ کھولنے سے پہلے اس نے اطراف میں نظر دوڑائی اسے ایک چرواہا نظر آیا، حجاج نے اسے بلا کر کہا کہ تو میرے ساتھ دوپہر کا کھانا کھائے گا۔ چرواہے نے جواب دیا کہ میں روزے سے ہوں حجاج بن یوسف زور سے ہنسا اور بولا ایک مسلمان کی دعوت نفلی روزے سے زیادہ افضل ہے اس لئے تجھے روزہ توڑ کر میرے ساتھ کھانا پڑے گا۔

عماد الدین جسے دنیا محمد بن قاسم کے نام سے جانتی ہے وہ اسی حجاج بن یوسف کا داماد تھا اور دیبل کی بندرگاہ سے آنے والے مظلوم لڑکی کے خط کے جواب میں اس نے اپنے سترہ سالہ بھتیجے اور داماد کو کوفہ سے ہزاروں میل دور دیبل بھیجا تاکہ مظلوم اور بے کس مسلمانوں کی داد رسی کی جاسکے اور اسی حجاج بن یوسف کی بدولت 93 ہجری، 712 عیسوی اور 10 رمضان المبارک کو سندھ “باب الاسلام” بن گیا۔

 ان تمام نیکیوں اور دین اسلام کی خدمت کے ساتھ حجاج بن یوسف کی زندگی کے دوسرا پہلو یہ بھی تھا کہ وہ اس امت کا ظالم اور جابر ترین انسان تھا۔ اس نے صرف اپنی تلوار اور اپنے ہاتھ سے بغیر کسی وجہ کے 70 ہزار لوگوں کا خون بہایا تھا جبکہ 90 ہزار لوگ وہ تھے، جو اس کے حکم پر قتل کئے گئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے نواسے اور اسماء بنت ابوبکر کے صاحبزادے حضرت زبیر کو اس نے صلیب پر لٹکایا اور تین دن تک ان کی لاش کو لٹکتا چھوڑ دیا۔

ایک اور صحابی رسول کو عین حرم کے اندر دمبے کی طرح ذبح کروا دیا۔ حجاج اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو مذاق اڑاتے ہوئے “دو ازاربند والی” بولتا تھا کیونکہ ایک ازاربند ان کی شلوار کا تھا اور دوسرا انہوں نے اس وقت باندھا تھا جب تین دن تک غار ثور میں وہ اپنے والد اور رسول اللہ صلی وسلم کو کھانا دینے جانے کے لئے لٹکا کر جاتی تھیں۔

 مسلمانوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوران حج طواف روکنا پڑ گیا کیونکہ حجاج بن یوسف نے حرم میں آگ کے گولے برسا دیے جس سے غلاف کعبہ میں آگ لگ گئی اور خانہ کعبہ کی ایک دیوار منہدم ہوگئی۔ حجاج بن یوسف کے ظلم و ستم کا یہ حال تھا کہ اس وقت کے بزرگ امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ “اگر پچھلی امتوں کے ظالموں کے تمام کرتوت ایک پلڑے میں اور حجاج کے کرتوت دوسرے پلڑے میں ڈالو تو حجاج کا پلڑا بھاری نکلے گا” اور ایک دفعہ ایک بزرگ سے حجاج نے نصیحت کے لیے کہا تو ان بزرگ نے فرمایا تو دوپہر دیر تک سویا رہا کر تاکہ کم از کم دن کے پہلے پہر میں تیری شیطانیوں اور شر سے لوگ محفوظ رہ سکیں”۔

 مرنے سے پہلے حجاج کو ایک خاص قسم کی  بیماری ہوگئی اور وہ جاڑے کی بیماری تھی۔ ٹھنڈ کسی صورت جسم   میں کم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی اور وہ چیخ چیخ کر بولتا تھا مجھے آگ کے قریب کرو۔ آگ سے قریب کرنے کی وجہ سے اس کا جسم جل جاتا تھا لیکن اس کی ٹھنڈ پھر بھی نہیں مرتی تھی یہ ٹھنڈ اور گرمی کا ایسا ملا جلا بجا عذاب تھا جو اللہ نے اس  کے کرتوتوں کی وجہ سے اس پر مسلط کیا تھا اور بالآخر اسی حالت میں کہ اندر سے اس کا جسم یخ اور باہر سے جھلس کر ختم ہوگیا تب کہیں جاکر اس کا دم نکلا۔

 آپ یقین کریں اس ملک کا حجاج بن یوسف پرویز مشرف ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ مشرف کو حجاج بن یوسف بولنا  خود حجاج کی توہین ہے کیونکہ ایک مظلوم لڑکی کی آواز پر اپنے سترہ سالہ نوجوان بھتیجے کو جو داماد بھی تھا اس نے مدد کے لئے دوڑا دیا اور پرویز مشرف نے قوم کی بیٹی کو بچوں سمیت انہی مشرکوں کے ہاتھوں بیچ دیا اور ایک عافیہ صدیقی ہی  کیا فاٹا سے لے کر کراچی تک کسی شہر اور کسی صوبے کے نوجوان کو نہیں بخشاتھا، جنہیں لا پتہ نہ کیا ہو. پھر ان پر “دہشت گردی اور انتہا پسندی” کا ٹھپہ لگا کر امریکیوں اور سی آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔

