میجر شبیر شریف شہید (نشان حیدر)

سرُخ رو آفاق میں وہ ر ہنما مینار ہیں

روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

6 دسمبرکومیجر شبیر شریف کا48واں یوم شہادت تھا! آپ 28اپریل1943ء کو گجرات کے چھوٹے سے قصبے کنجاہ میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے سینٹ انتھونی اسکول سے اولیول پاس کیا۔آپکا تعلق پاکستان کے اُس عظیم راجپوت خاندان سے ہے جس نے مادروطن کومیجر عزیزبھٹی شہید (نشان حیدر)اور جنرل راحیل شریف جیسے نڈر بیٹے دیے۔شبیر شریف بچپن سے ہی خاموش اور سنجیدہ مزاج تھے جبکہ تعلیمی میدان میں سخت محنتی اوراساتذہ کرام کا احترام کرنے والےطالب علم تھے۔ آپ ابھی گورنمنٹ کالج لاہور میںزیرتعلیم تھے ،جب پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے جوائننگ لیٹروصول ہوا۔پاک فوج میں کیڈٹ کے طور پر شامل ہوئے۔

یہاں سے اپنے جنون کی بدولت9 اپریل1964میںکمیشن حاصل کیا بطور کیڈٹ ملٹری اکیڈمی کاکول سے اعزازی شمشیر حاصل کی۔ جوآپکی فیملی دوست احباب اورخود آپ کیلئے اس نوعمری میںکسی اعزاز سے کم نہ تھی۔آرمی میںآتے ہی انتہائی قلیل مدت میںکئی فوجی کورسز پاس کئے ۔جن میںویپنزکورس،انٹیلی جنس کورس اورپیراشوٹ کورس شامل تھے۔ آپکی ملازمت جوائننگ کے ٹھیک 1سال7ماہ بعدیعنی6ستمبر 1965کو پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ شبیرشریف اُس وقت سیکنڈ لیفٹینٹ تھے ۔اس جنگ میں آپ نے کشمیر میں جوڑیاںکے محاذ پرشجاعت کے لازوال کارنامے سر انجام دیے اور غازی لوٹے، بہادری کے اعتراف میںحکومت پاکستان نے آپکو ستارہ جرات سے نوازا۔میجر شبیر کا فوج میں آنے کا ایک ہی مقصد تھاشہادت، ابھی یہ خواہش پوری ہونی باقی تھی۔ وہ شروع سے ہی دشمن کے ساتھ دوبدو ہونے کاخواب دیکھ رہے تھے جو ابھی تک پورا ہونا باقی تھا ۔جوان سپاہی کی حیثیت سے تمام تر خوبیاں اور پاکستان کیلئے آپکی ذات میں پائے جانے والا جنونی پن افسرباخوبی پہچان چکے تھے۔

میجر شبیر شریف 1970 میں ایورشائن پینٹس کے ڈائریکٹر میاں محمد افضل کی دختر نیک اخترسے رشتہ ازواج میں منسلک ہوئے جن کا اسم گرامی روبینہ بیگم تھا۔جب 3دسمبر1 197 کوبھارت نے مغربی پاکستان پر اٹیک کیاتو میجر شبیر شریف کی کمان میں سکس الف الف رجمنٹ کو ہیڈسلیمان کے اہم مقام پربند کی حفاظت کیلئے بھیجا گیا۔دشمن کے علاقوں کو فتح کرنے کے کئی ٹاسک میجر صاحب کے پاس تھا۔جس میں بڑا ہدف ایک بند پر مستقل قبضہ جمائے رکھناتھا،پر اس سے پہلے ایک ایسی خطرناک نہر بھی عبور کرنا ضروری تھی، جو30فٹ چوڑی اور10فٹ گہری تھی، جسے دشمن دفاعی لائن کیلئے استعمال کر رہاتھا ،اس سے آگے پورے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھی ہوئیں تھیں۔اب وہ گھڑی آن پہنچی تھی، جسکا انتظار میجر صاحب پاک فوج میں رہتے ہوئے 7برس سے کررہے تھے، میجر شبیر شریف ایک ایک دشمن کی چیک پوسٹ میں گھس کر دشمن کو جہنم رسید کرنے کا عز م لیے آگے بڑھے۔

