وجہ رزق کی تنگی اور بے برکتی

آج ہر بندہ پریشان ہے بے چین ہے اور یوں ہر لمحہ ادا س بھی ہے ،کیوں؟ ہمیں سب سے پہلے خود اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے ۔ غور کیجئے صبح سے شام تک ہم کیا کرتے ؟24 گھنٹے کیسے گزارتے ہیں ؟ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیسے اور کتنے ادا کرتے ہیں ؟ روزی اور روزگار اور دکھاوے میں کیسے ہیں ؟ لوگوں سے تعلقات اور رویے،  پھر جائزہ لیں کہ ہم خود لوگوں کے ساتھ کیا رو یہ رکھتے ہیں ؟ اگر اپنے ضمیر سے پوچھا جا ئے تو واقعی احساس ہوگا اور ہر لمحہ اگر ہمیں یہ احساس ہو کہ رب مہربان ہی نہیں ہم پر نگہبان بھی ہے تو واقعی ہم اپنے آپ کو قصور وار پائیں گے۔ ہم کب اٹھتے ہیں کتنا گھر والوں کا ہاتھ بٹا تے ہیں ۔ فجر کی نماز، تلاوت ، اذکار اور اس سے پہلے جاگتے اور جائے نماز پر آنے سے پہلے ہمارا رویہ چھوٹے بڑوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟ پیار محبت سے دعاؤں کے ساتھ ایک دوسرے کو جگانے سے لے کر مسجد لے جانے یا  گھر ہی میں نماز پڑھنے کے بعد یگر معاملات میں اہل خانہ کے ساتھ کیسے تعاون کرکے مثال قا ئم کرتے ہیں یا اسکا الٹ کرتے ہیں ؟ ہر آنے والا دن زندگی کا خالی نیا صفحہ ہوتا ہے جو ہمارے لیے ایک رحمت سے کم نہیں اسے ہم کیسے شروع کرتے ہیں کیسے تمام دن میں بھرتے ہیں ؟ اس کا ہمیں پورا صحیح ادراک ہونا چاہئے ۔ ہماری نیک نیتی ہی ہمارے ہر کام کو آسان اور خوشگوار بنادیتی ہے ۔ اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی تعاون اور محبت کا احساس زندگی کو چار چاند لگا جاتا ہے خوشیاں جگمگانے لگتی ہیں ۔ یہ پھول جیسے بچے بڑے جب ایک دوسرے کی طرف محبت اور خلوص سے ایک دوسرے کے کاموں کو آسان بنانے میں لگے ہوتے ہیں تو وہ حسین ماحول جنم لیتا ہے جو زندگی کو ہر لمحہ مسرور توانا اور پرسکون بناتا رہتا ہے ۔ اسکول ہو کالج یا کوئی بھی ادارہ خلوص اور محبت ہمدردی سے کیا جانے والا ہر کام خود بولتا ہے اپنی قیمتی اور حسین تاثر چھوڑتا ہے ۔ بس نیک نیتی اور خد ا خوفی کی ضرورت ہر جگہ اوربر وقت درکار ہوتی ہے اور ہمیشہ اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی خوشی اور اطمینا ن کا خیال رکھتے ہیں ۔ اس کے لئے مشقت سے نہیں گھبراتے بلکہ  اپنے عمل سے دوسروں کو زندگی کا مقصد سکھاتے ہیں ۔ بچے اپنے بڑوں سے ہر چیز سیکھتے ہیں لہٰذا انہیں حقیقی رول ماڈلز کا پریکٹیکل ذاتی طور پر دکھا تے رہنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ معصوم بچے جو قدرتی رشتوں کی مضبوط کڑیاں ہیں ۔ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرجائیں گے ، یا کمزور پڑجائیں گے مطلب آئندہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نہ دکھائیں گے ۔ ان کی محبت ، کام ، خلوص میں وہ کشش ہی نہ ہوگی جو رشتوں کو مضبوطی دے بلکہ اس کی وجہ سے وہ خود اتنے کمزور اور اکیلے ہو جائیں گے کہ خود اپنے اور دیگر کے لیے ایک سزا اور ایک جرم بن جا ئیں گے۔ دنیا کی مشکلات سے بچنے کے لئے قر آن حدیث پر چلنا ہو گا سنت کو اپنانا ہوگا ۔ سوچئے کیا ہم ایسا کرتے ہیں ؟ ہر رشتہ اپنی جگہ مقدس ہے اہم ہے کیا ہم اسی اتنی اہمیت دیتے ہیں ؟ ایسا تو نہیں کہ ایرے غیرے اپنے بھائی اور سگا رحمی بھائی ہر جائی ! آپ کو معلوم ہے نا کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ  جس گھر کے دروازے  رشتے داروں کیلئے بند اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر تک اٹھنے کا رواج ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا  تو گویا ایسا کر کے ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ محنت اور محبت دونوں سی جی چرا کر بے برکتی کا شکار ہوگئے ۔  نہ ہمارے پیسے میں برکت ہے نہ وقت میں نہ خوشیوں میں ، ہم اپنے ہی سے ہر وقت ناراض اور اکھڑے ہوئے ہیں ۔ رزق تو بڑے وسیع معنی رکھتا ہے جس کا ذمہ رب نے لیا ہوا ہے پس ہمیں یقین ہونا چاہئے اس کے رازق ہونے کا مہربان اور قدر دان ہونے کا البتہ ہمیں اپنا حق عبودیت کبھی نہیں بھولناچاہئے اپنا احتساب کرتے رہنا چاہئے کہ یہی عمل میری روح کا سکون اور میرے دل کا قرار ہے تو سمجھو کہ میرا بیڑا پار ہے ۔ زندگی میں ہر رشتہ کو اہمیت دیں انکا حق احسن طریقے سے ادا کریں جانے کب یہ عمل کی مہلت رک جائے اور ہمارا رزق تھم جائے ۔ میرے والد صاحب مرحوم کو نہ جانے کیسے کیسے خدشات ہوتے ہونگے یا کیا ان کے تجربات ہونگے ۔ یا کیا ان کے ساتھ لوگوں کے اور ان کے لوگوں کے ساتھ روئیے  ہونگے؟ کہ وہ اکثر ایک شعر پڑھا کرتے تھے آج میں سوچتی ہوں کہ کیا وہ میرے لئے تو نہیں تھا کہ میں اکثر ان کو تھوڑا کم وقت دیتی تھی ۔ ہاں ان سے ڈرتی ضرور تھی۔ان کا ادب بھی کرتی تھی مگر نہ جانے کیوں میری نا اہلی تھی ، کم علمی تھی یا کیا تھا انکا شعر تھا کہ

غنیمت جانیئے مل بیٹھنے کو

جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے

اللہ ان کی مغفرت فرمائے  آمین۔ واقعی ایک لمحے کی خبر ہوتی ہے کہ فلاں گزر گیا ۔ فلاں چل بسا ۔ مگر اس فلاں میں ہم اپنا شمار کبھی نہیں کرتے ۔ ہمیں بھی احساس ہونا چاہئے کہ ہمیں فلاں بننے میں دیر نہیں ۔ اللہ واقعی مہربان ہے نگہبان ہے ۔ پس مہلت عمل کو مئوثر سنت اپنا کر بنائیں ۔

لطیف النساء

ناظم آباد کراچی

جواب چھوڑ دیں