ایمان ابھی باقی ہے

دکاندار نے آم نکالا، نرم کیا اور کھانے میں مصروف ہوگیا۔ میں کبھی دکاندار کی طرف دیکھتا اور کبھی گردن کو دائیں بائیں پھیر دیتا۔ دکاندار نے انگلیاں چاٹیں اور ہاتھ دھوئے بغیر مصالحے کی پڑیا بنانے لگا۔ میں دکاندار کی اس حرکت پر تلملا اٹھا، بندے کو اپنی نہیں دوسرے کی صحت کا تو خیال رکھنا چاہیے۔ مجھے اس حرکت پر غصہ آرہا تھا۔ جی چاہا کہ دو چار سنادوں مگر عمر کا لحاظ کرتے ہوئے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا اور چپ سادھ لی، اگلے روز اسی دکاندار نے پھر ویسی حرکت کی۔ آم لینے کے بجائے میں آگے بڑھ گیا، ادھر بھوک بھی ستا رہی تھی۔ سوچا قریبی ہوٹل سے کچھ کھا لیا جائے،ہوٹل ایک دکان میں بنا ہوا تھا، جیسے ٹیبل کی جانب بڑھا مکھیوں نے استقبال کیا۔ کھانے کے ٹیبلوں پر سالن بکھرا ہوا تھا، برتنوں پر چکنائی واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی، میں وہاں سے بھاگا اور دکان سے دو انڈے خرید کر گھر کی راہ لی۔

ایک درمیانے ہوٹل اور معمولی پھل فروش کی یہ حالت ہے جبکہ اس سے برا اور بدتر حال شہروں کا ہیں۔ شہر کے کسی بھی ہوٹل یا دکان پر چلے جائیں، گندگی کی انتہاء ملے گئی۔ آپ گوشت کے لیے کسی بھی دکان پر تشریف لے جائیں آپ کو مکھیوں کا ہجوم بھنبھناتا ملے گا۔ قصاب جس ہاتھ میں سگریٹ پھونک رہا ہے اسی ہاتھ سے گوشت بنادے گا۔ تندور والا جس ہاتھ سے نسوار رکھتا ہے اسی ہاتھ سے روٹی لگا کر تھمادے گا۔ ہوٹلوں پر گندگی کا راج ملے گا۔ یہ راج ہوٹلوں یا تندوروں پر ہی نہیں بلکہ ہر شہر ہر گلی اور ہرمحلے میں ملے گا۔ بارشیں شروع ہونے کی دیر ہے گلیاں، محلے حتی کہ شہر تک جوہڑ اور تالاب کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں جگہ جگہ تعفن اور بدبوں کے بھبکے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔ قربانی کے ایام میں آلائشیں سڑک کنارے سڑتی رہتی ہیں۔

کراچی جیسا شہر جو پورے ملک کو چلانے کے لیے انجن کا کردار ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے آج دلدل کا منظر پیش کررہا ہے۔ پورا شہر گندگی سے ابل رہا ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں مگر اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود کوئی بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام حکومت کی منتظر ہے تو حکومت کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام دھرے جارہی ہیں۔ کوئی بھی(عوام، حکومت) اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ہمیں یہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صفائی کی ذمہ داری سب کی ہے، ہم عوام اپنی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ ہمیں یہ روش بدل کر اپنی ذمہ داری قبول کرنی پڑے گی۔ من حیث القوم شاید ہم گندے لوگ ہیں۔ صفائی نہ صرف ہمارا قومی فریضہ ہے بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ شریعت اسلامیہ نے صفائی کو نصف ایمان کا درجہ دیا تو اس لیے کہ کئی برائیوں کا جنم گندگی سے ہوتا ہے۔ جب صفائیا ہوگی تو یقینا برائیاں خود با خود کم ہوجائیں گی۔ صفائی کا خیال رکھنا ہم سب کا یکساں فرض ہے اور اس کے لیے حکومت کو بھی اپنی ذمے داری مکمل طور پر ادا کرنی چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں