وائے ناکامی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں حیران ہوں کہ پاکستان میں “زیادہ یا کم ” نقصان ناپنے کا پیمانہ کب ایجاد ہوا۔ اس پیمانے میں کم از کم کی مقدار کیا رکھی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کیا حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیمانہ کسی تھرما میٹر کی طرح کا ہے یا پھر بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے والے آلے کی شکل کا۔

میں حیران ہوں وزیر اعظم پاکستان کے اس بیان پر جس میں وہ بلوائی وکیلوں کے بھیڑیانہ حملوں کے بعد یہ فرمارہے ہیں کہ “لاہور واقعے میں موثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا”۔ پھر اپنی نا قابل فہم گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ “میں نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کو فون کیا اور کل کے پی آئی سی واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔ ان سے دریافت کیا کہ آپ کو وکلا تشدد کے باعث کوئی چوٹ تو نہیں آئی”۔ آپ اندازہ لگائیں کہ انھیں اگر سب سے زیادہ کسی دکھ کا احساس تھا تو یہ تھا کہ ان کے ایک بد زبان وزیر کو زیادہ چوٹیں تو نہیں آئیں اور وہ ان کے نر غے سے بدقسمتی سے نکلنے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔ ملک کے ایک سر براہ کو جو فکر سب سے زیادہ ہونی چاہیے تھی وہ یہ ہونی چاہیے تھی کہ ان درندے وکیلوں کے درمیان جو مریض پھنس گئے تھے، ان کے جو لواحقین گھر گئے تھے، جو مرد و خواتین نرغے میں آگئے تھے اور ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے عملے سمیت سیکڑوں افراد تشدد کا شکار ہو رہے تھے، ان کا کیا حال ہے اور وہ دل کے مریض جو اس ہنگامہ آرائی کی وجہ سے جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان کے لواحقین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ اس کی بجائے انھیں اپنے ایک بدزبان وزیر کی خیریت زیادہ عزیز تھی اور فون کرتے ہی جس فکر کا سب سے پہلے انھوں نے اظہار کیا وہ ان کی خیریت سے متعلق تھا۔

ممکن ہے کہ شاید میں کچھ زیادہ ہی جذباتی انداز میں ایسا سوچ رہا ہوں یا اظہار خیال کررہا ہوں لیکن بات صرف اپنے وزیر کی خیر خیریت دریافت کرنے پر ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک ملک کے سربراہ نے قوم کا دل یہ بات کہہ کر زیادہ زخمی کردیا کہ “لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا”۔ یہ بات میری عقل و فہم سے اس لئے بھی بالا تر ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق کتنا اور نقصان ہوتا تو وہ اسے زیادہ نقصان میں شمار کرتے۔

اسپتال کے در و دیوار اینٹیں مار مار کے بد رنگ کردیئے گئے، پورے اسپتال کے شیشے توڑ دیئے گئے، گاڑیاں جلادی گئیں، ڈاکٹروں کے پوشاکیں تارتار کردی گئیں، جو نظر آیا اس کا سر پھاڑدیا گیا، آئی سی یو ہو یا سی سی یو، سب میں داخل ہوکر مریضوں سے ان کے آکسیجن ماسک تک اتار کر ان کو موت کے گھاٹ بھی اتارا گیا اور موت کے دہانوں تک بھی پہنچادیا گیا، نرسوں کو بے لباس کیا گیا، ان کی عزتوں پر ہاتھ ڈالاگیا، فتح و کامرانی کے نعرے لگائے گئے، پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیا گیا۔

ہم اپنے بچپن میں اپنی باجیوں، امیوں یا نانی دادیوں سے اکثر جنوں کی جو کہانیاں سنا کرتے تھے ان میں اکثر یہی بات کہی جاتی تھی کہ فلاں جن کی جان فلاں پرندے کے انڈے میں ہے اور فلاں فلاں کی جان توتے، مینا یا کبوتر میں ہے اور اگر کوئی شہزادہ انڈے کو پھوڑ دیگا، یا پرندوں کی گردنیں مروڑنے میں کامیاب ہو جائے گا تو جن مر جائے گا۔ وہ تو کہانیاں تھیں لیکن اس دور میں لگتا ہے کہ بہت ساری کرسیوں کی جانیں بھی کسی اور کی طاقتوں میں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے موجودہ حاکم کی جان پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی جان میں پھنسی ہوئی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ لاہور میں ایک نہایت شرمناک واقعہ ہوا، درندگی کی انتہا ہو گئی اور انتظامیہ سو فیصد سے بھی زیادہ ناکام و نامراد ہوئی لیکن ملک کا وزیر اعظم اسے بہترین حکمت عملی قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ “لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا”۔

اس بات سے پورے پاکستان میں ایک بھی سنجیدہ و صاحب عقل فرد یہ کہتا ہوا نظر نہیں آرہا کہ بقول وزیر اعظم “لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا”۔

واقعہ کوئی منٹوں یا سیکنڈوں میں تو ظہور پذیر نہیں ہوا تھا۔ اس کے آثار تو کئی دن پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حادثے نے جوخوفناک صورتحال اختیار کی اس کا اندازہ شاید پہلے سے نہیں لگایا جاسکتا تھا لیکن یہ بات تو طے تھی کہ ایسا کچھ ہونا ضرور ہے۔ یہ ہزاروں وکلا جو یاجوج ماجوج کی طرح پنجاب کے سب سے بڑے دل کے اسپتال کی جانب فوج ظفر موج کی شکل میں بڑھتے چلے آ رہے تھے، یہ بھی کوئی منٹوں سیکنڈوں میںاسپتال تک نہیں پہنچ گئے تھے اور نہ ہی ان کی سرگرمیاں کسی آتش فشاں کی طرح یک دم پھٹ پڑیں تھیں۔ یہ کوئی صور اسرافیل بھی نہیں تھا جو ہر وکیل کے کانوں میں اچانک پھونک دیا گیا تھا کہ وہ چیونٹیوں کی طرح اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل پڑے تھے۔ مختصر یہ کہ ایسا سب کچھ کئی دنوں کی منصوبہ بندی کے بعد ہی ہوا تھا۔ اس سب صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھی جناب وزیر اعظم کا یہ فرمانہ کہ “لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا”، ایک ایسا بیان ہے جو کسی بھی سینے میں دل رکھنے والے کو ہضم ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کوئی لاکھوں کا مجموعہ نہیں تھا، چند ہزار کالے کوٹ والے شیطانوں کا ٹولہ تھا۔ جس کو دو تین درجن پولیس والے بھی ناکام بنا سکتے تھے۔ اتنے پولیس والوں کا بھی بر وقت انتظام نہ کئے جانے کو بھی بہترین حکمت عملی کہنا اور وہ بھی ملک کے سب سے بڑے سربراہ کا، ایک افسوسناک بیان تو کہا جاسکتا ہے لیکن ہو ش مندانہ فرمان کسی طور بھی نہیں سمجھا جاسکتا۔

وزیر اعظم صاحب، آپ کے ملک کے وکلا اس درندگی کے بعد بھی اپنی درندگی پر شرمندہ دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کی درندگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ ملک کےاسپتالوں میں روز درجنوں افراد مرتے رہتے ہیں اگر پی آئی سی میں موجود چار چھے اور ہلاک ہو گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا اس کے باوجود بھی آپ یہی کہتے نظر آئیں گے کہ لاہور واقعے میں مؤثر حکمت عملی کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ میں تو پورے دردِ دل کے ساتھ یہی عرض کر سکتا ہوں کہ

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

حصہ
mm
حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں