میرے پسندیدہ شاعر

ہر انسان کی پسند مختلف ہوتی ہے اس پسند میں انسان کے مزاج کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے ۔ پسند کرنے والے کے مزاج اور شاعرکی شاعری میں کئی بنیادی باتیں مشترک ہوتی ہیں ۔ میرے پسندیدہ شاعر علا مہ اقبال ہیں بلکہ میرے ذہن میں علا مہ اقبال کی ذات اور ان کی شاعری کے متعلق کچھ ٹھوس وجوہ موجود ہیں جن کی بزرگی اور عظمت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتااور میں انہیں اسی لحا ظ سے پسند کرتی ہوں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اردو شاعری میں علامہ اقبال پہلے اور تا آخری عظیم شاعر ہیں ۔ جنہوں نے ایک خاص نقطہ نگاہ کے تحت شاعری کی ہے ۔ ان کی شاعری میں بے ربط خیالات نہیں ہیں بلکہ ان کے خیالات میں ایک فکری تسلسل موجود ہے ۔ اس فکری تسلسل کے پیچھے ایک خاص مقصد چھپا ہے ۔ وہ اپنے دعوے کے لیے عملی زندگی سے دلائل پیش کرتے ہیں ۔ خیالات کی دنیا میں کھو کر رہ جانے کے بجائے وہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا ذکر کرتے ہیں۔ اس تبصرے کے ساتھ ہی ساتھ وہ ایک صحیح قسم کی عملی زندگی کے اصول بھی بیان کرتی ہیں ۔ وہ ہمیں زندگی کی صحیح اہمیت اور وقعت سے روشنا س کراتے ہیں ۔ ان کے نزدیک صحیح زندگی کی ایک ایماندارانہ مسلسل کشمکش کا نام ہے ۔ وہ انسانی جلال و جمال دونوں کے قائل ہیں ۔ اقبال کے انسان جب میدان میں اترتے ہیں تو فولاد سے زیادہ سخت ہوتے ہیں لیکن عام زندگی میں ریشم کی طرح نرم اور خوش مزاج ہوتے ہیں۔

ہو حلقہ یاراں تو ریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

علام اقبال کا محبوب مثالی نہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والا ایک انسان ہے ۔ علامہ اقبال کے محبوب میں نزاکت کی جگہ توانائی کا احساس ہوتا ہے ۔ وہ حسین ضرور ہے مگر لاثانی نہیں وہ اپنے عاشق پر ظلم نہیں ڈھاتے ہیں بلاکہ عاشق صادق کی قدر کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال کا فلسفہ حیات مسلسل حرکت پر مبنی ہے ۔ ان کے ہاں سکون کے معنی موت کے ہیں ۔ وہ خاموش روح اور جامد زندگی کے قائل نہیں وہ زندگی کو رواں دواں اور متحرک دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کائنات کی ہر چیز متحرک اور رواں دواں انسان کو بھی اپنی زندگی کا ثبوت اپنی حرکت اور عمل سے دینا چاہئے۔ انسان کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تقدیر کو  کوسنے کے بجائے زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہئے ۔ علامہ اقبال ایک ایسے انسان ہیں جو عالمگیر برادری کے قائل ہیں ۔ وہ سب کو امن سے رہنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن جو لوگ ان کے امن کو توڑنے کی کوشش کریں ان کے خلاف صف آرا ہونے کے لیے بھی کہتے ہیں وہ نہ کسی کا حق مارتے ہیں نہ کسی کو اپنا حق ضبط کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ اپنے حق کے حصول کی خاطر مرجانا ان کے لیے معمولی بات ہے۔ علامہ اقبال کے خیالات کی طرح ان کی شاعری کی زباں بھی توانا ہے ۔ ہر شکوہ الفاظ پر معنی تر العیت علیحدہ علیحدہ اپنی شان کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ علامہ اقبال کا کلام پڑھتے وقت  مفہوم کے علاوہ بیاں کی توانائی سے بھی لطف حا صل ہوتا ہے ان کے اشعار ایک پہاڑی ندی کی طرح تیز و تند نظرآتی ہے ۔

علامہ اقبال کی شاعری اور پیغام صرف مسلمانوں کے لیے وقف نہیں بلکہ ہر انسان خواہ وہ کسی بھی مذہب یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو اس پر عمل پیرا ہو سکتا ہے ۔ اقبال ہر انسان کو بطور انسان بے انتہا عزت کرتے ہیں ۔ وہ انسان اور انسانیت سے پیار کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال کی شاعری میں ہر قدم ایک توانا اور صحت مندانہ زندگی ملتی ہے ۔ وہ ہمیں مرنے اور جینے دونوں کاڈھنگ بناتے ہیں ۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس زور بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

جواب چھوڑ دیں