حقیقت پسندی بمقابلہ بہلاوے

میرے پیش نظر ایک جانب حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے تو دوسری جانب اربابِ اختیار و اقتدار کے دعوے اور بہلاوے ہیں۔ میں آج کے اخبارات میں شے ہونے والے دو بیانیے رکھنا چاہوں گا جس سے اس بات کا اندازہ خوب اچھی طرح ہوجائےگا کہ حقیقت پسندانہ سوچ کیا ہوتی ہے اور محض باتیں بنانا کس کو کہا جاتا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ، جو ایک دو روز میں ریٹائرڈ ہونے والے ہیں، نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ ایسی حقیقت پسندانہ باتیں کی ہیں جس پر اگر ارباب اختیار و اقتدار نے غور نہیں کیا تو عجب نہیں کہ پاکستان کے حالات ہر آنے والے دن کے ساتھ بد سے بدتر شکل اختیار کرتے جائیں اور ایک وقت وہ بھی (خدانخواستہ) آجائے کہ حالات پر قابو پانا ہی مشکل ہو جائے یا باالفاظ دیگر سارے کے سارے معاملات ہاتھ سے ہی نکل جائیں۔

چیف جسٹس نے 16 دسمبر 1971 کے حوالے سے سقوطِ ڈھاکہ کا تذکرہ بہت ہی دکھ اور درد کے ساتھ کیا۔ سقوطِ ڈھا کہ پر گزشتہ 40 برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے بڑےبڑے اختیار و اقتدار افراد کے بیانات اور تجزیے سامنے آتے رہے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے ایسا سانحہ ہوجانے کے بنیادی سبب کا ذکر کیا ہو۔ اس بات پر تو روشنی بہت ڈالی جاتی رہی ہے کہ یہ ایک بڑی سازش تھی اور خاص طور سے پڑوسی ملک بھارت کا اس میں بہت بڑا کردار تھا لیکن کسی نے آج تک اس حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی کہ پاکستان کی وہ آبادی جو پاکستان بننے سے بھی کئی دہائیوں پہلے انگریزوں کے قبضے کے خلاف مصروف جہاد رہی، مسلمانوں کی آزادی کیلئے انگریزوں سے برسرِ پیکار رہی اور جس نے اپنی اس جد و جہد کو ایک نئی جہت دیتے ہوئے اُس مسلم لیگ کی بنیاد رکھی جس کے جھنڈے تلے ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک آزاد ملک ملا جو(مشرقی اور مغربی) دنیا کے افق پر پاکستان کے نام سے طلوع ہوا۔ یہ دونوں خطے اسلام کی زنجیر سے جڑے ہوئے تھے یہاں کے مسلمان نہ صرف آزاد فضا میں سانس لے سکتے تھے بلکہ اسلامی نظام کو نافذ کرنے میں بھی مکمل خود مختار تھے، جس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی دی تھی۔

اگر تاریخ کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لیاجائے تو پاکستان بنانے میں سب سے اہم اور بڑا کردار مشرقی پاکستان کے مسلمانوں ہی کا تھا کیونکہ اس خطے میں سب سے زیادہ قربانیاں وہیں کے مسلمانوں کی تھیں جنھوں نے انگریزوں کے خلاف عملاً جد و جہد سے کسی آن بھی منھ نہیں موڑا تھا۔

پاکستان کسی خطے کا نام نہیں تھا بلکہ پاکستان ایک نظریے کا نام تھا یہی وجہ ہے کہ جب بھی تقسیم ہند کا ذکر چھیڑا جاتا ہے تو ہمیشہ “دو قومی نظریہ” کا ذکر ضرور ہوتا ہے لیکن بد قسمتی سے دو قوی نظریہ کا قتل عام 16 دسمبر 1971 میں اس بری طرح سےہوا کہ وہی سارے مسلمان جو مذہبِ اسلام کی ایک زنجیر میں بندھے ہوئے تھے، لسانیت کی دو الگ الگ اکائیوں میں تقسیم ہو گئے اور مذہب کی وہ زنجیر جس نے دو خطوں کو آپس میں جکڑا ہوا تھا، وہ ٹوٹ گئی اور یوں مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو گیا۔

مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے علیحدہ ہوجانے کے بہت سارے اسباب کا ذکر سامنے آتا رہا لیکن بہت ہی کم کسی میں اتنی جرات ہوئی کہ وہ علیحدگی کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر سکے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے ریٹائرڈ منٹ سے کچھ عرصے قبل ایک تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم کے ایک شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میری نظر میں نہ کسی چھوٹے کی قدر و قیمت کم ہے اور نہ کسی بڑے کی بڑائی کی کوئی اہمیت، میری نظر میں اگر کوئی بات اہم ہے تو وہ آئین و قانون ہے۔ قانون کی نظر میں سب چھوٹے بڑے، امیر غریب اور بادشاہ و فقیر برابر ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں جس چیز کو برتری حاصل ہوتی ہے وہ آئین و قانون ہو تا ہے۔ اپنی اسی گفتگو کے تسلسل میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اب عدالت آرمی چیف کے متعلق بھی ایک فیصلہ سامنے لانےوالی ہے۔ سپریم کورٹ میں ان دنوں سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے کیس کو بھی چھیڑ دیا گیا تھا اسی لئے عام لوگوں کا خیال یہ تھا کہ شاید پرویز مشرف کے “سنگین غداری” کیس کا کوئی فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ حاضر ڈیوٹی آرمی چیف کے متعلق بھی سپریم کورٹ کوئی ایسا فیصلہ سنانے جا رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت اور آرمی چیف کسی مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد کسی کو حیرانی ہوئی یا نہیں لیکن اس بات کا اندازہ ضرور ہوا کہ چیف جسٹس میں اپنے دیگر سابقین کے بر عکس حقیقت پسندی کا رجحان زیادہ ہے۔

اسی حقیقت پسندی کا اظہار انھوں نے سقوطِ ڈھاکہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “سقوط ڈھاکا ایک سبق ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست حقوق کا تحفظ نہ کرسکے تو شہری ریاست سے الگ ہوجاتے ہیں۔ ان کے بقول ریاست اور شہریوں میں سوشل کنٹریکٹ کمزور تھا نیز یہ کہ ریاست کو عوام کے حقوق کا ہر صورت خیال رکھنا پڑتا ہے”۔ انہوں نے بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کی تحریک مشرقی بنگال سے شروع ہوئی، مشرقی بنگال والے ہم سے زیادہ پرْعزم تھے”۔ کہنے کو یہ چند جملے ہی ہیں لیکن انھوں نے اتنا کہہ کر جیسے علیحدگی کے اسباب کے پورے دریا کو ایک کوزے میں بند کر کے رکھ دیا۔

اگر ان کی بات پر غور کیا جائے تو جن سازشوں کا ہم رات دن تذکرہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی ہر کوتاہی یا ناکامی کا قصوروار بیرونی طاقتوں کو گردانتے ہیں، ان میں حقیقت ہونے کے باوجود قصور اپنا ہی ہوتا ہے اور وہ قصور یہی ہوتا ہے کہ ہماری نظر اپنی ذمہ داریوں سے ہٹ جاتی ہے، ہم اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا بھول جاتے ہیں اور اختیارات ہمیں فرعونیت کی جانب لیجاتے ہیں جس کی وجہ سے ہم ہر کام طاقت کے بل بوتے پر کرنا چاہتے ہیں۔ طاقت اور اختیارات کا بے جا استعمال وقتی طور پر تو مصنوعی امن اور استحکام کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے لیکن قوم کے دکھوں کا غم دیمک کی طرح اندر ہی اندرپوری ریاست کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتا ہے۔ یہی وہ حقوق کی پامالی کا دکھ اور درد تھا جس نے مشرقی پاکستان کو اندر ہی اندر سے اس بری طرح کھوکھلا کر دیا تھا کہ ایک معمولی سے جھٹکے نے ساری کی ساری عمارت کو زمین بوس کر کے رکھ دیا۔

چیف جسٹس سعیدکھوسہ نے اپنی گفتگو کو یہیں ختم نہیں کیا بلکہ اپنی بات کے تسلسل میں ارباب اختیار و اقتدار کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات کو پیش نظر نہ رکھا گیا یا باالفاظ دیگر سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے سے سبق حاصل نہ کیا گیا تو ریاست میں مزید (خدانخواستہ) کوئی سانحہ جنم لے سکتا ہے اس لئے بنیادی حقوق کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

ایک جانب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا یہ حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے تو دوسری جانب اداروں اور حکومت کی وہی خود ستائشی کا عالم ہے کہ عوامی حقوق پر توجہ دینے پر سنجیدہ نظرنہیں آ رہی ہے۔

ایک جانب پاکستان کی عسکری قیادت کا یہ کہنا ہے کہ “دشمن پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتا” تو دوسری جانب سول قیادت کا یہ فرمانا ہے کہ “ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے”۔ اس بات کو کسی بھی طورپر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ دشمن اندرونی ہوں یا بیرونی، وہ مسلسل ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ہر ملک کو ان ہی دو اقسام کے دشمنوں کا ڈر ہوتا ہے۔ اندرونی دشمن صرف اور صرف اچھے حسن سلوک سے قابو میں آیا کرتے ہیں جس کا اشارہ چیف جسٹس نے نہایت جامعہ انداز میں لفظ “حقوق” میں سمودیا ہے جبکہ بیرونی دشمن نہایت خوشگوار اور بہترین خارجہ تعلقات اور مضبوط دفاع سے قابو میں آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فوج اور مناسب دفاعی ساز و سامان ہے لیکن نہ تو ہمارے خارجی تعلقات مثالی ہیں اور نہ ہی اندرونی معاملات بہت اچھے، اس لئے ضروری ہے کہ دعوں سے زیادہ کمزوریوں پر قابو پایا جائے۔

اسی طرح ارباب اختیار کو بھی چاہیے کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے دعوے کرنے کی بجائے عوام کے بنیادی مسائل اور حقوق کی جانب زیادہ توجہ دیں۔ لوگوں کو مہنگائی کے عذاب سے بچائیں، ان کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کریں، بے گھروں پر چھتوں کا سایہ کریں۔ غربت اور افلاس کو ختم کریں اور ان کے علاج معالجے سے لیکر تعلیمی سہولیات فراہم کریں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان میں اور بھی بہت سے ادارے موجود ہیں لہٰذا جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں ان پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت اپنی ذمے داریوں کی جانب فوری اور بھر پور توجہ دے ورنہ آنے والا دور کوئی بہت اچھا نقشہ پیش کرتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں