ڈاکٹر محمد یعقوب ،جہد مسلسل کی داستان

        اللہ تعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو اس طرح کی خصوصیات عطا کرتا ہے ،جو انہیں دوسروں سے جدا کرتی ہے۔علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ

 ”خداکے بندے تو ہیں ہزاروں ،بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا جسے خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

خدا کا ایک ایسا ہی بندہ ڈاکٹر محمد یعقوب بھی ہے۔آج سے 8دہائی قبل کشمیر کی وادیوں میں جنم لینے والے محمد یعقوب کے دل میں اللہ تعالیٰ نے شروع سے ہی خدمت کا جذبہ موجزن کردیا تھا۔بظاہر ناتواں نظر آنے والے اس شخص سے ملنے والا ہر شخص یہ بات بخوبی کہہ سکتا ہے کہ اس کے دل میں سوائے خوف خدا کے اور کسی کا ڈر نہیں۔تحریک آزادی کے دوران اپنے ڈنڈے کے ساتھ چھری باندھ کر تنہا گھومنے والے محمد یعقوب کا پاکستان کے ساتھ عشق ایمان کی حد تک ہے۔نوجوانی سے ہی لوگوں کے دکھوں کو اس نے اپنا دکھ سمجھا شروع کردیا تھا۔لوگوں کی تکلیف سے اسے اپنا جسم دکھتا محسوس ہوتا تھا۔وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو کسی کو مصائب میں دیکھ کر آگے بڑھ جائیں۔لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا اس کی سرشت ہے۔قیام پاکستان کے بعد حصول رزق کے لیے وہ پہلے آزاد کشمیر اور اس کے بعد روشنیوں کے شہر کراچی آگئے ۔مختلف ملازمتیں کرنے کے ساتھ ویٹرنری ڈاکٹر کا کورس بھی مکمل کیا اورسرکاری نوکری ملنے کے بعد خیبرپختونخوا کے ایک علاقے میں تعینات ہوگئے لیکن یہ نوکری اس کے مشن کے آڑے آرہی تھی۔وہ ایک مرتبہ پھر کراچی آگے۔
یہاں سے اس کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ا نہیں علم تھا کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ایک چھت کا ہونا ہے۔ا نہیں صرف اپنے مکان سے غرض نہیں تھی۔ا نہوں نے ہر در کھٹکھٹا یا اور اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں اراضی کا ایک حصہ غریب او ر متوسط طبقے کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔اورنگی ٹاؤن میں واقع کشمیر ٹاؤن انہیں کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ڈاکٹر محمد یعقوب نے اسی پر بس نہیں کی ،اب ان کی اگلی منزل اس اراضی کو آباد کرانا تھا۔وہ ایک اینٹوں کاتھلہ بناکر بیٹھ گئے،یعنی انہوں نے کاروبار بھی کیا تو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے۔لوگوں کو ادھار پر اینٹیں اور دوسرا سامان مہیا کیا جاتا تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا مکان بناسکیں۔ا نہوں نے نجانے کتنے بے آسرا لوگوں کو مکان کا مالک بنادیا۔ایک جانب لوگوں کی آبادکاری کا سلسلہ جاری تھا تو دوسری جانب و ہ ان کے روزگار کے لیے بھی سوچ رہ تھے۔وہ اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے رضا کار بانیوں میں سے تھے۔وہ وہاں بھی اپنی خدمات انجام دیتے رہے اوراورنگی ٹاؤن اربن کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل( یو سی ڈی) کی بنیاد رکھی۔ شروع کے ادوار میں مشرقی پاکستان سے ہجر ت کر کے آنے والے مہاجرین کی آباد کاری اور ان کی بحالی کا کام کیا اور یہ ادارہ اس زمانے میں خدمت کی ایک اعلیٰ مثال تھا ،جس کے تحت بے ہنر افراد کو کو ہنر مند بنایا گیا تاکہ وہ اپنا روزگار خود حاصل کرسکیں۔اورنگی ٹاؤن اربن کمیونٹی ڈویلپمنٹ کونسل (یو سی ڈی) کے تحت ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر ،اسکول ،ڈسپنسری ، انڈسٹریل ہوم ، کمپویٹر سینڑ ، جوڈو کراٹے ، اسپیشل بچوں کے اسکول وبحالی مرکز اور دیگر فلاحی کام انجام دیئے جاتے رہے اور ان کاموں کا سرخیل یہی ڈاکٹر محمد یعقوب تھے۔
ڈاکٹر صاحب کے لیے سیاست شجر ممنوعہ نہیں تھی۔اس لیے انہوں نے اس دشت میں بھی قدم رکھا اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے رہے۔ان کے سیاست میں سرگرم ہونے کی وجہ سے علاقے کی قسمت ہی تبدیل ہوگئی۔اس زمانے میں اورنگی ٹاؤن کسی جدید ترقی یافتہ علاقے سے پیچھے نظر نہیں آتا تھا۔پلاننگ کے ساتھ کی گئی آباد کاری ،پانی ،بجلی ،گیس ،سیوریج اور دیگر ضروریات کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کا جامع نظام ڈاکٹر محمد یعقوب کی اہلیت کو ظاہر کرتا تھا۔ڈاکٹر صاحب نظریاتی طور پر مسلم لیگی ہونے کے باوجود تحریک استقلال سے وابستہ تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے اپوزیشن میں ہونے کا حق ادا کردیا۔ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات بھی درج کیے گئے لیکن یہ ہتھکنڈے ان کے عز م میں کوئی شگاف نہیں ڈال سکے۔وہ جسے حق سمجھتے ہیں اس کا برملا اظہا ر کرتے ہیں۔مقدمات ،دھمکیاں اور گرفتاری کبھی انہیں راہ سے نہیں ہٹاسکیں۔انہوں نے انتخابات میں کامیابی اور ناکامی سے قطع نظر علاقے کے عوام کے مسائل کو حل کرانے کی حتیٰ المقدور کاوشیں جاری رکھیں۔

1985کے بعد جب شہر میں ایم کیو ایم کا طوطی بول رہا تھا اس وقت بھی ڈاکٹر صاحب جرات کے ساتھ اپنے نظریات پر جمے رہے۔کتنی ہی شخصیات ہیں جو ڈاکٹر صاحب کے سائے تلے زمین سے اٹھیں اور آسمان پر جاپہنچیں۔کتنے ہی عام لوگ ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی بدولت اعلیٰ ایوانوں کا حصہ بن گئے اور کتنی ہی افراد ہیں جن کو ڈاکٹر صاحب کی تربیت نے ایک منجھا ہوا سیاستدان بنادیا۔سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر عبدالرازق خان ،سابق رکن قومی اسمبلی آفاق خان شاہد،زاہد رفیق بٹ، کشمیر کے بزرگ سیاستدان حاجی زمان اور نجانے کتنے نام ہیں ،جن کو ڈاکٹر صاحب کی رفاقت حاصل رہی ہے۔ان کی شخصیت کا یہ خاصہ ہے کہ آپ ان سے اختلاف کے باوجود ان سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ہر شخص جانتا ہے کہ اس آدمی کے دل میں کھوٹ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم ہو یا پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علماء پاکستان،تحریک انصاف ہو یا پاک سرزمین پارٹی ،تمام جماعتوں کے رہنما اور کارکن ان کی بے پناہ عزت کرتے ہیں۔
ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔آج وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں ،جب عملی جدوجہد کرنا ممکن نہیں ہے اس کے باوجود انہوں نے غلط چیزوں کی نشاندہی کرنا نہیں چھوڑا ہے۔ان کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں اور کیوں نہ ہوں جو زندگی دوسروں کے لیے گزار ہو اس پر صرف اطمینان ہی نہیں فخر بھی بنتا ہے۔ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ اس معاشرے کے لیے اتنے ہی ضروری ہیں جیسے کسی انسان کو زندہ رہنے کے لیے سانس لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر ہمارے معاشرے کے لیے ”سانس” کی حیثیت رکھتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر آج اس عمر میں بھی جب ان کے لیے چلنا بھی محال ہے کوئی کسی مسئلے کے لیے ان کے گھر کے دروازے پر دستک دے گا تو ان کی پوری کوشش ہوگی کہ اس کومنع نہ کیا جائے۔وہ خدمت ایک ایسا مینارہ نور ہیں ،جس کی روشنی پورے اورنگی ٹاؤن کو منور کررہی ہے۔آج ڈاکٹر محمد یعقوب کی اولاد بھی ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ان کے ایک صاحبزادے کشمیر میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ان کے لیے بس یہی دعا کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔آمین

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں