پولیس کا ادارہ اتنا کمزور کیوں؟

 پاکستان کے تمام ادارے جو ملک میں امن و امان بحال رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ایسے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے عوام الناس کے جان ومال کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہیں ایسے اداروں کو ریاست کی طرف سے قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، اور ریاست کا ایسے اداروں کے افسران و ملازمان کے ساتھ برتاؤ ادارے کی بقاء کے لیے بھی ضروری عمل سمجھا جاتا ہے۔  ایسے اداروں میں افواجِ پاکستان کے علاوہ تمام لاء اینڈ فورسمنٹ ایجنسیز کے ملازمین کو عزت بھی حاصل ہے اور  قانونی تحفظ بھی۔  لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک طرف پولیس کا ادارہ انتہائی بدنام ہے، وہیں عوام کی نظر میں سب سے طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسی ادارے کے افسران و ملازمین قابلِ رحم، مظلوم اور بے بس بھی ہیں۔

  1934 میں جب پولیس کے لیے پولیس رولز بنایا گیا پھر 1947 تک انگریز کے زیرِ تسلط اس ادارے نے اپنی پرفارمنس کے ساتھ ساتھ خود کو طاقتور ترین ادارہ ثابت کیا۔ اس دور میں ایک سپاہی بھی ریاست کا اور پولیس ادارے کا طاقتور فرد سمجھا جاتا تھا۔  حالانکہ اس وقت بھی سپاہی سے آئی جی تک کے افسران پر ہمارا موجودہ پولیس رول ہی لاگو ہوتا تھا۔  انگریز تسلط سے آزادی تو حاصل کر لی گئی لیکن اس کے بنائے ہوئے قوانین من وعن پولیس فورس کا حصہ بنادیے گئے، اور تاحال اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے بدلتے حالات اور ملک کے باشندوں کے روّیوں کو دیکھ کر قوانین میں ترمیم بھی کی گئیں اور نئے قوانین بھی پیش کیے گئے. تاکہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔  لیکن بدقسمتی سے پولیس کے ساتھ ہر دور میں کھلواڑ کیا گیا. اور قریباً تمام اشرافیہ اور سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ حاکمِ وقت نے بھی اس ادارے کو بطور رکھیل استعمال کیا۔

جب پولیس کی بات کی جائے تو سب سے پہلا نام پنجاب پولیس کا لیا جاتا ہے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملک کے اندر جب بھی سیاسی حالات خراب ہوئے یا امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو پنجاب پولیس سب سے پہلے آگے بڑھی۔  جب بھی اس ادارے نے کسی بڑے کے گریبان پر ہاتھ ڈالا تو ادارے کو  دھمکیاں دی جاتی ہیں۔  چاہے آصف ذرداری کی گرفتاری ہو یا نواز شریف کی ،  کسی ڈاکٹر کی ہو یا وکیل کی،  کسی جرنیل کی ہو یا کسی ملک ریاض کی،  پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ اگر نواز شریف اس فورس کو تحریک انصاف کے دھرنے کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو عمران خان بھی دھمکیاں پولیس کو ہی دیتے ہیں۔  اب پی ٹی آئی حکومت نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کو روکنے کے لیے وہی فورس استعمال کی تو مولانا نے بھی یہی رویہ رکھا۔  آخر یہ پولیس کیا کرے۔ رکھیل کا کام ہے ہر ایک کی تابعداری کرنا۔

گزشتہ دنوں لاہور کے پی آئی سی اسپتال میں وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان لڑائی میں بھی پولیس کو دھمکیاں دی گئیں۔  یہاں تک کہ وکلاء نے باوردی پولیس ملازمین کو احاطہ عدالت میں داخلے سے روک دیا۔  کیا احاطہ عدالت صرف اور صرف وکلاء کا ہے۔  کیا ہماری ریاست کے سربراہان اتنے کمزور ہیں کہ وہ احاطہ عدالت میں پولیس کے داخلے پر لگنے والی پابندی کا نوٹس بھی نہ لے سکے۔ پولیس کا تفتیشی افسر عدالت دیر سے پہنچے تو بے عزتی ، چالان میں تاخیر ہوئی تو بے عزتی،  آخر یہ ادارہ اتنا بے بس کیوں ہے؟ جو آیا جیسا آیا اس نے اس ادارے کو ذاتی ملکیت سمجھ کر خوب استعمال کیا۔  جب اس ادارے کے مسائل کو سامنے لایا گیا تو آج کا کام کل پر چھوڑ کر بھلا دیا گیا۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے پولیس وہ واحد ادارہ ہے جس کا نہ تو کوئی ڈیوٹی شیڈول ہے نہ ریسٹ کا طریقہ کار،  نہ خوشیاں اہم ہیں نہ غم سے کوئی سروکار،  کولہو کے بیل کی جب دل کیا جیسے دل کیا آنکھوں پر پٹی باندھ کر جوت دیا گیا اور مقصد پورا کیا گیا ۔ کسی کو بھی اس ادارے کی نہ قربانیوں کا احساس ہوتا ہے نہ اس کے شہیدوں کی قدر کی جاتی ہے۔  اس ادارے کے افسران و ملازمین کی قربانیاں  رائے گاں دکھائی دیتی ہیں ۔ اس ادارے کے شہداء کی قربانیوں کو بھی وہ مقام نہیں دیا جاتا جو افواجِ پاکستان کے شہداء کو دیا جاتا ہے۔

