بے حسی کی انتہا

کشمیر سیونتھ ہم ایوارڈ ہر دوسرے ڈرامے کے بیچ میں اس کا اشتہار دکھایا جارہا ہے اربوں کا خرچ اس ایوارڈ کی تقریب میں ہوگا جو کہ ہیوسٹن میں منعقد ہوگا۔ میڈیا پر سارے اسٹارز اس کی تشہیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ یہ تقریب ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کشمیر کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہوچکی ہے سیکڑوں جنازے اب تک اٹھائے جاچکے ہیں، مائیں بہنوں کی عزتیں تارتار کی جا چکی ہیں، کس قدر بے حسی طاری ہے اس قوم پر معصوم بےگناہ لوگ چیوٹنیوں کی طرح مسلے جارہے ہیں۔ اپنی بقا کی جنگ اپنی مدد آپ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان پاکستان کہتے نہیں تھکتے اور ہم یہاں کروڑوں اربوں کا خرچ فحاشی عریانیت رنگ و موسیقی کی محافل پرکر رہے ہیں۔ مورخ کا قلم قرطاس پر جب مسلمانوں کی تاریخ رقم کرے گا تو لفظوں سے ٹپکتے خون ہماری بے حسی کی گواہی دینگے۔ انتہائی نازک اور سنگین صورتحال میں پاکستانی قوم کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ تاریخ گواہ ہے مسلمان جب کبھی رقص و موسیقی  اور رنگ و نور کی محفلوں غرق ہوئے کافروں سے بدترین شکست کا سامنا ہوا ہے دشمنوں کے دل و دماغ میں آگ لگی  ہے وہ اسلام کے روشن چراغ کو بجھانے کے درپے ہیں،  ہمیں متحد ہونا ہے کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اسلام کو اگر بچانا ہے تو کشمیر کو غاصبوں کے قبضے سے نکالنا ہوگا، اس کے لیے نوجوانوں کو رقص و سرور کی دنیا سے نکلنا ہوگا مجاہدانہ کردار پیش کرنا ہوگا ۔میڈیا جس طرح ہم ایوارڈ کو پروموٹ کر رہا ہے ایسے ہی کشمیر میں ہونے والے مظالم کو اجاگر کرے اور ان شوز پر اٹھنے والی کثیر رقوم کو کشمیر اور پاکستان کی بقا کے لیے وقف کرے  کچھ کر گزرنے کا وقت بہت کم ہے ۔اللہ آپ کی جگہ کسی اور کو کھڑا کر دیگا لیکن سوال تو ہوگا جب مسلمان کٹ رہے تھے سسک رہے تھے تڑپ رہے تھے تمہیں مدد کے لیے پکار رہے تھے اس وقت تم th hum Award 7کے ٹکٹ فروخت کر رہے تھے ۔

سوچیے یہی وقت سوچنے کا ہے اس کے بعد چار گز زمین بھی شائد میسر نہ ہو

‏ تم جس لمحے میں زندہ ہو

‏یہ لمحہ تم سے زندہ ہے

‏یہ وقت نہیں پھر آۓ گا

حصہ

جواب چھوڑ دیں