قوتِ فیصلہ بڑھائیے

قوت فیصلہ سے عاری شخص کو جہاں اندیشے کا پوتا اور ڈرکا بیٹا کہا گیا ہے وہیں اسے تفکر کا پوتا اور تساہل کا فرزند بھی قرار دیا گیا ہے۔ ایک جھینگا مچھلی (Lobster)جب موجوں کی تھپیڑیں کھا کر ساحل کی ریت پر پہنچتی ہے تب وہ تذبذب کا شکار ہوجاتی ہے۔قوت فیصلے کے فقدان اور تذبذب کی وجہ سے اس میں سمندر میں شامل ہونے کا ذوق و شوق مفقود ہوجاتا ہے۔ عدم فیصلہ اور ارادے کی کمی کی وجہ سے وہ پانی سے دوری کا محض ایک دو گزکا فاصلہ بھی نہیں طے کر پا نے کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔تذبذب اور عدم فیصلہ کی وجہ سے وہ لہروں کی منتظر رہتی ہے کہ کوئی لہر آئے اور اسے سمندر میں شامل کردے۔ لہروں کا انتظار مشقت سے عاری فعل ہے جس کی وجہ سے وہ کوشش و جدو جہد کو ترک کرتے ہوئے لہروں کے انتظار کو ہی بہتر تصور کرتی ہے اور موت کی آغوش میں چلی جاتی ہے۔فیصلہ نہ کر پانے کی اسی حالت یا کشمکش کو قو ت فیصلہ کا فقدان کہا جاتا ہے۔ ایک آدمی بھی جھینگا مچھلی کی طرح فیصلہ کی گھڑی پر تاخیر،ٹال مٹول یا پھر کاہلی اور سستی کا مظاہر ہ کرتا ہے یقینا وہ بھی مصائب کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنی زندگی کی تباہی کا خو د ذمہ دار ہوتا ہے۔ زندگی کے کئی معاملات ہم سے عاجلانہ فیصلو ں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات حالات ہمیں غور و فکر کی بھی اجازت نہیں دیتے ہیں اور فوری فیصلے ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ہنگامی حالات میں  کئے جانے والے فیصلے بہت ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہنگامی فیصلوں کے نتائج کا راست اثر ہماری اور ہمارے افراد خاندان کی زندگیوں پر مرتب ہوتا ہے۔

زندگی میں ہر انسان کو متعدد بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں وہ صحیح فیصلہ کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔آدمی تذبذب کی کیفیت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے کسی قطعی رائے تک نہیں پہنچتا ہے۔تذبذب یا پس و پیش کی اس کیفیت کو قوت فیصلہ کی کمی یاقوت فیصلہ کا فقدان کہا جاتا ہے۔قوت فیصلہ میں کمی یا فقدان کا اہم سبب بچوں کی نا قص تربیت ہوتی ہے۔بچوں سے کیا جانے والا بے جا لاڈ پیار اور جائز و ناجائز مطالبات کی تکمیل کے علاوہ بچوں کی ضرورتوں کی تکمیل کا فریضہ دیگر افراد کی جانب سے انجام دینے کی وجہ سے بچوں میں سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے۔قوت فیصلہ کی کمی کی وجہ سے آدمی کی شخصیت مجروح ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہر بات پر دوسروں پر انحصار کرنے لگتا ہے۔چھوٹے موٹے کاموں کی انجام دہی میں بھی جب بچے دوسروں کے مشوروں اور رہنمائی کا طالب ہوجائیں تو ان کی دماغی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔کسی سے مشورہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔لیکن اس کو اگر عادت ثانیہ بنالیا جائے تو یہ بڑے خسارے کی بات ہوتی ہے۔ تذبذب کا شکار لوگ ذہنی خلفشار کا شکار رہتے ہیں۔تذبذب کی کیفیت میں الجھے ہوئے رہنے سے بہتر ہے کوئی فیصلہ کرلیا جائے خواہ وہ فیصلہ غلط کیوں نہ ہو۔ کیونکہ کوئی بھی فیصلہ ہم کو ذہنی خلفشارو ذہنی اذیت سے نجات دیتا ہے۔ہمیں بہر صورت اپنی زندگی کے کچھ نہ کچھ فیصلے کرنے ضروری ہوتے ہیں چاہے وہ صحیح ہو یا غلط اہم ہو یا غیر اہم۔لیکن جو شخص فیصلے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے۔ناکامی کے خوف کی وجہ سے اکثر ہم کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے ہیں۔ ناکامی کاخوف اکثر ناکامی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔جو لوگ ناکامی کے خوف سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے ہیں وہ پہلے ہی نا کام ہوجاتے ہیں۔اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر مرنا خوف کے عالم میں گھٹنوں کے بل کھڑے رہنے سے ہزار درجے بہتر ہوتا ہے۔ونس لولمبارڈی کے مطابق”جیت کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے لیکن جیت کے لئے تیاری کرنے کو کوشش کسی کسی کو ہوتی ہے۔“خطرے مول لینا ایک اضافی عمل(relative)ہے خطرے کا تصور مختلف لوگوں کے پا س مختلف ہوتا ہے اور تصور میں اختلاف کی وجہ تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ کوہ پیمائی ایک اناڑی اور ماہر کوہ پیما دونوں کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔تربیت یافتہ کوہ پیما یہ خطرہ غیر ذمہ داری کے ساتھ نہیں مول لیتا ہے۔ جب کہ کوہ پیمائی سے ناواقف آدمی تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے خود کو خطرات کی نذر کردیتا ہے۔ خطرے مول لینے کی بنیاد علم،تربیت،محتاط مطالعہ،اعتماد اور اہلیت پر منحصر ہوتی ہے۔غلطی سے خوف زدہ ہوکرکسی پر خطر کام میں ہاتھ نہ ڈالتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم صحیح ہیں۔بالکل نہیں،بلکہ ہماری یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔فیصلہ نہ کر نا ایک بیماری ہے جو ایک متعددی بیماری سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

