مذاکرات۔۔ یا۔۔ مذاق رات

جمہوری ممالک  کےحالات  کی کروٹیں بدلنے میں سب سے اہم کردار  سیاست کا ہوا کرتا ہے، اگر سنجیدہ سیاست سے کام لیا جائے تو  کیسے ہی مشکل حالات کیوں نہ ہوں ،  ان سے بخوبی نمٹ لیا جاتا  ہے۔  کیوں کہ ایک سنجیدہ سیاست  دان تجربات کی وادیوں اور گہرایوں میں اتر کر ایک ایسی  قیمتی اور مصالحاتی راہ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے  جس پر  اکثریت اس  کی حمایت پر مجبور ہو جاتی ہے۔  لیکن اگر انہی جمہوری ممالک  میں   غیرسنجیدہ سیاست کے بادل منڈلانے لگیں، اور اس کی طوفانی ہوائیں  ہرے بھرے اور خشک سب درختوں سے ٹکرا کر صرف اپنا وجود باقی رکھنے کی  خواہش میں گم ہو جائیں ، تو تب بڑی تباہی اور بربادی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تب بے گناہ لوگ بھی قاتل بے مہار کے ہاتھوں کو اپنے خون سے رنگ  لیا کرتے ہیں۔  بات مشکل ضرور ہوتی  ہے لیکن اگر بات  کو بتنگڑ  بنا لیا جائے تو حالات  کی کشیدگی کی طرف بہت زیادہ  وقت  درکارنہیں ہوتا ، حالات کسی کا  انتظار  نہیں کیا کرتے اور پھر انسان کے پاس سوائے افسوس کے کوئی شئے بھی باقی نہیں رہا کرتی۔

ہمارا ملک بھی ایک جمہوری ملک ہے، جس میں ہر شخص کو قانون  اور آئین کے دائرہ میں رہ کر  تنقید و تعریف کا حق حاصل ہے، اسے کسی بھی طور  طریقہ سے اگر روکنے کی کوشش کی جائے تو بسااوقات بڑے بھیانک نتائج  سے واسطہ پڑتا ہے۔  جیسا کہ آج کل ہمارا ملک بہت سی مشکلات سے دو چار ہے، کشمیر کا مسئلہ ،معیشت ، غربت ، مہنگائی،  تاجروں کی ناراضگی، ڈکٹروں کی آئے روز ہڑتالیں اور پھر اسی دوران  مولانا فضل الرحمن کے آزادی  مارچ یا دھرنا،  جو بھی ہو اس کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اسے  انتہائی سیاسی کشیدگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، اگر یہ کشیدگی  دن بدن زور پکڑتی گئی جیسا کہ ہو بھی رہا ہے کہ متحدہ اپوزیش  کے علاوہ حکومتی اتحادیوں سے بھی ملاقاتیں ہو رہی ہیں،  اگر ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ  نہ دی گئی تو ملک کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری  پھرشاید  چند مخصوص افراد پر ڈالنا درست نہ ہوگا۔

 اس  کشیدگی کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ  راہ نکالی جانی چاہیے ، تمنا بھی یہی تھی اور دعا بھی کہ مسئلہ کا کوئی حل نکل آئے،  اسی دوران ہمیں حکومت کی طرف سے یہ خوشخبری ملتی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو مولانا اور تمام اپوزیشن سے مذاکرات کر کے کوئی بیچ کی راہ نکالنے کی کوشش کرے   گی، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر  اجلاس میں کوئی یہ رائے بھی حضور کی خدمت میں پیش  کرتا کہ  جب تک حالات درست سمت پر نہیں آجاتے  کم از کم  حکومت کی طرف سے  کسی بھی ایسے رویہ سے پرہیز کیا جانا چاہیے جو مصالحت کی راہ میں رکاوٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو،  لیکن میڈیا پر وزراء کی طرف  سے آئے روز ایسے  بیانات  منظر عام پر آ رہے ہیں جو کسی صورت مذاکرات  کو کامیابی کو طرف لانے کی کوشش کے متضاد  دکھائی  دیتے ہیں،  اور تو اور  عمران خان صاحب نے خود  بھی کنوینشن سنٹر میں مولانا  کے لیے   ایسا  مضحکہ خیز رویہ ظاہر کیا  جو کسی بھی طور پر مصالحاتی نہیں دکھتا،  جس میں ظنز و استہزاء ظاہر تھا۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے،  جب کہ دوسری طرف   جے یو آئی (ف)  جو اس وقت تمام سیاست پر چھائی ہوئی ہے، جو  باوجود  چند سیٹیں لینے کے ، پوری اپوزیشن  کی نمائندگی کر رہی ہے، جو لوگ ملنے  نہ ملنے سےتذبذب کا شکار تھے، وہ بالآخر  کسی ایک بات کا حتمی طور پر اعلان کرنے میں کامیاب  ہو چکے ہیں، ان کی تمام پریشانی  یہ تھی کہ وہ جانتے ہیں کہ حالات جس طرف جارہے ہیں، اگر مولانا  نے اپنے جو اہداف متعین کر رکھے ہیں اور ظاہری طور پر وہ ان پر  کسی سے کوئی سمجھوتا کرنے پر بھی رضا مند دکھائی نہیں دے رہے، اگر وہ ان میں تن تنہا  کامیاب ہو جاتے ہیں،   تو پھر ان کی یہ کامیابی  اپوزیشن کی بڑی جماعتوں  کی   سیاست کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کےلیے یہ لوگ مزید متحمل ہونے کو تیار نہیں۔

اب اس تمام صورتحال کے پیش نظر ہم ان مذاکرات کے بارے میں کیا رائے قائم کر سکتے ہیں جن میں حکومتی افراد  خود  ہی ان مذاکرات کو ناکام کرنے کی بھر پور اور سر توڑ کوشش کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ دوسرے حضرات  پہلے بھی مذاکرات کی میز پر آنے سے انکار کر چکے ہیں، اور اب وہ حکومت کی ایک طرف مذاکراتی کمیٹی  تشکیل دینے اور دوسری طرف  اپنے رویوں پر احتیاط نہ برتنے پر بھی  خاصے برہم دکھائی یتے ہیں۔ اگر ایک طرف سے سخت رویہ ہے تو کم از کم ملک کی خاطر حکومت کے افراد برادشت سے کا م لے کر ملک کا پہیہ چلانے کے مشن پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے تلخ رویوں  سے پرہیز کریں تو شاید کچھ بن جائے۔ لیکن   اگر حکومت کے افراد  اسی طرح مذاکرات کی باتوں کو سائیڈ پر رکھ کر مذاق رات کی  طرح  دل بہلانے کی خاطر  مختلف  اور متضاد روپ میں اپنے آپ کو پیش کرتے رہے ، اور ان کے رویوں میں تضاد رہا، اور وہ سنجیدہ سیاست سے قاصر رہے،  تو اس سے کشیدگی کم ہوتی تو نظر نہیں آتی البتہ زیادتی کے امکان سے آنکھیں بند کرنا بھی بے وقوفی ہو گی۔

جواب چھوڑ دیں