ڈرامہ ، اسلام کا مذاق

اپنی آنکھیں کان منہ بند رکھو

اے پاکستانیوں. . . . . . .

قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا کیوں ضروری ہے۔۔۔

کیونکہ. . . . .. .

ہم جدید دور کے لوگ ہر چیز سے بے خبر ہیں۔ بہت معصوم ہیں اور گناہ ثواب، حرام ، حلال، سیدھی راہ اور بے راہواری میں فرق ہی نہیں سمجھتے۔

جیسےخلیل الرحمن قمر نے ایک ڈراما لکھا!” میرےپاس تم ہو”

جس میں ایک بے پناہ محبت کرنے والا شوہر اپنی بیوی کو بے حد خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے خوش کرنے کی کوشش میں رشوت تک لینے کو تیارہو جاتا ہے۔ لیکن اسے رب کا حکم نہیں ابا جی کا فرمان یادآجاتا ہے۔ اسکے دفتر میں نت نئے راستے رشوت کے دکھائےجاتے ہیں۔

اس کہانی میں میاں بیوی اور ایک بیٹے کی خوبصورت سی فیملی دکھائی گئی جو بعد ازاں مختلف موڑ اختیار کر گئی۔مہوش نامی عورت ایک امیر شخص کے پیچھے اپنے بے پناہ محبت کرنے والے شوہر دانش کو چھوڑ دیتی ہے۔ڈرامےمیں دکھایا گیا کہ لڑکی کے پاس حلال رشتہ موجود تھا۔ اس کے باوجود وہ حرام کی طرف راغب ہوئی ۔بیشک عورت شیطان کا آسان شکار ہے ۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ زانی عورت و مرد کو سنگسار کر دیا جاتا کیوں کہ قرآن میں یہی حد مقرر ہے ۔ مگر لمحہء فکریہ ہے کہ ہمیں اس چیز کی خبر ہی نہیں کہ زانی کی کیا سزا ہے۔

چلو شوہر نے دل پہ پتھر رکھ لیا تب بھی بیوی کو چاہیے تھا کہ اللہ سے رجوع کرتی ،مگر ایسا نہ ہوا۔ خیر ڈراما میں ایک موڑ یہ بھی دکھایا گیا کہ شوہر طلاق کا پروانہ جاری کرتا ہے تاکہ عورت دوسرے مرد سے شادی کر سکے ۔مگر عدت کا کیا؟ کیا ہم نے ہر شے کو مذاق سمجھ رکھا ہے؟عورت ،عدت ختم کیئے بغیر دوسرا نکاح نہیں کرسکتی ۔شوہر طلاق دینے کے بعد عورت کو دو ٹکے کی عورت کہہ دیتا ہے مگر خود کا کتنا ہاتھ تھا یہ نہ سوچا۔شک کرنا اور خود بھی بیوی کو اتنی آزادی دینا کیا یہ درست عمل تھا؟؟

اگر محبت میں ہر وقت جائز ناجائز خواہش پوری ہو تو کوئی بھی انسان ناجائز کی طرف راغب نہ بھی ہو، خود پرست ضرور ہو جاتا ہے۔۔۔۔

آج کل یہ ڈرامہ قبولیت کے رکارڈ توڑ رہا ہے۔

مگر ایک نا محسوس طریقے سے ہمارے معاشرے میں زناکاری عام کرنے اور نکاح کو غیر ضروری چیز بتا کر ایک ناجائز چیز کو عام اور رائج کیا جا رہا ہے۔ مہوش بنا نکاح کے غیر مرد کے ساتھ دوسرے ملک چلی جاتی ہے اور ا س سے شادی کا مطالبہ کرتی ہے۔جس کو شہوار ٹال دیتاہے۔

جونک کی طرح ہمارے بچوں اور نئی نسل سے تہذیب شرم و حیا، ایمان کی پابندی کو چوسا جارہا ہے کہ مادر پدر آزاد بن جاؤ۔

اوپر میں نے کہا کہ قرآن مجید پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ناظرہ تو ہم نے پڑھ لیا تو کیا ترجمہ جاننے کی کوشش کی؟اپنے آپ سے سوال کیجیے گا۔

شراب نوشی کرتے بار بار دیکھنا

کیا شراب نوشی حرام نہیں؟

ہمیں طلاق کے معاملات معلوم ہیں؟

محرم سے اکیلے میں ملنا کیساہے معلوم نہیں؟

کیا ہمیں عدت کے بارے میں علم ہے؟

کیا ہمیں حق مہر اور وراثت کا علم ہے؟

کیا ہمیں نکاح کے بارے میں معلوم ہے؟

پھر بنا نکاح کیے ایک ساتھ رہناکیا صحیح ہے؟

ہمارے دین اور اسلامی شریعت کو ایک طرف رکھ کے دین کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔

جب ہمیں اپنی زندگی کے بنیادی مسائل کی ہی خبر نہ ہو تو معاشرہ حلال حرام کا فرق نہیں جان پائے گا۔

ریاست مدینہ یوں ہی نہیں بن جایا کرتی ۔ہم اپنے اپنے طورپر اس ملک کے ذمہ دار ہیں، خراب معاشرے کے ذمہ دار اور سب سے بڑھ کر اپنے اعمال کے ذمہ دارہیں۔

ایک ضروری بات ہم ناروے کی واقعے کو لے کر قرآن نذر آتش کرنے پر جس قدر جذباتی ہوئے اور اس غیر مسلم کو بدعائیں دیں۔

لیکن. . . . . . . ؟؟

ہمارے ملک میں ایک مسلمان رائٹر نے دین اور قران کی آیات کا، اللہ کے احکامات کو تار تار کردیا۔ انکا مذاق بنا دیا توہمارے جذبات کیوں نہیں بھڑکے؟ اب تک یہ ڈرامہ کیوں بند نہیں ہوا۔یہ سوال اپنے آپ سے ضرور کریںکیونکہ کل قیامت میں ہم سب سے سوال ہوگا۔دفاع دین شریعت اور قرانی احکام کے لیے میں نے اپنا کیا کردار ادا کیا۔

اللہ پاک ہم سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں قرآن مجید سمجھنے کی توفیق دے آمین۔

جواب چھوڑ دیں