دوبڑے طبقوں کاتصادم تبدیلی یاجہالت

اسلامی تعلیمات سے انسان انسانیت کی پروان چڑھتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں وہ ساری خرابیاں موجود تھیں۔جن کے بارے نبیؐ نے ہمیں آگاہ کیااوراس دورکے لوگوں کو بتایا گیاتم رشتوں کے تقدس کو پامال کررہے ہو۔عرب میں کہیں ماں کی عزت کو کہیں بیٹی کی عزت کوداغدار کیاجاتا تھا۔ عورت کو زمانے کی ذلیل چیز تصورکیاجاتاتھا۔باپ کے مرنے کے بعدماں کسی کوبطور تحفہ پیش کی جاتی تھی۔جب کفار جودین اسلام کے دشمن تھے۔انہیں قید کرکے نبیؐ کی بارگاہ میں لایاگیا۔نبیؐ نے ان قیدیوں کی آزادی کی شرط یہ رکھی کہ تم میں سے جودس ایمان والوں کو لکھنا پڑھنا سکھادے گا وہ آزاد ہو گااور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عدالت میں ایک فیصلہ آیا کہ میاں بیوی آپس میں جھگڑرہے تھے۔انکے بیٹے نے دونوں کے جھگڑے کوروکنے کے لیے ایک ڈنڈاماں کو لگایا اورایک ڈنڈا باپ کولگایا۔اسطرح ان کی لڑائی ختم کروائی۔سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب لڑکے سے پوچھا جو اونٹ چراتا تھا۔کہ تم نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا تو اس نے کہاجب بھی دو اونٹ آپس میں لڑتے تھے تومیں اس طرح ان کی لڑائی ختم کرواتا تھا۔سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس لڑکے والدین سے کہا کہ اس میں تمھاراقصور ہے تم نے اس کو پڑھایا لکھایا نہیں اس کی تربیت اچھی نہیں کی۔

رسول اللہ ؐنے تعلیم پر زوردیا۔رسول اللہؐ کی تعلیمات کے مطابق جب دین کا علم پڑھا ہو توانسان میں خرافات نہیں ہوتیں۔آج بات ہے ا س پڑھے لکھے دو طبقوں کی۔ایک طبقہ کالا کوٹ والا جو قانون دان طبقہ کہلاتا ہے۔ دوسراسفید کوٹ طبقہ جومریضوں کا مسیحاکہلاتا ہے۔دونوں طبقے پڑے لکھے شمار ہوتے ہیں۔جس طرح ان دونوں طبقوں نے اپنے علم کااظہار کرتے ہوئے۔پورے ملک میں دہشت گردی کا ماحول پیدا کیا۔ان پڑھے لکھے لوگوں کا ماحول اس لڑکے والا تھاجواونٹ چرانے والا تھا۔اونٹ چرانے والے لڑکے اور ان کالے کوٹ والے قانون شکن،اصول شکن،جھگڑالو،عوام الناس پر بے جا ظلم وستم کرنے والے،گالی گلوچ کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہےاور سفید کوٹ والے جو لوگوں کے مسیحا شمار ہوتے ہیں۔وہ بھی کالے کوٹ والوں سے کم نہ رہے۔انہوں نے بھی خوب کام کیا ان کی وجہ سے لوگوں کی اموات بھی ہوئیں۔

زمانے جہالت کی یاد وں کو خوب لوگوں کو یاددلایاگیا۔جب ملک میں دہشت گردی کا ماحول پیدا کیاگیا تھاتولبرل طبقہ کہاں تھاجو خادم حسین رضوی کے پرامن احتجاج کودہشتگردی کا نام دیتاتھا۔وہ بکاؤ اینکر سوائے اوریا مقبول جان کے جو خادم حسین رضوی اور مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے خلاف تبصرے کرتے جن کی زبانیں تھکتی نہیں تھیں۔آج وہ کہاں ہیں۔کیا انکو نظر نہیں آتا کس طرح سرعام گولیاں چلائی گئیں۔پولیس وین کو نذرآتش کیاگیا۔موٹر بائیک پرعام شہری کو تھپڑ مارے گے۔ایک وکیل خاتون کی ویڈیو دیکھی جو ایک معززشہری کی گاڑی کے شیشے توڑ دیتی ہے اور گاڑی سے نکال کر زدوکوب کرتی ہے۔ایک وکیل ایک خاتون کوٹھوڈے مارتا ہوادیکھاگیا۔

وزیراعظم کا بھانجا آرمی کے لوگوں کو سرعام ذلیل کرتا ہے پولیس وین جلاتا ہوا پایاجاتا ہے۔قانون نافذکرنے والے مگرمچھ کی طرح گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔لبرلز جو دین کی مخالفت اور مدرسوں کے خلاف بھونکنے والے،تحریک لبیک پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنیوالے کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔یہ حکومت خود اپنی ناکامی کی طرف جارہی ہے۔ملکی آثار بتاتے ہیں پہلے علماء پر ظلم وستم پھرعلماء کوقیدوبند کی صعوبتیں،پھر امریکہ کو خوش کرنے کے لیےگستاخوں کی رہائی۔سب کڑیاں ایک دوسری سے مل رہی ہیں۔غریب عوام پر ظلم وستم اور مہنگائی کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں۔ انشاءاللہ ہرظالم اپنے ظلم کے سبب اپنے انجام کو پہنچے گا۔ناکام وزیراعلیٰ کی طرف سے بس صرف نوٹس لیاگیا ہے۔پتا اب چلے گا جب وائٹ کوٹ اور بلیک کوٹ والے کتنے جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ان دونوں طبقے کے لوگوں کے سامنے حکومت بے بس ہوچکی ہے۔یہ واقع کبھی رونما نہ ہوتا اگر ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کے دین کی تعلیمات حاصل کی ہوتیں۔ قرآن وحدیث کوپڑھاہوتا۔ڈاکٹرعلامہ محمداقبال نے انہی کے بارے کیا خوب کہا۔

وہ زمانے میں معززتھے مسلماں ہوکر

اورتم خوارہوئے تارک قرآن ہوکر

تبدیلی کانعرہ بلند کرنے والے اب عوام الناس کو الو بنانا چھوڑدیں۔اگر یہ تبدیلی ہے توپھرجہالت کیا ہے۔وہ لبرلز آنٹیاں بھی خاموش ہیں۔جوسوشل میڈیا پر دین کادرس دینے والوں کو دہشت گرد کہتی تھیں۔اب انہیں خواتین کی عزت بزرگوں کی عزت کا کوئی خیال نہیں۔کس طرح انکی عزتوں کی دھجیاں بکھیری گئیں۔یہ ملک جس کو ریاست مدینہ کانام دیا جارہا ہے۔ریاست مدینہ میں حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگرفرات کے کنارے کتامر جائے تومجھ سے حساب ہوگا۔ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں کو مرنے والے مریض تو نظر نہیں آئے ہوں گے۔جہالت سے بچناچاہتے ہو تو ان دونوں طبقوں کو دین سیکھاؤ۔

قوم مذہب سے ہے،مذہب جونہیں تم بھی نہیں

جذب ِباہم جونہیں،محفلِ انجم بھی نہیں

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں