’’ اور ہم نے آپ کے لیے آپ ؐ کا ذکر بلند کیا‘‘

” اور ہم نے آپ کے لیے آپؐ کا ذکر بلند کیا۔ ” ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ” یقیناً بڑا احسان فرمایا اللہ نے مومنوں پر جب اس نے ان پر اِن ہی میں سے ایک رسولؐ بھیجا جو ان پر اللّٰہ کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے۔ انہیں قرآن اور حکمت (سنّت) سکھاتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ ” سورۃ آلِ عمران۔ 164۔ ہماری اس قدر خوش قسمتی ہے کہ ہمیں آحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم کا اُمّتی بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا۔ اس ذاتِ اقدس کا اُمّتی جو محبوبِ خدا ہیں۔ رحمت اللعالمین ہیں۔ وجہ وجودِ کائنات ہیں۔ یعنی یہ کائنات آپ ؐ کے لیے ہی اللہ رب العزّت نے تخلیق کی۔ ساری دنیا اس پاک ذات کی عبادت کرتی ہے ۔ یہ چرند پرند، یہ انسان و حیوان اس کی بڑائی بیان کرتے ہیں۔ اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ آپؐ سے محبت کرتا ہے۔ آپؐ پر درود و سلام بھیجتا ہے۔ہماری بساط ہی کیا ہے کہ ہم آپؐ کی تعریف بیان کر سکیں۔ آپؐ کی بڑائی کا ذکر کر سکیں۔ آپؐ کی تعریف اللّٰہ رب العزّت نے قرآنِ پاک میں کئی جگہ کی ہے۔

سورۃ الفتح آیت نمبر 29 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں، ” محمّد صلیّ اللہ علیہ و آلہ وسلّم اللہ کے رسول ہیں اور وہ سعادت مند (صحابہ کرام ؓ) جو آپ کے ساتھی ہیں کفّار کے مقابلے میں بہادر اور طاقتور (یعنی سخت) ہیں اور آپس میں بڑے رحم دل ہیں۔ آپ انھیں کبھی رکوع اور کبھی سجدہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے طلب گار ہیں۔ ان کے (ایمان و عبادات) کی علامات ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے نمایاں ہیں۔ ” حضرت ؐ 20 اپریل 570 عیسوی بمطابق بارہ ربیع الاوّل بروز پیر مکہّ شہر میں،  قریش خاندان  میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت عبداللہ کا آپ کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے انتقال ہو چکا تھا۔ جب آپؐ کی پیدائش ہوئی تو آپؐ کی والدہ بی بی آمنہ غم سے نڈھال تھیں۔ کچھ عرصے کے بعد  بی بی آمنہ بھی وفات پا گئیں۔ آپ ؐ کی پرورش کی ذمہ داری آپؐ کے دادا حضرت عبد اللمطّلب پر آگئی۔

جب آپؐ کی پیدائش ہوئی تو آپؐ کے دادا حضرت عبد المطّلب بے حد خوش ہوئے کیوں کہ آپؐ ان کے چہیتے بیٹے کی اولاد تھے۔ آپؐ کو گود میں لے کر کعبہ گئے اور آپؐ کی اچھی صحت اور سلامتی کے لیے دعا کی۔ اگرچہ وہ دورِ جاہلیت تھا اور عرب کے لوگ ہر طرح کی معاشرتی برائی میں ملوّث تھے۔ قتل و غارت گری، ڈاکہ ذنی، جوا کھیلنا، شراب پینا اور زِنا عام تھا۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود کعبہ مقدّس مقام سمجھا جاتا تھا اور اس کی حرمت تمام لوگوں پر فرض تھی۔ آپؐ کے دادا نے آپ کا نام ” محمّد ” رکھا جو اس زمانے میں بالکل عام نہیں تھا۔ محمّد کے معنی ہیں ، جس کی تعریف کی جائے۔ جب حضرت عبد اللمطّلب سے یہ نام رکھنے کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا، ” میرے پوتے کی تعریف پوری دنیا بیان کرے گی۔ یہ پوری دنیا میں مانا جائے گا۔”

یہ بات ایسی سچ ثابت ہوئی کہ آپؐ کا نام رہتی دنیا تک کے لیے زندہ و جاوید ہو گیا۔ آپ کی تعریف نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ غیر مسلموں نے بھی بیان کی۔  آپؐ کے زمانے کے کافر اور آپؐ کے مخالفین بھی آپؐ کی سچّائی اور امانت داری کے قائل تھے۔ آپ کو صادق اور امین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لوگ آپؐ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے۔  حضرت عبد اللمطّلب بھی زیادہ عرصے آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری نہ نبھا سکے اور انتقال فرما گئے۔ اس کے بعد آپؐ کی پرورش کی ذمہ داری آپؐ کے چچا حضرت ابو طالب نے اٹھا لی۔ اس وقت آپؐ کی عمر تقریباً آٹھ برس تھی۔ حضرت ابو طالب کی اپنی بہت سی اولادیں تھیں مگر وہ آحضرت ؐ کو ان سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔

