جانوروں سے بڑے گدھ

پوری دنیا کے علم میں یہ بات آگئی ہے کہ بے ضمیر مودی نے قریباً دو ماہ سے کشمیریوں کو غاصبانہ طریقے سے محصور کیا ہوا ہے اور دنیا محض تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ ایک بار ایک عظیم فوٹو گرافر نے کسی قحط زدہ علاقے کی تصویر بنائی جہاں دو ڈھائی سالہ ایک بچی بھوک سے نڈھال، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی بے بس مدحوش ، مرنے والی تھی قریب ہی ایک “گدھ”  جو مردوں کو کھانے  والا جانور ہے منتظر تھا کہ بچی مر کر گرے اور وہ اس کے جسم کو نوچ کھائے ۔ فوٹو گرافر کو جلدی تھی، ہیلی کاپٹر تیار تھا، اس نے فوٹو کھینچی اور تیزی سے ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ تصویر وائرل ہوئی ، دنیا بھر میں مشہور ہوئی ، فوٹوگرافر  کو پذیرائی ملی اور اسے انعام بھی ملا۔ مگر فوٹوگرافر بے چین ہو گیا، وہ یہ سوچ کر تڑپتا رہا کہ جہاں اس نے تصویر اتاری تھی وہا ں دراصل ایک نہیں دو گدھ تھے، ایک جانور گدھ جو بچی کے مرنے کا انتظار کررہا تھا اور ایک “انسانی گدھ “جو دو ٹکوں کی خاطر ایک معصوم جان کو بچا نہ سکا ،اگرچہ بعد میں لوگوں نے اس بچی کو اٹھا لیا، وہ چار دن مزید زندہ رہی پھر مر گئی، مگر فوٹو گرافر اپنی اس بے ضمیری کے صدمے کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے خودکشی کرلی ۔ دیر آئے درست آئے ،  احساس ہونا ہی ضمیر کی درستگی کی پہچان ہے ۔ آج جب میرے بے بس و بے کس مسلمان کشمیری بوڑھے ، بچے ، جوان ، عورتیں ، مرد سب جبراً محصور ہیں اور ممکن ہیں فاقوں اور تنگی کے باعث  ایک دوسرے کے مرنے اور سسکنے کی اذیتیں سہتے سہتے اس بچی کی طرح لاغر ہوگئے ہوں۔ جان کی حفاظت فرض ہے ،اس فرض کی خاطر صعوبتیں جھیل کر مرتے جارہے ہوں مگر ان 80لاکھ کشمیریوں پر تعینات یہ “ہندو  وڈیرے ”  جنہیں فوج کا نام دیا گیا ہے دراصل جانوروں سے بڑے بلکہ بہت ہی بڑے “گدھ ” ہیں  بے ضمیر، بے حس، انسانیت سے عاری ، بندوقیں تانے مظلوموں کی جان ، مال عزت آبرو کی مسلسل دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ انہیں اپنے انسان ہونے پر شرم آنی چاہئے اور ڈوب مرنا چاہئے .یہ تو وہ بزدل ہیں جو بندوقوں کے ساتھ بھی بے بس اور کمزور ہیں ۔ اپنی ہی زندگی میں اپنے ضمیر کو دھوکا دے کر ظالموں کی غلامی پر خوش ہیں ۔ واقعی انسان جانوروں سے بھی بدتر ہو گیا ہے ۔ جانور بھی بسا اوقات دوسرے جانوروں کی زندگیاں بچا لیتے ہیں، یہ درندے تو عقل سے عاری اور ضمیر سے خالی انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکا بنے ہوئے ہیں اور ظالم کی تابداری پر اڑے ہوئے ہیں ورنہ اگر انسانیت کا ثبوت دیں تو سب کے سب خود کو گولیاں مارلیں ، بندوقوں کا رخ ظالم مودی اور ظالم درندہ فوج پر کردیں اور انسانیت کا بول بالا کریں ۔ یاد رکھیں ظلم سے نفرت کی جا تی ہے ظالم سے نہیں ،یہ ظالم جو ظلم کر رہے ہیں کیا ان کے بڑو ں نے یہی سکھا یا ہے ؟ ظلم کے زور پر کوئی خوشحال زندگی گزار سکتا ہے ؟ دنیا کا ہر مذہب نیکی ، بھلائی اور انسانیت کی تعلیم دیتا ہے کہ معاشرے کا سکون زندگی کا چین اسی سے وابستہ ہے ورنہ اسکی زندگی مردار خور گدوں سے بھی بدتر ہے ۔ جائزہ لیں ،اپنا محاسبہ کریں کہ وقت تو گزر ہی جائے گا مگر مودی سرکار اور ان کے ان چیلوں سمیت تمام چیلوں کو بے وقعت کردے گا ۔

1 تبصرہ

Leave a Reply to ارم نفیس جواب منسوخ کریں