این آرسی ،دوقومی نظریہ اوربھارتی مسلمان

این آر سی کے نفاذ کے بعد بھارتی عوام سراپا احتجاج ہے ۔مودی اوراسکا اسسٹنٹ امیت شاہ بین الاقوامی امن کو سبوتاز کرنے کے لیے غیر آئینی اقدامات کررہے ہیں ۔این آر سی اسی فساد کی ایک کڑی ہے ۔بھارتی پارلیمنٹ میں قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کی Two nation theoryکا ذکر بہتر سال بعد دوبارہ ہوا ہے ۔بھارتی دانشور دوقومی نظریہ کی بابت پر بھرپور بحث کررہے ہیں ۔بھارتی مسلمان یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ محمدعلی جناح کا دوقومی نظریہ حقیقت پر مبنی تھا۔نریندر مودی اورامیت شاہ کے اقدامات نے بھارتی اقلیتوںکو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے ۔این آر سی پرقلم آرائی کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ تاریخ کے اوراق پر سرسری نظر ڈال لی جائے ۔

دوقومی نظریہ سے متعلق مختلف آراء ہیں بعض کے نزدیک محمدبن قاسم کی راجاداہر کے خلاف جنگ اور اسلام کی ترویج دوقومی نظریہ کی بنیاد ہے ۔بعض کے نزدیک برصغیر میں پہلے ہندوکا قبول اسلام دوقومی نظریہ کی بنیاد تھا۔ظاہر ہے جس شخص نے بتوں کی پرستش کو چھوڑ کر ایک اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود مان لیا تو اس نے ان تمام رسوم وروا ج ا ور تہذیب و ثقافت کو چھوڑ دیا جس پر وہ عمل پیرا تھا۔اس نے اس نام تک کو ترک کر لیاجو اسے پیدائش پر دیا گیا تھا۔ یہی کچھ بر صغیر میں ہوا اور ایک نئے نظریہ زندگی نے جنم لے لیا جو موجودہ طرز زندگی سے با لکل مختلف تھا۔ اسلام اور ہندومت دو مختلف سمتوں میں چلتی ہوئی دو قوموں کی صورت میں موجود رہے۔مسلمانوں نے محمود غزنوی اور قطب الدین ایبک سے لیکر تا وقت اپنا تشخص برقرار رکھاکیونکہ ان کےپاس ایک دین، مذہب اور اصول تھے۔اس کے برعکس ہندو مذہب محض رسوم ورواج کا ایک مجموعہ ہی ہے وہ ہر اس چیز کو معبود بنا دیتے ہیں جو انکے فائدے یا نقصان کا باعث بنے۔ بعض کے نزدیک تحریک خلافت،تحریک علی گڑھ ،علامہ اقبال کے افکار،قائداعظم محمدعلی جناح دوقومی نظریے کے بانی ہیں ۔دوقومی نظریہ کے مفہوم کو سمجھاتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی خان ا رقمطراز ہیں ’’ دوقومی نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ایک منفرد قوم ہیں ،مسلمانوں کا کسی غیراسلام مملکت میں کسی دنیاوی طاقت کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرکے مستقلا اس کی اطاعت میں زندگی گزارنے پر رضامندہوجاناشر ک ہے۔ کیونکہ اسلام کی روسے حاکمیت اعلی کا مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘‘ ہندوستان میں دوقومی نظریہ کا مطلب تھا کہ یہاں دوقومیں آباد ہیں ایک ہندواورایک مسلمان۔مسلمان سالہاسال سے اپنا نظام، تہذیت وثقافت اورتاریخ و ورثہ رکھتے ہیں ۔یعنی ہندواورمسلم ایک دوسرے کی تاریخ وتہذیب وثقافت میں مدغم نہیں ہوسکتے ۔ان کی تہذیب وتمدن کے ساتھ افکار وخیالات بھی ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔

سردار پٹیل نے1946میں بمبئی میں تلک کی ایک برسی میں کہا تھا کہ انگر یز ہندوستان چھوڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں کا بھلااسی میں ہے کہ وہ اپنا رویہ بدل لیں ،اگر جناح فرقہ پرستی چھوڑ کر قوم پرستی اختیار کرلیں تو کانگرس انہیں پورے ہندوستان کی حکومت دینے کو تیار ہے۔ محمدعلی جناح ؒ نے اس سازش کو صحیح ادراک کرتے ہوئے علیحدہ وطن کے مطالبے پرڈٹے رہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد جو سردار پٹیل کی تھیوری کے قائل تھے۔ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو علامہ اقبال ؒ اورمحمدعلی جناح ؒ کو سلوٹ پیش کرتے ۔بقول شاعر:

تقدیرامم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا

مومن کی فراست ہوتوکافی ہے اشارہ

پاکستان ایک حقیقت تھا ! نہ جانے کیوں پنڈتوں نے اس کی مخالفت کی ۔تب بھی حقیقت تھی آج 27کروڑ بھارتی مسلمانوں کو احساس ضرور ہوگیا ۔مولانا ابوالکلام آزاد کے وچاروں کا کچھ سال پہلے بہت چرچا رہا جو مضحکہ خیز تھا ۔یہ درست ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور ابوالکلام آزاد کااندازہ بھی درست ہو گیا لیکن 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی سچائی بدستور قائم ہے۔ 16دسمبر 1971 کو بنگالی پاکستان سے علیحدہ ہو گئے لیکن اس سب کے باوجود کئی بنگالی دانشور آج بھی کیوں کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ ختم نہیں ہوا؟ وہ کیوں کہتے ہیں کہ بنگالیوں نے بنگلہ دیش بنا لیا۔ ہندوستان میں واپس نہیں گئے اور آج بھی کچھ بنگالی دانشوروں کو کیوں یقین ہے کہ ایک دن مغربی بنگال بھی بنگلہ دیش کا حصہ بن جائے گا۔ کون نہیں جانتا مکتی باہنی کے پیچھے مکار ہندولابی اور اپنوں کی نااہلیاں تھیں ۔این آر سی نے بھارت میں ایک نئے اسلامی ملک کی بنیاد ڈال دی ہے ۔یہ شور دن بدن بلندہوگا۔بگڑتے بنتے اتحاد ،ابھرتی اورگرتی ہوئی معیشتیں دنیا کو نقشہ تبدیل کرنے والی ہیں ۔مجھے ان لوگوں کے دھندلے چہرے نہیں بھولتے جوبھارت کے لیے امن کی آشا کار اگ الاپا کرتے تھے۔ بھائی بھائی کا نعرہ بلندکرنے والے ارض پاک کے حقیقی وجود کے بادی النظر میں منکر ہیں ۔بھارت میں ہونے والے مظالم دل کی دھرتی کو آنسوئوں سے نم کردیتے ہیں ۔ میں مہاجرین کی فصیل سے ہوں میرے دادا جان میوات گڑگائوں سے ہجرت کرکے پاکستان میں آئے میں نے اپنے والد سے پوچھا ہجرت کی وجہ کیا تھی انہوں نے بتایا ’’اسلام‘‘ کہ اپنی زندگی اسلام کے مطابق آزادی سے گزاریں گے۔کچھ ماہ پہلے میں نے اپنے ایک ہندوستانی مسلمان بھائی سے کہا کہ آپ پاکستان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اس نے کہا کہ یہ جناح کا غلط فیصلہ تھا کہ اس نے ہمیں دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ۔این آر سی کے نفاذکے بعد اب وہ دوست کہہ رہا ہے کہ محمدعلی جناح کی سوچ ٹھیک تھی ۔حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے ۔

کچھ دوستوں نے کہا ہے کہ ستائیس کروڑ لوگوں کی موجودگی میں این آر سی بل کیسے پا س ہوگیا، اس کی متعدد وجوہات ہیں پہلی تو یہ کہ بھارتی جنتاپارٹی اکثریت میں ہے اس کے پاس نمبرزیادہ ہیں لہذا بل پاس کروانا کوئی بڑی پرابلم نہیں تھا۔دوسری مسلمان کے پاس مضبوط قیادت نہیں ہے ۔مسلمانوں کے پاس اپنی نیشنل پارٹی بھی نہیں ہے ۔اس کی وجہ مسلمانوں نے اپنی پارٹی بنائی ہی نہیں ۔بھارتی مسلمان اپنے بڑوں کی غلطی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ مودی اسرائیل کو رول ماڈل سمجھتا ہے ۔انتہاپسندسوچ کے ہندئوں کا ماننا ہے کہ دنیا کے نقشے پر ۵۶ اسلامک اسٹیٹ ہیں جبکہ ۹۳ اسٹیٹ کریسچن ہیں مگر ہندوئوں کی کوئی اسٹیٹ نہیں ہے مودی بھارت کو ہندواسٹیٹ ڈکلیئر کرنا چاہتا ہے اسی لیے قومیت میں تمام اقلیتوں کو شامل کیا گیا ہے ماسوائے مسلمانوں کے ۔

