امیدوں کے دیے

ٹرن-ٹرن فون کی گهنٹی مسلسل بجے جا رہی تهی اور میں صبح سے گھر کے کاموں میں منہمک تھی کہ

>> صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

>> عمر یونہی تمام ہوتی ہے

>> اف یہ کام کے اوقات میں فون !

بادل ناخواستہ بیزاری سے فون اٹهایا تو دوسری طرف کی آواز سن کر طبیعت ہشاش بشاش ہو  گئی۔   کیونکہ دوسری طرف ہماری یونیورسٹی کی پرانی دوست تهی-اس نے نیا گهرخریدا تها اور وه اپنے گروپ کی سب دوستوں کی دعوت کر رہی تھی ،ان دوستوں میں ایک دوست کینیڈا میں مقیم تهی ، وه آج کل پاکستان میں تھی  اور وه بھی دعوت میں آرہی تھی-ہماری دوست نے اپنا پتہ سمجهانے کی کوشش کی مگر اتنا آسان پتہ سمجھنے کی ہمیں قطعی ضرورت نا تھی  کہ مکان نمبر A123 تھا سو اس نے ہمیں راستے کی دو چار نشانیاں سمجھائیں اور فون بند کر دیا –

>> ناجانے بےفکری کا دور ہوتا ہے یا بے لوث محبت و خلوص کرنے والی دوستوں کا ساتھ یا دنیا کی بےثباتی سے دوری ۔ زمانہ طالب علمی ہی ہر انسان کی زندگی کا سنہرا دور ہوتا ہے-میں اپنے آپ کو اس معاملہ میں خوش قسمت گردانتی ہوں کہ مجھے ہمیشہ ہی اچھی دوستوں کی رفاقت نصیب ہوئی -باوجود گوناگوں مصروفیات کہ جب کبھی تنہائی میسر آتی دل سے یہ آواز نکلتی کہ

>> کہاں گئے میری مصروف ساعتوں کے رفیق

>> آواز دیتی ہیں تجھ کو تنہائیاں میری

>> جانے میں ہفتہ باقی تھا اور میں خوشی خوشی جانے کےوقت کا انتظار کرنےلگی۔ ایک دن پہلے ایک اچھاسا جوڑا اور پرانا موبائل فون نکالا ، بیٹےکو آواز دے کر بلایا کہ سم اس میں منتقل کر دو ، بیٹے نےاعتراض کیا ، امی اپنی دوستوں کہ پاس آپ پرانی چیزوں کے ساتھ جائیں  گی ہم   نےاسے ڈانٹا  پتانہیں ہمارے شہر کے حالات کیسے ہیں؟  خیر دوسرے دن ہم صبح گیارہ بجے گھر سے نکل گئے سواری کےلیے اور اپنی چہرہ شناسائی کی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک رکشہ کاانتخاب کیا کہ ان حالات میں یہی بہتر ہے-اس سے پہلے ایک کلو مٹھائی خریدی کہ بیچاری نے دعوت پر بلایا ہے-بیٹے کو بھی حفظ ما تقدم کے طورپر اپنے ساتھ رکھا – رکشہ میں سوار هوتے ہی دل زور سے دهڑکا کہ اس میں یہ مصرعہ  درج تھا

>> ادھر دیکھتے ہیں نا ادھر دیکھتے ہیں

>> بہرحال پهٹپهٹاتا  باادب رکشہ اور ہم محو سفر تهےاور وه اس تیزی سے چل رہا تھا کہ ہمیں اردگرد کی کچھ خبر نا تھی -رکشہ کبھی دائیں جانب تو کبھی بائیں جانب کروٹیں لینے کی کو شش کر رہا تھا -جب کہ ہمارےہاتھ  میں موجود میٹهائی کے ڈبے   کے گلاب جامنوں نے اچھل گود مچا رکھی تھی –رکشہ والے نے  پوچھا باجی کس طرف جانا ہے  سنہری  بینک کےپیچهے ہم  پر  اعتماد لہجے میں بولے -بس ذراآهستہ چلو- اچھا کسی سےپوچھ لیتے ہیں -ایک شخص سےپوچها تو اس نے کہا آپ لوگ کافی آگےآ گئے  ہیں – پیچھے -جا کر بینک  سے پیچھے  مڑجائیں-اب تو رکشہ ڈرائیور  کا پاره چڑھ چکا تھا اور ہماری نبضیں ڈوب رہی تھیں – بس باجی 50 روپے اور لوں گا ڈرائیور نے ہمیں متنبہ کیا -ٹهیک ہے لے لینا-ابھی اندر مڑے ہی تھے کہ سامنے پولیس اسٹیشن تھا ہم نے خِوشی سےنعره لگایا کہ بس اس کے قریب ہی  ہماری دوست نے نشانی بتائی تھی – اوئی پولیس اسٹیشن یہ تو ہر ایک کو پکڑتے ہیں  کہتے  ہوئے  ڈرائیور نے  رکشہ گلیوں میں بهگانا شروع کیا تو ہمیں وه مشکوک مجرم لگنے لگا-ڈرائیور کو روکا ادهرہی اتر گئے اس نے موقع سےفائده اٹهاتےہوئے  خوب کرایا وصول کیا- روڈ پر کهڑے ہو کر دوست کوفون کرنے لگے کہ دو  مشکوک شخص موٹر سائیکل پر سوار ہماری طرف بڑهے،  جلد بیٹے کا ہاتھ پکڑ کرگلی میں چلے گئے  کہ چهینا جهپٹی کرنےوالےنا ہوں-ابهی گلی کےاندر مڑےہی تهے کہ فون بج اٹھا -ہماری دوست ہمارے لیے پریشان تھی کہ باقی سب پہنچ چکے ہیں، ہم نے جلدی جلدی اپنی رودادسنائی کہ ہم اب فلاں جگہ کهڑے ہیں ، اس نے کہا بس یہی ٹهرو میں گاڑی میں لینے آتی ہوں -فون ہمارےہاتھ میں تھا کہ ایک ٹھیلے والےنے ہمارے قدیم پرس اور فون کو تکنا شروع کر دیا -خوفزده ہوتے ہوئے   ہم نے دوبارہ روڈکی راہ  لی-کہی  یہ ہمارا پرس ہی نا جهپٹ لے- اتنے میں ہماری دوست گاڑی لیکر آگئی – ہم کچھ دیر بعد اس کے گهر میں تھے اور خوف وطمانیت کے ملے جلے جذبات کےساتھ اپنی برسوں بچھڑی دوستوں سے  گلے مل  رہے  تھے ، ذرا خوف کم ہوا تو ہم سب نے خوب سیر حاصل گفتگو کی -موضوع گفتگو شہر اور ملک کے ابتر حالات تھے – ہماری دوست نے ایک پر تکلف ظہرانےکااہتمام کیاِ ہوا تھا –

>> مزیدار کهانا تناول کرنے کےساتھ ساتھ ہم سب نے ملکر ماضی کی یادوں کے دیپ جلائے ، مستقبل کی امیدوں کے دیے روشن کیے  اور دل سے دعا مانگی کہ اللہ تعالی ہمارے ملک کو پرُامن، خوش حال، اسلامی پاکستان بنا دے تاکہ ہم آزادی سے بغیر خوف کے اپنی زندگیاں گزار سکیں-ہاں خاص بات یہ کہ ہم نے تہیہ کیا کہ ہم سب کو اس میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔۔

جواب چھوڑ دیں