سماجی رویے

تم نے اسے دیکھا تھا کیسے کپڑے پہن رکھے تھے۔ فلاں نے اپنی بہو سے اس قدر جہیز لیا ہے۔ وہ آج کل بہت مغرور ہوگیا ہے۔ تم نے دیکھا کتنی موٹی ہوگئی ہے وہ۔ سنا ہے ان دونوں میں طلاق ہوگئی ہے۔ سنا ہے لڑکی اچھے کردار کی نہیں تھی۔ ایسے کئی جملے ہم روز مرہ زندگی میں بولتے یا سنتے پائے جاتے ہیں۔ ہماری گفتگو میں استعمال ہونے والے یہ عام سے جملے اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ اب ہمارا ذہن انہیں برائی تصور کرنے پر آمادہ نہیں۔ ہم اسے حق رائے دہی خیال کرتے ہیں اور جو چاہتے ہیں بولتے چلے جاتے ہیں کیوں کہ اپنی جانب میںہم تو بس اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ چاہے وہ کسی کےبھی رشتے کے حوالے سے بات ہو یا کسی کے کردار کے بارے میں ، اپنی زبان کے چٹخارے کے چکر میں ہم اس بات تک کو فراموش کردیتے ہیں کہ ہم کسی کی کردار کشی کر رہے ہیں ۔بغیر یہ جانے کہ وہ کس حد تک قصوروار ہے اور اگر وہ قصوروار ہے بھی تو یہ حق ہمیں کس نے دیا کہ ہم چار لوگوں میں بیٹھ کر اس قسم کی گفتگو کریں۔ ہم اس بات کی اہمیت کو کیوں نہیں سمجھتے کہ ہماری زبان سے ا دا ہونے والا ایک غلط جملہ کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے۔ کسی لڑکی پر لگایا جانے والا بہتان اس کی زندگی جہنم بنا سکتا ہے۔

معاشرے میں پنپتی یہ برائی ہماری بڑھتی ہوئی منفی سوچ کا شاخسانہ ہے۔ ہم چند لوگوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کا مذاق اڑانا اسے نیچا دکھانا پسند کرتے ہیں اور اسے تفریح کا نام دے دیتے ہیں۔ کہیں اڑتی اڑاتی کوئی بات سنتے ہیں اور بنا تصدیق کیے مکمل وثوق کے ساتھ آگے پھیلادیتے ہیں۔ یقینا یہ شدید قسم کی احساس کمتری اور کم ظرفی کی علامت ہے کہ ہم کسی شخص کو تضحیک کا نشانہ بنا کر تفریح کا سامان کریں۔ ہم نے حوصلہ بڑھانے کے بجائے حوصلہ شکنی کو اپنا لیا ہے۔ کسی کا کندھا تھپتھپا کر اسے آگے بڑھانے کے بجائے اس کی ٹانگ کھینچ کر منہ کے بل گرا دینے کو کامیابی تصور کرنے لگے ہیں۔

معاشرے میں عام ہوتی یہ برائی اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ ہر کوئی اس میں مبتلا نظر آتا ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے جہاں ہر ایک فلاسفر و دانشور ہے۔ بوقت ضرورت وکیل اور جج بھی بن جاتا ہے۔ جہاں ہم کبھی بھی کسی کی بھی زندگی میں مداخلت کرکے رائے زنی کرسکتے ہیں۔

ان معاملات میں اگر کسی کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو سننے کو ملتا ہے توکیا غلط بات برداشت کرلیں؟ اب غلط کو غلط بھی نہ کہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھیے اسلام میں تنقید و اصلاح کا مناسب طریقہ بتایا گیا ہے جسے اپنا کر اگلے بندے کو شرمسار کرنے کے بجائے حقیقتا اسے اس کی غلطی کا احساس دلایا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے اصلاح کی نیت ہونا۔ ہم تنقیدی رویہ اختیار کرتے ہیں ، تنقید کرتے تو ہیں اگلے بندے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن اصلاح نہیں کرتے کیوں کہ در اصل وہ تو ہمارا مقصد ہوتاہی نہیں ۔ ہمارا مقصد کسی کو کمتر ظاہر کرنا اور اپنی برتری کی دھاک بٹھانا ہوتا ہے۔ اصلاح کرتے وقت بھی یہ بتانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ تم تو ایک ناکارہ انسان ہو، میری صحبت میں رہو توتراش کر ہیرا بنادوں گا۔

اگر اصلاح مقصود ہو تو مناسب طریقہ کار اختیار کر کے فرد واحد سے بات چیت کی جائے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ جس شخص سے بات کرکے اصلاح کرنی چاہیے تھی اس کے علاوہ ہر شخص تک وہ بات پہنچائی جاچکی ہوتی ہے۔ دور حاضر میںبلا تفریق مرد و زن ہر ایک اس برائی میں ملوث ہے ۔ چاہے ذاتی معاملات ہوں یا دینی و دنیاوی، سیاسی معاملات ہوں یا مذہبی ہم اسی روش پر گامزن ہیں۔ ذر ا ٹھرئیے! اور جائزہ لیجیے اپنی روز مرہ زندگی کا کہیں میں یا آپ بھی تو اس عادت بد میں مبتلا نہیں۔ یاد رکھیے یہ زبان ہی ہے جس کی آفات کے سبب نہ جانے کتنے لوگ روز محشر جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔ اس عادت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو مثبت سوچ کو اپنائیں، اپنا احتساب کریں، روز مرہ زندگی کا جائزہ لیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرکے دیکھیں زندگی آسان ہوجائے گی۔

نگاہِ عیب گیری سے جو دیکھا اہل عالم کو

کوئی کافر، کوئی فاسق، کوئی ز ندیقِ اکبر تھا

مگر جب ہوگیا دل احتسابِ نفس پر مائل

ہوا ثابت کہ ہر فرزندِ آدم مجھ سے بہتر تھا

جواب چھوڑ دیں