چنانچہ آپ نے 3 دسمبر کی سحر ہوتے ہی اپنی کمپنی 6 الف الف کے ساتھ مل کر خدائے رب کریم کے حضورسجدہ ریز ہوئے، اور اپنی کامیابی کی دعا مانگی سورج طلوع ہو چکاتھا ۔جوانوں کے ساتھ ملکر پورے علاقے کو اچھی طرح ذہن نشین کیا۔ اور دن بھر دوربین کی مدر سے بھارتی چیک پوسٹوں پر گہری نظر رکھی۔ دوپہر کو ٹیم کے ساتھ اپنے مشن کوفائنل کیااور فیصلہ کیا گیا کہ شام کو دشمن پر کاری ضرب لگائی جائے گی۔ابھی سورج مکمل غروب بھی نہیں ہوا تھا،پانی،آگ، خون اوربارود کا کھیل شروع ہو چکاتھا،دونوں جانب سے شدیدگولاباری ہورہی تھی، اسی اثنا میں میجر شبیر شریف اور ان جیسے چند جنونی حرمت وطن کی خاطر موت کی نہر میں کود پڑئے، دشمن کی تمام رکاوٹیں پائوں تلے روندتے ہوئے حیدر للکارشیرخداکے وارث نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے دشمن کے مورچوں میں داخل ہوئے بالکل اُسی طرح اپنے ازلی دشمن کو کاٹ کاٹ کر پھینک رہے تھے، جسطرح فتح خیبر کے موقعِ پر حضرت علیؓ نے مشرکین کفارکی گردنیں تن سے جدا کیں تھی۔پاک فوج کی اس علاقے میں موجودگی سے بھارتی فوجیوں کی بوکلاہٹ کا اب یہ عالم تھاکہ شام تک تمام مورچے خالی ہو چکے تھے، اس معرکے میں دشمن کے 43سپاہی مارے گئے اور چار ٹینک تباہ ہوئے ۔ 5 اور 6دسمبر کی درمیانی شب میجرشبیر شریف ایک مورچے میں داخل ہوئے، اور آسام کے کمانڈر کوجہنم واصل کیاجبکہ باہر ٹینکوں کی شدید لڑائی جاری تھی۔

دشمن کا ایک گولا سینے پہ آن لگایوں۶ دسمبر ۱۹۷۱ کو پاکستان کے اس عظیم ہیرو نے یوم شہادت نوش کیا۔آخر میںمیجر شبیر شریف کی وصیت:جو لیفٹیننٹ کرنل (ر)اشفاق حسین کی شبیر شریف کے حالات زندگی پرلکھی گئی کتاب ” فاتح سبونہ” میں درج ہے۔

“قصہ کچھ یوں ہے کہ شبیر شریف کے بچپن کاایک بہت گہرا دوست تنویر تھاوالدین نے اُسکی پسند کی جگہ پر شادی کرنے سے انکا کیاتوانتقاماــ تنویر نے خودکشی کر لی۔محاظ پر برسر پیکارشبیر کو اسکی موت کادیر سے علم ہواتو غم کی انتہا نہ رہی اس معاملے کاجلدی پتا لگ جاتاتو وہ اپنے جگری یار کویوں نہ جانے دیتا۔شبیر جب بھی فوجی سے چھٹی پر لاہورآتے تو تنویر کی قبر پر دعا کرنے ضرور جاتے۔ایک دن قبرستان میں مرحوم کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔ماں اپنے بیٹے کی حرام موت کے بعد ٹوٹ چکی تھی۔شبیر کو کہنے لگیں بیٹا خواب میں ملتا ہے تو بہت تکلیف میں ہوتا ہے۔علما ء نے کہاہے کہ اگرکوئی باعمل عالم یا شہیدتنویر کے پہلو میںدفن ہو تواُمید ہے حرام موت کی وجہ سے اس پر ہونے والی سختی کم ہو جائے۔شبیر یہ سن کر چپ چاپ چلا آیا۔جانے کس وقت وصیت لکھ دی کہ میں جنگ میں کام آجائوںتو دوست کیساتھ دفنا دیاجائے۔بعد ازشہادت شبیر کی وصیت کے مطابق دوست کو دوست کے پہلو میں دفنا دیا گیاـ”۔1977میں حکومت پاکستان نے میجر شبیر شریف شہید کو (نشان حیدر) کے اعلی ترین فوجی اعزاز سے نوازـا۔

محبتیں توفقط انتہائیں مانگتیں ہیں

محبتوں میں بھلا اعتدال کیا کرنا

“تدفین کے کچھ دن بعد تنویر کی والدہ نے خواب میں شبیر کو دیکھاکہ وہ جلدی میںایک بوری اٹھائے کہیں جا رہا ہے۔کچھ عرصے بعدتنویر اپنی والدہ کے خواب میں آیا تو پُر سکون اورہشاش بشاش تھا۔شاید شبیر اُسکے گناہ کا بوجھ کہیں دور پھینک آیا تھاـ”۔ اللہ کے راز کون پاسکتا ہے!

ہزاروں لالہ وگل ہیںریاض ہستی میں

وفا کی جس میںہو بو، وہ کلی نہیں ملتی

جواب چھوڑ دیں