کسی کسان سے ایک شخص نے پوچھا ”کیا اس بار تم نے گندم بویا ہے؟“کسان نے کہا نہیں مجھے خوف ہے کہ اس بار بارش نہیں ہوگی اور گندم کی کاشت کے لئے وافر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔“پھر وہ شخص کسان سے گویا ہوا ”تو کیا تم نے مکئی بوئی ہے جس کی کاشت کے لئے گندم کی طرح پانی کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی ہے۔؟“کسان نے جواب دیا”نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں کیڑے اور ٹڈی دل فصل کو برباد نہ کر دیں۔“”پھر تم نے کیا بویا ہے؟“ اس شخص نے کسان سے سوال کیا۔کسان کہتا ہے کہ نہیں میں نے کچھ بھی نہیں بویا ہے کیونکہ میں ہر گز خطرہ مول لینا نہیں چاہتا ۔“میں محفوظ رہنا پسند کر تا ہوں۔زندگی خطرات سے پر ہے کوئی بھی شخص دنیا میں محفوظ نہیں ہے۔ بیشک کشتیاں ساحلوں پر محفوظ رہتی ہیں لیکن کشتیاں ساحلوں کے لئے نہیں بنائی جاتی ہیں۔ کشتیاں سمندروں کے لئے اور طلاطم کا سامنا کرنے کے لئے ہی بنائی جاتی ہے۔جو زندگی میں کسی بھی جوکھم کو مول لینا نہیں چاہتا ہے ان سے کسی بھی عظیم کامیابی کی توقع رکھنا بیکار ہوتاہے۔ محدود بصیرت کے حامل افراد اعلی مقاصد اور اونچی منزلوں کو بالکل نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ شیو کھیر ا اپنے کتاب “YOU CAN WIN”  میں رقم طراز ہے کہ جو شخص خطرہ نہیں مو ل لیتا ہے وہ کچھ بھی نہیں کر پاتا ہے۔کیونکہ زندگی کے ہر کام میں خطرہ ہے۔ہمارا کوئی بھی فیصلہ یا عمل ہمیشہ درست اور صحیح نہیں ہوسکتا ہے۔زندگی کا ہر فعل اور فیصلہ احتمال سے پر ہوتا ہے۔لیکن طلبہ کو ہمیشہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب تک وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں کرتے انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔خود اعتمادی اور پرامیدی کی وجہ سے اکثر فیصلے درست ثابت ہوتے ہیں۔طلبہ خو د اعتمادی کو پروان چڑھائیں۔فیصلہ سازی کے وقت بے جا اندیشوں اور فکروں سے خود کو محفوظ رکھیں۔طلبہ کو زندگی کے اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور انہی فیصلوں پر ان کی زندگی کی خوشیاں اور مسرتوں کا انحصار ہوتا ہے۔کسی بھی فرد کے عروج و ترقی میں قوت فیصلہ کا اہم کردارہوتا ہے۔بروقت فیصلہ نہ کر نے کی وجہ سے آدمی زندگی میں پیچھے رہ جاتا ہے اور زندگی بھر کف افسوس ملتا رہتا ہے۔اساتذہ اوروالدین طلبہ کو حاضر دماغ بنا تے ہوئے بروقت فیصلہ کرنے کے متحمل بنائیں تاکہ وہ ناکامی اور محرومی سے محفوظ رہیں۔

