پولیس اصلاحات ، خرابیاں کہاں ہیں؟؟؟

میرے ایک دوست  عاطف مسعود ، جو کہ ریڈیو ایکس ایل  (یو کے) کے سینئر آر جے ہیں۔ان سے  ایک  ملاقات  ہوئی ، میں نے ان سے پوچھا کہ وہاں کی پولیس کے بارے  میں آپ پاکستانی کیا کہتے ہیں۔ وہاں پولیس کا تفتیش کا طریقہ کار کیا ہے۔عدالتیں پولیس کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔کیا عوام پولیس سے تعاون کرتے ہیں۔کیا وہاں بھی سفارشی کلچر ہے۔کیا پولیس کو وہاں بھی رشوت دی جاتی ہے ، کیا پولیس وہاں بھی رشوت لیتی ہے۔کیا مجرموں کو پناہ دینے والے لوگ وہاں بھی موجود ہیں۔کیا عوام مدعی سے زیادہ ملزم کا ساتھ دیتے  ہیں ۔میرے اتنے سارے سوالوں کے بعد ان کا ایک معنی خیز جواب تھا ، آپ پاکستان کی بات کر رہے ہیں یا انگلینڈ کی۔ آپ نے جو سوال کیے ان کا وجود انگلینڈ میں کہیں نہیں۔ انگلینڈ کے عوام اپنی پولیس پر بے پناہ اعتماد کرتے ہیں۔جب پولیس کسی وقوعہ پر پہنچتی ہے تو عوام مطمئین ہو جاتے ہیں کہ ان کا کام میرٹ پر ہو گا۔پولیس کسی شخص کو آف دی ریکارڈ گرفتار نہیں کرتی ،  چاہے کسی نے کتنا ہی بڑا جرم کیا ہو۔ہتھکڑی کا استعمال انتہائی ناگزیر حالات میں کیا جاتا ہے۔  جب پولیس کسی کو حراست میں لیتی ہے تو ان کے گھر والوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ، فلاں شخص پولیس کی محفوظ حراست میں ہے ، اور اس پر یہ الزام ہے۔اس کے بعد وہاں کی پولیس ایسے شخص کو سرکاری وکیل مہیا کرتی ہے ، جس سے وہ اپنا سارا معاملہ ڈسکس کرتا ہے ـ اس کے بعد پولیس ، ملزم اور سرکاری وکیل کی موجودگی میں ایسے شخص سے دو گھنٹے آن دی ریکارڈ آڈیوویڈیو کے ساتھ ملزم کا بیان ریکارڈ کرتی ہے ، اس کے بعد ایسے شخص کو گھر تک باحفاظت پہنچانا پولیس کی ذمہ داری ہے ، البتہ ایسے شخص کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ متعین  حدود سے باہر نہیں جا سکتا ، جب تک پولیس اپنی چھان بین مکمل نہ کر لے۔ وہاں کا نظام ایسا بالکل نہیں کہ ایک شخص کے پولیس اسٹیشن پہنچنے سے پہلے ہی اس کے سفارشی پہنچ جائیں۔کوئی چوہدری نمبردار تھانے نہیں پہنچتا۔رشوت گناہ کبیرہ سمجھی جاتی ہے۔ملزم سے کیے  گیے دو گھنٹے کے سوالات  اور ان کے جوابات پر  پولیس تفتیش کرتی ہے۔اور انہی سوالات اور جوابات سے کھوج لگاتی ہے۔اور سارے حقائق عدالت کو دیتی ہے۔وہاں نہ کسی جھوٹے گواہ کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ سفارش کی۔عدالتیں پولیس پر اندھا اعتماد کرتی ہیں۔جب پولیس فائل عدالت میں پہنچتی ہے ، اسی فائل کو سامنے رکھ کر عدالتیں اپنا فیصلہ سناتی ہے،  وہاں کوئی ٹارچر سیلز نہیں ہیں۔میرے ذہن کے اندر بے تحاشا سوالات تھے۔لیکن جب وہی سوالات میں نے اپنے ادارے کو سامنے رکھ کر اپنے آپ سے کیے تو جوابات انتہائی مایوس کن تھے۔ ہمارے نظام کی خرابیوں کی وجہ سے  پولیس سارے غلط کام کرتی ہے ،  ہماری پولیس آف دی ریکارڈ گرفتاریاں کیوں کرتی ہے۔نجی ٹارچر سیلز کیوں بنائے جاتے ہیں۔سفارشی کلچر کا  میلہ تھانےمیں کیوں لگ جاتا ہے۔عدالتیں پولیس پر اعتماد کیوں نہیں کرتیں۔عوام پولیس سے کیوں نفرت کرتی ہے۔مجرم ، پولیس کسٹڈی سے زیادہ جیل جانا کیوں پسند کرتے ہیں۔ہمارے سرکاری وکیل کیا کردار ادا کرتے ہیں۔تفتیشی افسران ، دوران تفتیش غلطیاں کیوں چھوڑ دیتے ہیں۔عوام ججز کو کیسے خرید لیتے ہیں۔اس طرح کے اور بہت سارے سوالات میرے ذہن کو ٹارچر کر رہے تھے۔لیکن ان سب سوالوں کا میرے ذہن میں ایک ہی جواب تھا۔کہ شاید یہ سب ہماری ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے ـ ہم نے 1860 سے بنائے گئے رولز کو موجودہ حالات کے مطابق نہ ڈھال کر  نا صرف پولیس کے ادارے کو عوام کی نظروں میں بدنام کیا ہے،  بلکہ معاشرے کا اعتماد بھی یکسر کھو دیا ہے۔کمیونٹی پولیسنگ ختم  ہو چکی ہے۔ اگر ایک پولیس افسر سے کام اس کی انسانی بساط کے مطابق لیا جائے تو یقینا نتائج اچھے  ہوں گے۔ایک تفتیشی  افسر کو 30/40  مقدمات کی تفتیش جب ایک وقت میں دی جائے گی ، اور اس سے کہا جائے گا کہ ، 14 دن کے اند ر تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت میں بھیجیں ، تو وہ کیا کرے گا۔ کیسے میرٹ پر تفتیش ہو گی،  جس کو  سز ا کا ڈر ہو گا وہ اپنا کام جلدی میں مکمل کر کے جان چھڑائے گا۔ عدالتیں 14 یوم کے اندر پولیس سے میرٹ کی توقع کر کے خود کیس کو یکسو کرنے میں چار چار سال کیوں لگا دیتی ہیں۔ خرابی کہاں ہے ، پولیس میں نہیں ہماری عدالتوں میں نہیں خرابی صرف اور صرف ہمارے موجودہ نظام میں ہے۔ پولیس پر تنقید آپ کا حق ہے لیکن آپ اگرمدعی مقدمہ ہیں ، تو کیا آپ پولیس سے تب ہی خوش ہوتے ہیں جب تک آپ اپنی موجودگی میں ملزم کو چھتر نہ مروالیں۔کیا آپ کے گواہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر حقائق نہیں چھپاتے ، لیکن آنے والے دنوں میں اس بات سے کام نہیں چلے گا کہ پولیس کو مورود الزام ٹھہرا کر باقی سب بری الزمہ ہو جائیں ۔ کبھی کسی نے ریسرچ کی ہے کہ ایک مقدمے کی بہترین تفتیش کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔جتنا بوجھ ایک تفتیشی پر ہوتا ہے ، کیا وہ درست ہے۔کیا ا س کے اندر کوئی خود کار مشین یا روبوٹ نصب ہے۔ہماری اشرافیہ اور سیاست دانوں نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ڈی پی ا و صبح ایک کانسٹیبل کا تبادلہ کرتا ہے ، شام سے پہلے اسے سفارش کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑتا ہے۔ورنہ اگلے دن خود اس کا ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔فنڈز خوری روٹین کا مسئلہ ہے۔ کبھی انکوائری کی ضرورت پڑے بھی تو ماتحت اور رینکر کے گلے کاناپ لے کر اسے تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے ـ چند تجاویز پیش ہیں ، شاید اس سے بہتری کی گنجائش نکل آئے۔ٹرانسفر پوسٹنگ اور ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔تین بار سے زیادہ کانسٹیبل سے سنیئرز تک کےکسی فرد کو ایک جگہ ، یا تھانے میں تعینات نہ کیا جائے۔ تفتیشی افسران سے کارکردگی اور تفتیشی ورک انسان سمجھ کر لیا جائے۔عدالتیں 14 روز  کا ریمانڈ کم از کم دو قسطوں میں دیں۔مداخلت و سفارش کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کر کے قانون بنایا جائے۔رینکرز صوبائی کوٹہ کے افسران کو کوٹہ کے مطابق پوسٹنگ دی جائے۔کانسٹیبل سے آئی۔جی تک کے لیے پروموشن کا ایک اصول وضح کیا جائے۔تفتیشی افسران کو تفتیشی خرچ کی مد میں ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں،  اگر آج بھی پولیس کو یہ سہولتیں دی جائیں  ،  جدید سا ئنٹیفک طریقوں سے تفتیشی نظام متعارف کروائیں ،پولیس ملازمین کا معیار زندگی  بلند کریں ، ڈیوٹی ریسٹ اور چھٹی کا طریقہ کار مناسب بنایا جائے تو  یہ وہی پولیس ہو گی جو اپنا کام ایمانداری سے بھی کرے گی ، اور عوام کی توقعات پر پورا بھی اترے گی۔۔حکومت کو بھی چاہیے جھوٹے گواہوں اور کالی بھیڑوں کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ہر اندارج مقدمہ کی فیس ، مقدمے کے فیصلے تک رکھی جائے ، اور یہ فیس مدعی اور ملزم دونوں سے وصول کی جائے ،  اگر مدعی ملزم اندارج مقدمہ فیس نہیں دے سکتا تو حکومت ادا کرے۔ کیس کے فیصلے کے بعد وہ فیس بے گناہ کو واپس کر دی جائے۔ آپ عوام ایک کام کریں ،  باقی پولیس پہ چھوڑ دیں۔سفارش کی ضرورت صرف دو صورتوں میں ہوتی ہے۔

  1. جب آپ کو حق نہ ملے
  2. جب آپ اپنے حق سے زیادہ چاہتے ہوں

ایک کام آپ عوام کریں ، ایک ہم پولیس کرتے ہیں۔پہلی صورت ہم پیدا نہیں ہونے دیں گے ، دوسری  صورت آپ پیدا نہ ہونے دیںـ

جواب چھوڑ دیں