دنیا میں سب سے جنگلی اور انسانیت سے عاری قوم تاتاری تھی۔ ان کے لئے انسان، جانور، درخت اور مکانات سب برابر تھے وہ طوفان کی طرح کہیں بھی آتے اور سیلاب کی طرح ہر چیز بہا کر لے جاتے لیکن سفیروں کا ادب ان کی بھی روایات میں تھا اور دوسری طرف ایک تسلیم شدہ ملک کے سفارت خانے پر حملہ کرکے افغانستان کے سفیر ملا ضعیف کو ننگا کرکے ان کے اہل خانہ سمیت امریکیوں کو بیچنے کا “کارنامہ” بھی پرویز مشرف صاحب کی ہی سر ہے جس نے انہیں تاتاریوں سے بھی گیا گذرا ثابت کردیا۔

 یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پرویزمشرف صاحب نے چار جنگوں میں بھی حصہ لیا اور ان کے نام درج ذیل ہیں:

 1) جنگ فاٹا

2) فتح وزیرستان

3) درہ بلوچستان

 4) فتوحات سوات و شمالی علاقہ جات۔

 ان تمام جنگوں میں اپنے لوگوں کو اپنی فوج اور اپنی ہی فوج کو اپنے ہی لوگوں سے مروا کر خوب “ڈالرز” سمیٹ لئے گئے۔ اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مشرف کے دور میں معیشت بہتر تھی اور صرف مشرف ہی نہیں ضیاءالحق کے دور میں بھی معیشت بہت بہتر تھی. وہ سب سے زیادہ سستا دور تھا کیونکہ اس وقت ہم امریکہ سے روسیوں کو مارنے کے پیسے لے رہے تھے اور اب اپنے ہی مسلمان بھائیوں اور پاکستانیوں کو مارنے، بیچنے اور ملک کو گروی رکھنے کے پیسے ہمیں ملے تھے۔  ویسے بھی “فرد واحد(ڈکٹیٹر)” سے سودا کرنا جمہوری حکومت سے سودا کرنے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اسی لئے مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ” بدترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے”۔

 بہرحال کراچی جو بہتری کی طرف گامزن تھا اور اسے مشرف صاحب نے ایک دفعہ پھر سے آگ اور خون کے حوالے کردیا اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کے جسموں میں ڈرل کرنے والے، جسم کے نازک حصوں پر پگھلا ہوا تارکو ل ڈالنے والے، جلتی سگریٹوں سے بدن کو داغنے والے، بوری بند لاشوں، بھتے کی پرچیوں، بلدیہ فیکٹری، عمارتوں سے زندہ انسانوں کو دھکے دے کر مارنے والوں کو بھی مشرف صاحب کی سزا “غیر اخلاقی، غیر شرعی اور غیر قانونی” نظر آرہی ہے۔

 جہاں تک رہ گئی خانے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر باغیوں کو بھگانے کی بات تو اول اس واقعہ میں سرے سے کوئی صداقت ہی نہیں ہے. اگر ہوتی تو مشرف صاحب خود اس بات کا ذکر 36 دفعہ اپنی زبان سے  کرچکے ہوتے جیسا کہ وہ خانہ کعبہ کے دروازہ کھلنے کا ذکر کرتے ہیں یا کم از کم اپنی کتاب میں ضرور لکھ دیتے اور چلیے ایک لمحے کے لئے مان بھی لیں کہ ایسا ہوا بھی تھا تو یہ فوج کے احکامات تھے۔

 اگر مشرقی پاکستان میں مشرف صاحب کو اسلحہ ڈالنے اور سرنڈر کرنے کے احکامات جاری ہوتے تو وہ یہ کام بھی کر گزرتے اس میں ان کے ایمان کا نہیں بلکہ فوج کے ڈسپلن کا زیادہ کردار ہوتا اور اگر اسی بات کو ایمان کی علامت سمجھا بھی جائے تو پھر تو یہ دروازہ روز “خادم الحرمین شریفین” کے لئے کھولا جاتا ہے جو وہیں بیٹھ کر پوری امت کے خون کا سودا کر رہے ہیں اور خود پرویز مشرف پر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کا جو “لال خون” ہے وہ بھی ان کو اتنے سکون سے مرنے نہیں دے گا،  قال اللہ اور قال الرسول پڑھنے والی  نہتی اور معصوم  بچیوں  کو جس طرح انہوں نےفاسفورس بم مار کر پگھلایا ہے، مرنے سے پہلے ان کا جسم بھی ٹھیک اسی اذیت سے ضرور گزرے گا  اور نہ جانے کب انہی کے لئے علامہ اقبال نے کہا تھا:

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

 اسی لئے تو فرمایا مظلوم کی بددعا سے ڈرو کیونکہ اس کی “آہ” سیدھی عرش تک جاتی ہے، کیونکہ کسی ماں کے لخت جگر کو لاپتہ کرنے کے بعد اس کی آہوں، سسکیوں، آنسوؤں، امیدوں،  تڑپ تڑپ کر رات میں  اٹھنے اور کہیں دل کے نہاں خانوں سے نکلی خون میں ڈوبی  ہوئی  ایک “آہ”  کے برابر بھی یہ سزا نہیں ہےاور نہ جانے ایسی کتنی بے آسرا مائیں، بہنیں، بیٹیاں، باپ اور بچے مشرف صاحب کے لئے یہی “آہیں” لئے بیٹھے ہوئے ہیں بھلا ایک پھانسی اور ڈی چوک پر تین دن لاش کا لٹکنا بھی اس سب کے آگے کوئی سزا ہوئی؟

جواب چھوڑ دیں