سیرت مصطفی

دنیا میں جتنے بھی انبیا کرام علیہم السلام تشریف لائے ان کا مقصد بعثت فقط پیغام الہی دینا نہ تھا بلکہ اس پیغام الہی کا قولی و عملی مظاہرہ بھی کرنا تھا۔ چنانچہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺنے بھی پیغام الہی یعنی قرآن مجید کی عملی تفسیر اور تعلیم و تشریح بھی پیش فرمائیں۔ اسی لیے قرآن کریم کو بغیر حدیث رسول و سنت نبوی کے سمجھنا مشکل ہی ناممکن بھی ہے۔ جس طرح قرآنی تعلیمات زندگی کے تمام گوشوں پر حاوی ہیں اسی طرح تعلیمات نبوی قدم قدم پر حیات انسانی کے لیے رہنما ہیں۔ ارشاد ربانی ہے، ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ موجود ہے“۔ (سورة الاحزاب)

جتنے بھی انبیا کرام علیہ السلام مبعوث کیے گئے تمام اعلی ترین اخلاق و کردار کا مجموعہ تھے مگر ان میں نبی اکرم ﷺ کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ آپﷺ مکارم اخلاق کا مظہر تھے۔ اسی لیے آپﷺ کا اسوہ حسنہ تمام لوگوں کے لیے علم و عمل کا بہترین نمونہ ہے۔ خود خالق کائنات کا ارشاد ہے، ” بے شک آپﷺ اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں“۔ آپﷺ کی ذات مقدسہ محاسن اخلاق کے تمام اوصاف سے مزین تھی یعنی حلم و عفو، رحم و کرم، عدل و انصاف، حسن معاملہ، صبر و قناعت، ایفائے عہد، صداقت و امانت، سخاوت، مساوات، نرم گفتاری، ملنساری، غم خواری تواضع و انکساری، حیا و سادگی کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔

تحمل و بردباری اور عفوو درگزر:

نبی اکرم ﷺ نہایت حلیم اور بردبار تھے۔ سخت سے سخت تکلیف پہنچنے پر بھی خفگی کا اظہار نہ فرماتے۔ اہل مکہ نے جب آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر تکلیفوں کے پہاڑ توڑے، طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں گئیں، کبھی پتھر برسائے گئے۔ طائف میں بھی جب چند شریر لڑکوں نے آپ پر پتھر برسائے یہاں تک کہ ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) اور جبرئیل امین بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کی کہ آپ ﷺ چاہیں تو میں کوہ اخشبین نامی پہاڑوں کو اٹھا کر ان لوگوں کے اوپر رکھ دوں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود قوت و اقتدار کے ان کو معاف فرمادیا اور اللہ سے ان کی ہدایت کے لیے دعا کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عففو و درگزر لاثانی ہے۔ فتح مکہ کے وقت نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان عالیشان اس کی مثال ہے، ”جو شخص ہتھیار ڈال دے گا، اس کے لیے امان ہے،جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا اس کے لیے امان ہے۔ جو کعبہ میں داخل ہوجائے گا اس کے لیے امان ہے۔ یہاں تک فرمایا، جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کے لیے امان ہے“۔ (بخاری جلد دوم)

واللہ ایسا درگزر کا معاملہ نہ کبھی سنا نہ دیکھا یہ فقط شان مصطفی ﷺہے کہ دشمن سامنے ہو اور بدلے کی قدرت بھی رکھتے ہوں اس کے باوجود درگزر کیا جائے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضورﷺ کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپﷺ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے، جس کے کنارے موٹے اور کھردرے تھے۔ ایک دم ایک اعرابی نے آپ کو پکڑلیا اور جھٹکے سے چادر مبارک کو کھینچا کہ حضورﷺ کی نرم و نازک گردن پر چادر کے کنارے سے خراش آگئی۔ پھر اس اعرابی نے کہا کہ اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے آپ حکم دیجیے کہ اس میں سے کچھ مجھے مل جائے۔ حضور رحمت عالم ﷺ نے جب اس اعرابی کی طرف توجہ فرمائی تو کمال حلم و عفو سے اس کی جانب دیکھ کر مسکرائے اور پھر اس کو کچھ مال عطا فرمانے کا حکم صادر فرمایا۔

شجاعت:

حضرت براءبن عازب اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بیان فرمایا کہ جنگ حنین میں بارہ ہزار مسلمانوں کا لشکر کفار کے حملوں کی تاب نہ لاکر بھاگ گیا تھا اور کفار کی جانب سے لگاتار تیروں کا مینہ برس رہا تھا۔ اس وقت میں بھی رسول اللہ ﷺ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ایک سفید خچر پر سوار تھے اور حضرت ابو سفیان بن الحارث رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ اکیلے دشمنوں کے دل بادل لشکروں کے ہجوم کی طرف بڑھتے چلے جارہے تھے اور رجز کے یہ کلمات زبان اقدس پر جاری تھے، ”میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں ہے۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں“۔ ( بخاری شریف جلد 2 ص 217)