 کیسے عجیب ہیں یہ لوگ اتنا کام کر کے تو شاید مشینیں بھی تھک جائیں جتنا کام پولیس کے افسران و ملازمین کرتے ہیں۔  راتوں کو دھند کہر میں پٹرولنگ ڈیوٹی وہ بھی قابلِ رحم گاڑیوں میں، دن کو عدالتوں کے چکر، اشتہاریوں کی گرفتاریاں، ریڈ، چالان مکمل کرنا، ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنا، سیمپل لیبارٹریوں میں بھیجنا، ریکوریاں کرنا، ایک تفتیشی کی استعداد کار سے پڑھ کر بیک وقت مقدمات کی تفتیش کرنا۔ 14 اگست، عیدین، محرم، تراویح، بسنت، کرسمس کی ڈیوٹیاں الگ ہیں۔  سب سے بڑھ کر دھرنا ڈیوٹی جس کے نہ آغاز کا پتا نہ اختتام کا ۔ یہ وہ بد قسمت ادارہ ہے جس کو نہ عوام کا اعتماد حاصل ہے نہ  اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے کوئی پذیرائی۔  ایک قتل کے مقدمے میں تفتیشی افسر کتنے مشکل مراحل سے گزر کر اور محدود وسائل کو سامنے رکھ کر جب کسی قتل کا سراغ لگاتا ہے تو اگلے لمحے شک کا فائدہ دے کر ہماری ماڈل کورٹس بری کر دیتی ہیں. اس طرح منشیات کے مقدمات میں بھی ملزمان بری ہو جاتے ہیں اور تفتیشی افسر ملزمان کے بری ہونے پر بھی انکوائریاں بھگت رہا ہوتا ہے۔  خرابیاں کہاں ہیں یہ ہر ایک کو معلوم ہے۔ اس فورس کو ماڈل فورس بنانے کے لیے کتنے منصوبے شروع کیے گئے لیکن سب پسِ دیوار چلے گئے. کیوں؟ کیوں کہ جب تک اس ادارے کی اندورنی بیماریوں کو ٹھیک نہیں کیا جاتا تب تک نہ اس ادارے کے ملازمین مطمئن ہوں گے نہ عدالتیں اور نہ ہی عوام۔

 پولیس کے ملازمین کا کہنا ہےکہ جب کوئی شخص پولیس میں بھرتی ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا دنیا میں کوئی عزیز و اقارب نہیں ، نہ اس کو کسی خوشی غمی سے کوئی سروکار ہے۔ اس کے بچوں کو دوا کی ضرورت ہے نہ بوڑھے والدین کو علاج کی۔  بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھانے کی ضرورت ہے نہ ہی اچھی رہائش دینے کی ۔ اسے اچھا کھانا چاہیے نہ ذہنی سکون۔  بس ایک اللہ کا توکل ہے جو اس ادارے کے ملازمین کی ہمت بڑھاتا ہے۔ ہر دو ٹکے کا شخص جب چاہے ، جیسے چاہے باوری ملازم کی مٹی پلید کر دے۔  یہ وہ واحد ادارہ ہے جس کا کام ہفتے میں 7 دن ، سال میں 12 ماہ اور 365 دن ڈیوٹی سرانجام دینا ہوتا ہے۔ یہ وہ واحد بد بخت ادارہ ہے جس کے شہیدوں کو نہ شہید گردانا جاتا ہے، نہ زندوں کی قدر اور  ناہی  مرے ہوئے کو پروٹوکول۔ شہداء کی بیوائیں اپنے حق کے حصول کے لیے دفتروں اور اکاؤنٹ آفس کے چکر لگا لگا کر ذلیل ہو جاتی ہیں اور سالوں تک ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔ پولیس ہی ایسا ادارہ ہے جس کے ملازمین پر نہ تپتی دھوپ اثر کرتی ہے نہ یخ بستہ سردی۔  اور اگر یہ مظلوم کسی کو کہیں کہ ہمیں گرمی لگتی ہے،  سردی کا اثر بھی ہوتا ہے۔  ہمیں گرمیوں کے لیے اچھی وردی دی جائے اور ہمیں سردیوں کے لیے گرم بوٹ۔  جرسی  چاہیے میں بیمارہوں،  مجھے ریسٹ چاہیے میرے بزرگ والدین بیمار ہیں،  انہیں دوا چاہیے،  میرے بچے اچھے اسکول میں پڑھنا چاہتے ہیں،  مجھے اچھی رہائش چاہیے۔  مجھے اچھا کھانا چاہیے ۔ مجھے علاج کے لیے اسپتال کی ضرورت ہے تو جواب ملتا ہے 30000 ہزار تنخواہ کس بات کی لیتے ہو۔  اسی سے سب کچھ اچھا سا کر لو۔  دو ٹکے کا ملازم اور خواب اشرافیہ کے۔ یہاں آ کے پولیس دم توڑ دیتی ہے۔ کیا حقیقت میں پولیس اہلکار دو ٹکے کا ملازم ہے؟

جواب چھوڑ دیں