قوت فیصلہ اور جلد بازی؛۔

مثل مشہور ہے کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ جلد بازی اکثر اوقات اپنے ساتھ بہت ساری خرابیاں لے کر آتی ہے۔جلد بازی سے مقدور بھر احتراز کریں۔کسی بھی فیصلہ سے پہلے عواقب و تنائج کا جائزہ لیں۔حسن و قبیح کے امکانات کو پیش نظر رکھیں۔فیصلہ سازی زمینی حقائق کو ذہن میں رکھ کر انجام دیں۔فیصلہ کی وجہ سے ہونے والے متوقع تبدیلیوں پر بھی غور و خوص کریں۔صرف امید اور آرزو سے حالات نہیں بدلتے ہیں بلکہ فیصلے پر عمل آوری ثمر آور ثابت ہوتی ہے۔فیصلہ سازی میں تاخیر بہتر نہیں ہوتی ہے جتنا جلد فیصلہ کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے۔عدم فیصلہ کی وجہ سے آدمی ہر وقت فکر و تردد اور تشویش میں میں مبتلا رہتا ہے۔فکر و تردد اور تذبذب کی کیفیت انسان کی ذہنی کارکردگی کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔تذبذب اور فکر و تردد کا شکار انسان اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے اور حالات کا سامنا کرنے سے بھی پہلو تہی کرتا ہے۔ماہرین نفسیات کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب تک انسان کسی بھی معاملے میں جب تک کوئی فیصلہ نہیں کر لیتا ہے تب تک اس کا ذہن اندیشوں اور خدشات کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اندیشہ ہائے گوناگوں کی بنا انسان اعصابی شکست و ریخت کا سامنا کرتا ہے اوراس کی وجہ سے جو ذہنی کلفت و اذیت اس کو ہوتی ہے وہ کسی غلط فیصلے کی وجہ سے ہونے والی تکلیف سے کہیں زیادہ خطرناک اور تبا ہ کن ہوتی ہے۔فرینکلن ڈی روز ویلٹ کا قول ہے ”ہمارے آج کے شک ہماری کل کی کامیابی کو ناکامی میں بدل دیتے ہیں َ“۔کامیابی کا دار و مدار فیصلے پر اور فیصلے کا دارو مدار عمل پر منحصر ہے۔اساتذہ اور والدین بچوں میں خو د اعتمادی اور فیصلہ سازی کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے امور کے فیصلے انہیں خو د لینے دیں اور کسی بھی غلط فیصلے پر ان کو متنبہ کریں اور اس کے عواقب و تنائج سے واقف کریں۔روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے امور جیسے کھانے کی اشیاء کا انتخاب،کپڑوں کا انتخاب،رنگوں کا انتخاب،کھلونوں کا انتخاب اورکھیلوں کے انتخاب میں آزادی فراہم کریں۔ لیکن ان کی رہنمائی و رہبری سے کبھی بھی سرمو انحراف نہ کریں۔اساتذہ اور والدین کا یہ عمل بچوں میں نہ صرف خوداعتمادی کے فروغ کا باعث بنے گا بلکہ ان کی قوت فیصلہ کو بھی پروان چڑھائے گا۔مائیکل اینجیلو جو عالمی سطح پر اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے لئے شہرت رکھتا ہے۔وہ مسلسل کئی دن سے ایک مجسمے پر کام کر رہا تھا۔ایک آدمی روزانہ جو مائیکل کے کام کو دیکھاکرتا تھا دل ہی دل میں سوچتا کہ مائیکل کسی غیر اہم کام میں مشغول ہے۔ایک مرتبہ اس نے مائیکل سے پوچھا کہ وہ کیوں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو اتنی اہمیت دیتے ہوئے اپنا وقت برباد کر رہاہے۔مائیکل نے نہایت خوب صورت اور تحریک سے پر جواب دیا۔”کاملیت (perfection)چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ہی ا بھرتی ہے۔ اور کاملیت کوئی چھوٹی شئے نہیں ہے۔“مائیکل کے جواب کی روشنی میں والدین،اساتذہ اور طلبہ فیصلہ سازی کو پروان چڑھانے والے چھوٹے سے چھوٹے فعل کو بھی ہر گز نظر انداز نہ کریں اگر وہ کاملیت کے متمنی ہیں۔طلبہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرتے ہوئے ہی کاملیت کی طرف قدم بڑھاسکتی ہیں۔

قوت فیصلہ کی کمی کے اسباب؛۔

قوت فیصلے کی کمی جو دراصل ایک قسم کی کمزوری ہے اور یہ کمزوری انسان کی عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔قوت فیصلہ کے فقدان کا راست تعلق کاہلی،سستی،تساہل یا پھر ناکامی کا خوف ہوتا ہے۔قوت فیصلے سے عاری افراد مستقبل کے ثمرات،حال کے نقصان یا اس کے برعکس حالات کے درمیان تمیز نہیں کر پاتے ہیں۔تساہل ہمیشہ تشکیک سے بھر ا ہوا ہوتا ہے۔شک دوطرفہ اثرات کا حامل ہوتا ہے۔مثبت شک آدمی کو کسی بھی فعل کی انجام دہی سے پیشتر عواقب و نتائج سے با خبر کرتے ہوئے احتیاط برتنے کادرس دیتا ہے۔ جب کہ شک کی منفی قسم انسان کو تساہل،تاخیر اور تشکیک کا خو گر بنا کر تبا ہ و برباد کردیتی ہے۔طلبہ اکثر کوئی ایک فیصلہ کرکے مطمئن اور خوش ہوجاتے ہیں۔وہ فیصلے کے مضمرات سے واقف نہیں ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے فیصلے کو نتیجہ خیز بنانے والے عوامل اور عناصر سے بے رغبتی برتے ہیں۔یہ فیصلہ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ کوئی طالب علم بنیادی تعلیم کے بغیر آئی آئی ٹی (IIT)میں داخلہ حاصل کرنا چاہتا ہو۔اکثر طلبہ قوت فیصلہ کی کمی وجہ سے تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور بروقت فیصلہ نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوسرے افراد کے مشوروں پر انحصار کر تے ہیں۔کسی طالب علم سے اگر پوچھا جائے کہ وہ کیا بننا چاہے گا۔وہ کہے گا کہ ڈاکٹر،انجینیر،آئی اے ایس،یا پھر ایم بی اے ایڈ منسٹریٹر۔کیونکہ ان کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر یاانجینیر بنیں۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے بھی رشتے داراور پڑوسی کے بچوں کی طرح ڈاکٹری،انجینیرنگ،سول سرویسیز کرتے ہوئے ملک یا بیرون ملک پر کشش تنخواہ حاصل کر تے ہوئے ایک آسود ہ زندگی بسر کریں۔بعض مرتبہ اسکول اور کالج کے اساتذہ بھی طلبہ کو اپنے مشوروں کے ذریعہ کسی ایک خا ص پیشے یا کورس کی طرف مائل کرتے ہیں۔آپ پوچھیں گے کہ اس بات میں کیا خرابی ہے؟عزیز طلبہ اپنے اہداف (targets)کے تعین سے قبل اپنی استعداد اور صلاحیتوں کو بھی پیش نظر رکھیں تاکہ آپ کی محنت ضائع نہ ہوں اور آپ مایوسی کا شکا ر بھی نہ ہونے پائیں۔کسی بھی کورس یا پیشہ کے انتخاب سے قبل اس کورس یا پیشے سے اپنی رغبت اوردلچسپی کا جائزہ لیں۔ جب ایک طالب علم کو اپنے پسندیدہ کورس (Triple E)ٹریپل ای میں داخلہ نہیں ملتا ہے۔اس کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی گروپ  اور کالج سے بی ٹیک کر لے۔لیکن طالب علم والدین کے مشورے کے برخلاف کامرس کورس کا انتخاب کرتا ہے۔ نامور ادارے سے کامرس میں ماسٹرس کی ڈگری اعلی اور اونچی پوزیشن سے حاصل کرتا ہے۔ وہ انجنیرنگ امیدواران کی فہرست میں آخری نمبر پر تھا جب کہ کامرس میں اس کو اعلی مرتبہ اور بہترین تنخواہ والی نوکری حاصل ہوجاتی ہے۔طلبہ مایوسی سے بچنے  کے لئے لمحہ آخر میں فیصلے کر نے میں جلد بازی سے اجتناب کر یں۔مستقبل کے تما م عواقب و نتائج سے باخبر رہیں۔ طلبہ انٹر میڈیٹ میں کسی بھی انٹرنس میں شمولیت کے وقت ہی دیگر امکانات کو زیر غور رکھیں تاکہ میڈیسن کے انٹرنس میں میڈیکل سیٹ نہ ملنے کی بنا پر اگریکلچر یا پھر ویٹرنیر ی یا کسی اور شعبے میں داخلہ کو کسیے ممکن بنا سکتے ہیں۔ فیصلہ سازی کے وقت نتائج سے باخبررہتے ہوئے بر ے تنائج سے بچا جاسکتا ہے۔بروقت فیصلہ سازی کے فقدان کو نفسیات کی زبان میں(Decidophobia)کہاجاتا ہے اور یہ کیفیت جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ لینے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔فرض کیجئے کہ ایک لڑکی ریلوے ٹکٹ کے لئے ٹکٹ کاؤنٹر پہنچتی ہے۔کاؤنٹر پر بھیڑ لگی ہوئی ہے۔وہ ایک گھنٹے تک انتظار کرتی ہے۔جب تک ٹرین بھی چلی جاتی ہے۔لڑکی کی ٹکٹ نہ خریدنے کی وجوہات میں بیان کردہ کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔  اس کا لڑکی ہونا،کاؤنٹر پر مردوں کی بھیڑ کی وجہ سے ٹکٹ خریدنے میں پس و پیش کرنا،یا پھر کسی سے درخواست کرنے سے بھی کنارہ کشی کر نا یاخوفزدہ ہونا،اسٹیشن آفیسر سے ٹکٹ کاؤنٹر پر بے ہنگام بھیڑ ہونے کی شکایت کرنے کی جرات نہ جٹا پانا،یا پھر ٹکٹ خریدے بغیر ہی سفر کے دوران ٹکٹ چیکر کو مطمین کرنے کی اپنے آپ میں صلاحیت کی کمی کا احساس جیسی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لڑکی کی ناکامی کی وجوہا ت خواہ کچھ بھی ہوں۔ایک عام آدمی بالکل اس لڑکی کی طرح  اس کو ملنے والے موقعوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔کاہل آدمی لمحہ آخر تک انتظار کرتے ہوئے جلد بازی اور دباؤ و تناؤ کے زیر اثر فیصلہ کر بیٹھتا ہے جو کہ جوکھم اور خطرات سے پر ہوتے ہیں۔