سخاوت:

حضور اقدس ﷺکی شان سخاوت محتاج بیان نہیں۔ آپﷺ حد درجہ مہربان اور فیاض طبع واقع ہوئے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، ”نبی کریمﷺ تمام انسانوں سے زیادہ بڑھ کر سخی تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے کبھی کسی سائل کو جواب میں لا ( نہیں) کا لفظ نہیں فرمایا“۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کسی سائل کے سوال پر ہی منحصر نہیں تھی بلکہ آپﷺ بغیر مانگے بھی لوگوں کو اس قدر مال عطا فرمادیا کرتے کہ عالم سخاوت میں اس کی مثال نادر و نایاب ہے۔

ایفائے عہد:

ایفائے عہد اور وعدے کی پابندی بھی نبی اکرم ﷺکی ذات کا ایک عمدہ وصف ہے۔ اس خصوصیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کا خلق عظیم بے مثال ہی ہے۔ عبداللہ بن ابی الحمساءکا بیان ہے کہ ”اعلان نبوت سے پہلے میں نے آنحضرتﷺ سے خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کیا، پھر جو کچھ میں نے دینا تھا اس کا کچھ حصہ تو میں نے وہیں دے دیا اور کچھ ادا کرنا باقی رہ گیا، تو میں نے آپﷺ سے وعدہ کرلیا کہ میں اسی جگہ لے کر آتا ہوں۔ اتفاق سے تین دن تک مجھ کو اپنا وعدہ یا د نہ آیا، تیسرے دن جب وعدہ گاہ پر پہنچا توآپ ﷺ کو اسی جگہ منتظر پایا لیکن اس وعدہ خلافی سے آپ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔ صرف اس قدر فرمایا کہ، ”اے نوجوان تم نے تو مجھے مشقت میں ڈال دیا کیوں کہ میں اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں“۔ (ابوداو ¿د)

حیا:

حضورﷺ کی حیا کے بارے میں رب کریم ارشاد فرماتا ہے، ”بے شک تمہاری یہ بات نبی کو ایذا پہنچاتی ہے لیکن وہ تم سے حیا کرتے ہیں“۔ (سورة الاحزاب)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ آپ ﷺکی شان حیا کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، ”آپ کنواری پردہ نشین عورت سے بھی کہیں زیادہ حیادار تھے“۔ (بخاری جلد1)

بچوں پر شفقت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں، بڑوں ہر ایک سے شفقت و محبت سے پیش آتے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے کسی کو بال بچوں پر اتنی شفقت کرتے نہیں دیکھا جتنی رسول اللہ ﷺ کرتے تھے“۔ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ آپ ں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ، ”حضور میرے دس بچے ہیں، میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما“۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا“۔ (بخاری)

سادگی:

آپ ﷺکے گھر میں معاشرت نہایت سادہ تھی۔ خوراک و پوشاک، مکان و سامان، رہن سہن غرض حیات مبارکہ کے ہر گوشہ میں آپﷺ کا زہد اور دنیا سے بے رغبتی کا عالم اس درجہ نمایاں تھا کہ جس کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں آپ کی نگاہ نبوت میں مچھر کے پر سے بھی زیادہ حقیر تھیں۔ سادگی و بے تکلفی آپﷺ کا ہمیشہ سے معمول رہی۔ آپ اپنے گھر کے کام کرتے تھے، اپنے جوتے خود ٹانک لیتے تھے، اپنے کپڑے خود سی لیتے، گھر کے کام میں ہاتھ بٹایا کرتے۔ آپﷺ کو کبھی اس حال میں نہ دیکھا گیا کہ آپﷺ اپنے پاؤں لوگوں کے سامنے کرکے بیٹھے ہوں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ، ”حضورﷺ جس بستر پر سوتے تھے وہ چمڑے کا گدا تھا جس میں روئی کی جگہ درختوں کی چھال بھری ہوئی ہوتی“۔

الغرض نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ قابل تقلید و قابل عمل ہے۔ جس پر عمل کرکے دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کی جاسکتی ہے۔ عا دات مبارکہ ہوں یا معاملات آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کا ہر گوشہ حلم و بردباری سے مزین ہے۔ آپ ﷺ کا ہی کرشمہ ہے کہ اہل عرب جو جہل کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے انہیں راہ راست پر لاکر لوگوں کے لیے مثال بنادیا۔ اللہ کریم ہمیں بھی سیرت النبی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین۔

جواب چھوڑ دیں