* لباس، تقویٰ مومن کی پہچان*

تقویٰ کا مادہ وقتی ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں بچنا, پرہیز کرنا, ڈرنا – اصطلاح شریعت میں گناہوں سے بچنا اور نیکی کا راستہ اختیار کرنا تقویٰ کہلاتا ہے -ایک مشہور عالم دین سید سلمان ندوی رحمتہ اللہ کے نزدیک ”تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان گناہوں سے نفرت کرتا ہے اور نیکیوں کی طرف رغبت رکھتا ہے -”

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت کعب الاحبار سے تقویٰ کے بارے پوچھا تو انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا ”کیا آپ کبھی خار دار راستہ سے گزرے ہیں؟” تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ”ہاں” پوچھا ”کیسے؟” فرمایا ”دامن سمیٹ کر -” حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا”یہی تقویٰ ہے ”-یعنی اس زندگی کی گہما گہمی میں مختلف انعات کے باوجود صراط مستقیم سے نہ بھٹکنا اور اپنے آپ کو امکانی حد تک خدا اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رکھنا یہی تقوی ہے-تقویٰ کا مرکز انسان کا دل ہے –

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ”اَلَّتقْوٰی ھَہُنَا” یعنی تقویٰ یہاں ہے -(مسلم) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ”جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو سارا جسم درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے -خبردار وہ دل ہے ”-(بخاری و مسلم)

تمام عبادات کا مقصود تقویٰ ہے -جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے -” اے لوگوں! تم اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ”-(البقرہ:21) فرمان الہیٰ ہے: ”بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے ”-برائیوں سے بچنا اور نیکیوں کی طرف رغبت رکھنا جو نماز کا مقصود ہے تقویٰ کہلاتا ہے -روزہ کے متعلق ارشاد ہے ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ”-(البقرہ:183)

حج کے متعلق ارشاد ہے ””اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے”(الحج:32) قربانی کا مقصود بھی تقویٰ ہے – اللہ تعالی کا فرمان ہے ”اللہ تعالی کو قربانی کے جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے”(الحج:37) عدل و انصاف کی روح بھی تقویٰ ہے -ارشاد باری تعالی ہے -اِعْدِلُوْاھُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ترجمہ: ”انصاف کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے ”(المائدہ:8)

قرآنِ مجید میں تقویٰ کا عام حکم دیا گیا ہے -”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ”-(آل عمران:22) ارشاد باری ہے -وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرَ ”تقویٰ کا لباس سب سے اچھا ہے ”(الاعراف:30)دُنیا ایک مسافر خانہ ہے اور یہاں راستے کا بہترین سامان تقویٰ ہے ارشاد الہیٰ ہے ”فَاِنَّ خَیْرَالزَّادِ التَّقْوٰی ”(البقرہ:197) ”بے شک بہترین زاد راہ تقویٰ ہے ”اسلام میں عزت و فضیلت اور بزرگی و برتری کا معیار رنگ, ذات پات, حسب و نسب یا مال و دولت نہیں بلکہ تقوی ہے -ارشاد ربانی ہے ” اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات:13) ” بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے ”-حجتہ الوادع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر اورکسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے- (بخاری)

تقویٰ کے اہمیت و فضیلت اس کے فوائد و ثمرات سے بھی ظاہر ہوتی ہے جو درج ذیل ہیں-تقویٰ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی صاحب تقوی کے ساتھ ہوجاتا ہے,اس کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے اور اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے -ارشادات ربانی ہیں:

”اور جان لو بے شک اللہ تعالی متقین کے ساتھ ہے”(البقرہ:194)

”اور اللہ تعالی متقین کا دوست ہے”(الجاثیہ:19)

”بے شک اللہ تعالی متقین سے محبت کرتا ہے”(التوبہ:4)

اللہ تعالی پرہیز گاروں کے کاموں میں آسانیاں اور سہولتیں پیدا فرما دیتا ہے –

”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کا کام آسان کر دیتا ہے (الطلاق:4)

اللہ تعالی متقین کی مشکلات دور فر ما دیتا ہے –

”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے مشکلات سے باہر آنے کا راستہ بناتا ہے ”(الطلاق:2)

صاحب تقویٰ کے لیے رزق کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ارشاد باری ہے ”اور اللہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا”(الطلاق:3)

تقویٰ سے انسان عقل و بصیرت بن جاتا ہے -جس کی بنا پر وہ حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے”اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمہیں فرقان(حق و باطل میں فرق کرنے کی صفت) عطا کرے گا (الانفال:29)

اللہ تعالی پرہیز گاروں کے گناہ معاف کر دیتا ہے ”اور وہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا (الانفال:29)

خدا سے ڈرنے والوں کو اعمال کی قبولیت کی خوشخبری دی گئی ہے ”اللہ تعالی متقین کے اعمال قبول فرماتا ہے”(المائدہ:27)

متقین پر برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ترجمہ:”اور اگر بستی والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکات(کے دروازے) کھول دیتے ”(الاعراف:94) آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں صرف اور صرف متقین کے لئے ہیں ارشاداتِ ربانی ہیں:

”اور عاقبت متقین کے لیے ہے”-(الاعراف:128)

”بے شک متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے”(الذاریت:15)

قرآن مجید میں متقین کی بہت سی صفات بیان کی گئی ہیں – سورت البقرہ اور سورت المومنون کی روشنی میں مختصراً چند ایک صفات درج ذیل ہیں -وہ غیب کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں -اس سے مراد یہ ہے کہ متقین اللہ تعالی, فرشتوں, رسولوں, آسمانی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں -غیب سے وہ پوشیدہ امور اور ان دیکھی حقیقتیں مراد ہیں جنکا ادراک انسانی حواس سے بالا ہے -جو تمام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آسکتے -ان کا علم ہمیں صرف انبیاء کرام کی وساطت سے ہوتا ہے -مثلاً خدا اور اس کی ذات و صفات, ملائکہ, وحی, جنت, دوزخ اور احوال قیامت وغیرہ -بقول مفسر ابن جریر رحمتہ اللہ” ان حقائق کو بنا دیکھے ماننا اور ان پر ایمان لاناہی ایمان بالغیب ہے”-

بقول اقبال خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ٰوہ نماز قائم کرتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں میں خشوع (عاجزی) کرتے ہیں – صلوۃ کے لغوی معنی دعا, برکت اور رحمت کے ہیں -اس کے معنی جلانے کے بھی آتے ہیں -گویا نماز وہ وصف ہے جو متقین کی دنیاوی الائشوں اور گناہوں کو جلا ڈالنے کے بعد انہیں کندن بنا دیتی ہے -اقامت صلوۃ کا مفہوم یہ ہے کہ نماز ظاہراً صیحح وقت پر باجماعت شرعی آداب و شرائط اور باقاعدگی سے ادا کی جائے-اور باٹنا خلوص, یکسوئی اور پورے خشوع و خاور کو ملحوظ رکھا جائے-

متقین زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں- اللہ تعالی نے جو رزق عطا کیاہے لفظ رزق اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے -ہر قسم کی خداداد نعمتیں اس میں شامل ہیں -ظاہری ہوں یا باطنی مثلاً مال, صحت, اولاد, حکمت, فہم و عقل گویا مال ومنال,جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی صورت میں جو بھی اللہ تعالی نے انہیں دیا ہے- اسے فی سبیل اللہ اپنے عزیزو اقارب اور معاشرہ کے مستحقین پر خرچ کرتے ہیں اور مخلوق خدا کی امداد کے لئے حسب استطاعت کمر بستہ رہتے ہیں –

اہل متقین اس پر ایمان رکھتے ہیں جوآ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اُتارا گیا اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قبل اُتارا گیا-متقین آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونبی برحق اور اپنا ہادی و رہنما مانتے ہیں اور قرآن مجید کے کتابِ الہیٰ ہونے کا یقین رکھتے ہیں -نیز یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن حکیم سے قبل نازل شدہ سبھی آسمانی کتب بھی الہامی اور من جانب اللہ ہیں-اس طرح متقی لوگ گروہی تعصبات سے پاک اور فرقہ پرستی سے بالا تر ہوتے ہیں –

متقین آخرت پر یقین رکھتے ہیں -آخرت سے مراد موت کے بعد زندگی ہے – آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کے سارے اعمال بے کار ہیں –

متقین وعدے کے پابند ہوتے ہیں -متقین کی اہم صفت وہ تنگ دستی, بیماری اورلڑائی میں صبر کرنے والے ہوتے ہیں -متقین میں ایک اعلیٰ صفت صداقت بھی پائی جاتی ہے-متقین اللہ سے ڈرنے والے لغویات اور فضول باتوں سے پرہیز کرتے ہیں- متقین خدا کا خوف رکھنے والے خلوت و جلوت میں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں- متقین امانتوں میں خیانت نہیں کرتے -متقین مشکوک اور مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ اس میں حرام چیز کے استعمال کا اندیشہ ہوتا ہے -رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:ترجمہ”جو شخص شبہ والی چیزوں سے بچا تو اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیااور جو شخص شبہات میں پڑا, گویا وہ حرام میں پڑ گیا-(بخاری و مسلم)

”متقی شخص وہ ہے جو شبہ پڑنے پر رک جائے ”-

سورۃ البقرہ میں رب کی طرف سے یہی لوگ ہدایت یافتہ اور کامیاب ہیں -دنیاوی کامیابی یہ ہے کہ انہیں ہدایت نصیب ہوئی اور ایمان کی دولت سے بہرہ مند ہوئے, اخروی کامیابی یہ ہے کہ انہیں روز قیامت اپنے اعمال کا پورا پورا صلہ ملے گا-ہمیں سورۃ الفرقان کی روشنی میں اپنے آپ کو سدھارنا چاہیے اور متقین کی روش پر چلنا چاہیے –

زمین پر عاجزی کے ساتھ چلنا چاہیے –

راتوں کو اللہ کے حضور عبادت و ریاضت میں کھڑا ہونا چاہیے اور اللہ سے گڑگڑا کے دعائیں مانگنی چاہیے –

فضول خرچی اور بخل سے بچتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے-

اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا اور نہ ہی کسی کا ناحق قتل کرنا چاہیے –

اپنے آپ کو زنا سے محفوظ رکھنا چاہیے –

جھوٹی گواہی اور تہمت سے پچنا چاہیے -اللہ تعالی ہمیں متقی و پرہیز گار بننے کی توفیق عطا کرے آمین

جواب چھوڑ دیں