 حضورِ پاکؐ نہایت سلجھی ہوئی طبیعت کے مالک تھے اور اپنی اچھی عادات کی بنا پر بچپن ہی سے ہر دلعزیز تھے۔ عرب کے رواج کے مطابق آپؐ نو عمری میں چرواہے کا کام کرتے تھے۔ جب آپؐ بھیڑ، بکریاں چرانے جاتے تو تنہائی میں عرب کے لوگوں کی حالتِ زار پر غور کرتے اور افسوس کرتے تھے۔ زرا، زرا سی بات پر ان کے درمیان سالوں جنگیں ہوتیں جن میں بے شمار لوگ اپنے جان و مال سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ رسول اللّٰہ صلیّ اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اہلِ عرب کی حالت بدلنا چاہتے تھے۔ جوان ہوئے تو رسول اللّٰہؐ نے تجارت شروع کی۔ کاروباری معاملات میں بھی آپؐ نہایت ایمان دار تھے۔ جس سے آپؐ کی نیک نامی میں اور اضافہ ہوا۔ آپؐ کی اچھی شہرت کی وجہ سے ایک دولت مند بیوہ حضرت خدیجہؓ آپؐ کی طرف متوجہ ہوئیں اور پہلے آپ کو اپنا سامانِ تجارت لے کر بھیجا پھر آپ سے شادی کی درخواست کی جو آپؐ نے قبول کر لی۔

جس وقت آپؐ کی حضرت خدیجہؓ سے شادی ہوئی آپؐ کی عمرِ مبارک بچیس برس اور حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس برس تھی۔ اس کے باوجود آپ دونوں کے درمیان بے پناہ محبت تھی۔  چالیس برس کی عمر تک پہنچتے، پہنچتے آپؐ کی اہلِ عرب کی حالت کو بدلنے کی خواہش شدّت اختیار کر چکی تھی۔ آپؐ کا زیادہ تر وقت غارِ حرا میں عبادت میں گزرتا خاص طور پر ماہِ رمضان۔ وہیں ایک روز جبرائیلؑ تشریف لائے اور آپ پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کی حالت بدل گئی۔ حضورؐ نے اللّٰہ کو پالیا اور اس کے حکم سے دینِ اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ اسلام جو کہ رہتی دنیا تک کے لوگوں کے لیے راہِ ہدایت ہے۔ ایک ایسا دین ہے جو فطرت سے قریب ترین اور سچّائی پر مبنی ہے۔ رسولؐ خاتم النبیّن قرار پائے۔ آپؐ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ نہ صرف آخری نبی ہیں بلکہ تمام پیغمبروں کے سردار بھی ہیں۔ اس کا ثبوت معراج کی رات آپؐ کا تمام نبیوں کی امامت کرنا ہے۔

 معراج کی رات آپؐ کو اللّٰہ رب العزّت سے با المشافہ ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا اور آپؐ وہاں سے مسلمانوں کے لیئے نمازوں کا تحفہ بھی لے کر آئے۔ آپؐ نے اپنی پوری ذندگی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ کسی کی حق تلفی نہیں کی۔ آپؐ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے۔ عفو و درگزر سے کام لیتے۔ اللّٰہ پاک نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔ آپؐ کا ہر عمل قرآن پاک کی عملی تفسیر تھا۔ آپؐ نے مسلمانوں کو قرآن اور اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے کی تاکید کی۔ کیونکہ قرآن میں اللّٰہ پاک نے ہمارے ہر مسئلے کا حل بتا دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر تمام دنیا کے کاغذات بھی سیاہ کر دیے جائیں تو حضورؐ کی تعریف بیان نہیں کی جا سکتی۔

نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رویوں کی ایک جھلک!

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:

”نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچّھے اخلاق والے تھے.”

] صحیح البخاری:

ام المومنین عائشہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

”آپ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم بھی عام انسانوں کی طرح ایک تھے، اپنے کپڑے جھاڑ لیتے, بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے تھے.”

(مسند أحمد)

جب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو ام المومنین خدیجۃ رضی اللّٰہ عنہا نے آپ کو تسلّی دیتے ہوئے فرمایا:

”اللّٰہ آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا؛ آپ رشتوں کو ملاتے ہیں, سچ بولتے ہیں, بوجھ بانٹتے ہیں، محروم کو عطا کرتے ہیں, مہمان کی عزت کرتے ہیں اور لوگوں کے کام آتے ہیں!”

( صحیح مسلم: )

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں:

”میں نے دس سال نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارے، آپ نے کبھی مجھے اُف نہیں کہا نہ یہ کہ

 فلاں کام کیوں کیا یا فلاں کام کیوں نہیں کیا؟!”

(صحیح البخاری)

امّ المومنین عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

”نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا مگر یہ کہ جب اللّٰہ کی حدود پامال ہوئیں تو اللّٰہ کے لیے انتقام لیا.”

( صحیح البخاری)

سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو ذر الغفاری  رضی اللّٰہ عنہما – بیان کرتے ہیں:

”نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان گُھل مل کر بیٹھا کرتے تھے. اگر کوئی اجنبی آتا تو اسے پوچھنا پڑتا کہ اللّٰہ کے رسول کون سے ہیں؟!”

(سنن أبی داؤد)

سیّدنا سہل بن حنیف رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں:

”نبی کریم صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کمزور مسلمانوں کے پاس آیا جایا کرتے تھے، ان کے مریضوں کی عیادت کرتے اور ان کے جنازوں میں شرکت کرتے.”

( مستدرک حاکم)

یہ کائنات کے سب سے عالی مرتبہ، معزز اور سب سے مصروف انسان کے رویّوں کی ایک ادنٰی سی  جھلک ہے۔ ہم رسولِ پاکؐ کے کفِ پا تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ ہم جو آپؐ کے ماننے والے کہلاتے ہیں کہاں تک آپؐ کی مانتے ہیں اس سے سب ہی واقف ہیں۔

درود اس پر، جسے شمعِ شبستانِ ازل کہیے

درود اس ذات پر، فخرِ بنی آدم جسے کہیے۔

جواب چھوڑ دیں