مودی کے اس اقدام پر چینی اخبار سائوتھ چینی مارننگ پوسٹ کا تجزیہ ہے کہ جرمنی، چلی یا جنوبی افریقہ ہو یا دیگر اقوام انہوں نے کربناک ماضی سے سبق سیکھااور اقدامات کئے تاکہ غلطیوں سے بچا جائے ، مفاہمتی عمل بھی شروع کیا تاکہ ماضی کے زخم ٹھیک ہو سکیں، لیکن بھارت کا معاملہ برعکس ہے اس نے الٹے راستے کا انتخاب کیا ہے ۔تقسیم کے بعد بھارتی قوم نے سیکولر جمہوریہ بننے کا انتخاب کیا جس میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو برابر کے حقوق میسر ہوں، تاہم بھارت کی اکثریتی آمرانہ سیاست نے پارلیمنٹ کے اندر اس انتخاب کو رد کر دیا ہے ۔بی جے پی کی ہندو مذہبی سیاست کی سوچ ہے کہ مسلمان ظالم اور حملہ آور ہیں اس لئے انہیں شہریت نہیں دینی چاہئے ۔مودی سرکار کا ایک اور خطرناک قدم نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) بھی ہے جس کے تحت ریاست آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت مشکوک قرار دیدی گئی ہے جن میں بیشتر مسلمان ہیں، اب اسے بھی پورے ملک میں نافذ کرنے کا منصوبہ ہے ۔ان خاندانوں کی حالت قابل رحم ہے جو اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے دربدر بھٹک رہے ہیں، ہزاروں لوگ قید ہیں، جیلوں میں درجنوں لقمہ اجل بن گئے ، کئی ایک نے خودکشی کر لی، ان خاندانوں کیساتھ عجیب مذاق کیا جا رہا ہے کہ ایک ہی گھر کے چند افراد بھارتی شہری ہیں تو دیگر کی شہریت ہی مشکوک قرار دیدی گئی۔

ماہرین قانون نے این آر سی بل کو بھارتی آئین کے متصادم قرار دیا ہے ۔ کانگریس کے رکن پارلیمان ادھیر رنجن نے کہا کہ یہ بل بھارت کے آئین کی مختلف شقوں کے خلاف ہے۔ بھارت آئین کی روح سے ایک سیکولر ملک ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر تفریق اور امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا اور اس ترمیمی بل میں مسلمانوں کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔جب بھارت کا آئین 26 جنوری سنہ 1950 کو نافذ کیا گیا تو اس میں بھارت کی شہریت کی تعریف جس طرح کی گئی اسے آرٹیکل پانچ میں بیان کیا گیا ہے جس کی رو سے جو شخص بھارت میں پیدا ہوا، جس کے والدین میں سے کوئی ایک بھارت میں پیدا ہوئے یا جس نے آئین کے نفاذ سے قبل پانچ سال مسلسل بھارت میں گزارے وہ بھارت کا شہری ہوگا۔آرٹیکل 14 اور 15 میں آئین کی نظر میں مساوات کا ذکر ہے یعنی قانون کی نظر میں بھارت کی سرزمین پر کوئی بھی شخص مساوی حقوق کے تحفظ سے محروم نہیں۔ آرٹیکل 15 میں مذہب، ذات پات، نسل، جنس، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر غیر امتیازی سلوک کی بات کی گئی ہے۔اس طرح قانون دانوں کا کہنا ہے کہ ترمیم میں چھ برادریوں کا ذکر کر کے اور مسلمانوں کو اس میں شامل نہ کر کے اس کی مخالفت کی گئی ہے۔

نریندر مودی نے این آر سی بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی مخالفت سے معلوم ہوگیا ہے کہ یہ بل ہزار فیصد درست ہے ۔جبکہ نریندر مودی کبوتر کی طرح آنکھ بند کیے ہوئے یہ بھول چکے ہیں کہ سارا کا سارا بھارت سراپہ احتجاج ہے ۔دہلی، کیرالہ، بنگال، آسام، ناگالینڈ ،اروناچل پردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں سیاہ قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میںآج احتجاج اور پولیس سے جھڑپ کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کوپولیس نے چھائونی میں تبدیل کر دیا ۔زمین پر خون مسلم بہہ رہا ہے اور ہم خاموش تماشائی ہیں ۔آج روئے زمین پر مسلمانوں کی اکثریت فرمان ربانی کو نظر انداز کرتے ہوئے یہودوہنود کی پیروی میں محوہے کیا ایسی حالت میں انہیں تنبیہ خداوندی کے عین مطابق، ظالم و جابر حکمرانوں کے ظلم و جبر سہنے نہیں پڑیں گے ؟ کیا اس کا ادراک و خوف ہم مسلمانوں کو نہیں ہے؟انسانیت کے قاتل کھلے عام منصوبہ بندی کررہے ہیں اور مسلم امراء خاموش تماشائی کے ماسوا کیا ہیں۔ لاکھوں انسانوں کے قاتل خود کو انسانیت کا مسیحا کہتے نہیں تھکتے ۔کیا ملت اسلامیہ کے حکمران اپنا محاسبہ کرنے اور مسلمانوں کو تحفظ دینے کے لیے کمربستہ ہیں ؟

کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ایک غزوہ سے لوٹتے وقت مسلمانوں کا لشکر جب وقتی آرام کرنے کے لئے خیمہ زن ہوتا ہے۔ خاتم الانبیاء ایک پیڑ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔اسوقت ایک صحابی رسول ؐحاضر ہوتے ہیں،سلام کے بعد سوال کرتے ہیں یا رسول اللہؐ کوئی آسان تدبیر یا نسخہ تجویز کیجئے کہ جس پر عمل کرتے ہوئے میں سیدھا جنت میں چلا جاؤں؟ اللہ کے رسول ؐفرماتے ہیں دین تو آسان ہے نا،اس پر عمل کرتے ہوئے سیدھا جنت پاؤگے۔وہ صحابی رسول ؐدوبارہ پوچھتے ہیں۔ہاں رسول اللہ یقینا دین آسان اور قابل عمل ہے اور میں اس پر عمل پیرا بھی ہوں، پھر بھی میں اپنے جنت میں جانے کی فکر ہی سے کچھ اور آسان عمل کا متقاضی ہوں، جس پر پابندی عمل سے جنت اپنے لئے یقینی بناسکوں۔ اس وقت بھی اللہ کے رسولؐنے،یہی کہا تھا کہ دین آسان ہے اس پر عمل پیرا رہو، جنت تمہاری ہی ہے۔جب اس صحابی نے تیسری دفعہ جنت کےحصول کے لئے کسی خاص عمل کا تقاضہ کیا تب آپ ؐنے فرمایا تھا کہ اللہ کی ذات میں کسی کو شریک مت بناؤ۔ اس کا کیا مطلب تھا ؟ اس کا مطلب تھا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے علاوہ کوئی رول ماڈل نہیں ہے۔مگر ہمارے رول ماڈل گمراہ سیکولر انسانیت دشمن لوگ ہیں جن کے پاس نہ سوچ ہے نہ فہم وہ صرف شیطانی قوتوں کی خوشنودی کے لیے ہروقت کوشاں رہتے ہیں۔ہماری تاریخ بہادری ،جوانمردری سے عبارت ہے ۔ہم اس راستے کا بھی انتخاب نہیں کرتے جو بزدلی سے منسوب ہو ۔ہمارے خون میں جھپٹنے کا ہنرہے پلٹنے کانہیں تاریخ شاہد ہے کہ اسلام پسندوں نے ہمیشہ امن کی آشا کا حقیقی چراغ جلایا اور دنیا کو جنگ وجدل سے محفوظ بنانے کے لیے گراں قدر خدمات دیں ۔ذرا سوچئے ! کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟

روہنگیاکے مسلمان ہجرت کے جس کرب سے گزرے وہ غم بھلایا نہیں جاسکتا، ان کے گھر، ملکیت ،سکون چھینا گیا ، انہیںسمندر کی لہروں کی نظر کیا گیا ،ان کی گودیں اجاڑی گئیں ،فلسطین ،شام ،یمن ،افغانستان ،کشمیر اوراب بھارتی مسلمانوں کو شہریت سے خارج کرنا ایک خاص طبقہ کے خلاف نفرت کا شاخسانہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ کہاںہیں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں ؟ہم نے دیکھا صہیونیوں اورمشینریوں کی ایما پر متعدد مرتبہ جوائنٹ فورس تشکیل دی گئیں۔ بین الاقوامی امن کے لیے مگر افسوس تاریخ میں ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ جواتحاد مسلمانوں کو انصاف دلانے کے لیے قائم ہوا ہو؟ ۔بین الاقوامی دنیا بالخصو ص امت مسلمہ کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ زمین پر امن قائم رہے ۔ بدامنی، ناانصافی ، ظلم وبربریت معاشروں کو تباہ کردیتے ہیں ، غیروں سے توقعات قائم رکھنے والے ہمیشہ اسی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں ۔اگر امت مسلمہ نے اتحاد کے ساتھ اپنا حقیقی بلاک بنایا ہوتا ایک کرنسی ،ایک جسم ،ایک ملت بنے ہوتے توہم اس کرب سے نہ گزرہے ہوتے۔

جواب چھوڑ دیں