سوچنے کی بات ہے

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کرنے کے ساتھ اس میں کئی طرح کے احساسات بھی رکھے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اچھائی کی طرف بڑھتا ہے مگر کچھ لوگوں کو اس کی اچھائی برائی معلوم  ہوتی ہے۔ جانے ایسا کیوں ہوتا ہے۔ایک وقت آتا ہے وہ زندگی کے اس موڑ پر کھڑا ہوتا ہے جب وہ کوئی بھی اچھا کام کرے لوگوں کو برا ہی دکھائی دیتا  ہے ۔ اسی اچھائی اور برائی کی کشمکش میں انسان اپنی ذات کو بھول بیٹھتا ہے، اپنی ذات سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔یہ نفرت ان لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے جو ہمیشہ ہی اس کے بارے منفی تصورات اور خیالات رکھتے ہیں۔ ایک شخص میں جہاں بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں وہیں چند خامیاں بھی ہوتی ہیں ، مگر ان چند خامیوں کی وجہ سے  اس کی تمام خوبیوں کو  نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ہر شخص محض اس کی خامیوں  پر ہی نظر رکھتا ہے ۔

یہ بات درست ہے کہ جو شخص پسند نہیں ہوتا اس کی اچھائی کی نسبت خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں اور  یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک  وہ دنیا میں رہتا ہے ،مرنے کے بعد لوگوں کو اس کی اچھائیوں کا احساس ہونا شروع ہوتا ہے۔ پھر لوگ کہتے ہیں کہ اس میں فلاں اور فلاں خوبی تھی مگر تب وہ خوبی کسی کام کی نہیں ہوتی ۔ جب وہ آپ کے قریب ہوتا ہے آپ اس کی اچھائیوں کو نظر انداز کرتے ہیں، ہمیشہ اس کی برائیوں پر نظر رکھتے ہیں ، مگر اس کے جانے کے بعد اس کی تعریف کرنا اور اچھائیاں بیان کرنا کس کام کی؟ ۔بعض اوقات ایک شخص پوری زندگی تنگ دستی میں گزار دیتا ہے اور اسی تنگ دستی کے عالم میں  دنیا سے چلا جاتا ہے ، مرنے کے بعد لوگ دیگیں تو بانٹ دیتے ہیں مگر جب اس کو کھلانے کا وقت ہوتا ہے ،اسے کوئی نہیں کھلاتا۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا

جواب چھوڑ دیں