قوت فیصلہ کو کیسے مضبوط کر یں؛۔

قوت فیصلہ میں کمی کی وجہ ذہن کاتذبذب اور تشکیک میں مبتلا ہونا ہے۔ لامحدود افکار،تصورات انسانی دماغ میں ہر وقت لہروں کی شکل میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ان متحرک اور ابھرنے والا افکار،خیالات اور تصورات کی ترجیحاً درجہ بندی کرنا اور وقت ضرورت کسی ایک خیال،فکر یا تصور کا انتخاب کرتے ہوئے مقصد کے حصول کے لئے سعی و کاوش کرنا ہی کامیابی کی علامت ہے۔خواہش،تصور،خیال یا فکر کا انتخاب ارادہ کہلاتا ہے اورانسان اپنی قوت ارادی سے کام لیتے ہوئے خیال کو حقیقت کی صورت عطا کرتا ہے۔خیال کے خواہش اور خواہش کے ارادہ بننے میں جو طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اس میں قوت فیصلہ کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔طلبہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اگر وہ قوت فیصلے کی کمی کا شکا ر ہیں تو اس کے ازالہ اور سدباب کی بھی کوشش ان کو ہی کرنی ہوگی خود احتسابی کے عمل سے گزر نا ہوگا کیونکہ دنیا کے سارے رہنماؤ ں کی رہنمائی بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی ہے جب تک کہ آپ خو د کچھ نہ کر نا چاہیں۔طلبہ اپنے تما م مسائل کا حل تلاش کر یں ان کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کریں۔خوب سوجھ بوجھ کر فیصلہ لیں اور جب کوئی فیصلہ کر لیں تو اس پر قائم رہیں۔ضروری نہیں ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ درست ہو۔فیصلہ کے غلط ہونے کے احتمال کی بنا فیصلہ لینے سے گریز نہ کریں کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ آپ کو ایک نیا سبق اور تجربہ ضرور دے گا۔ غلط فیصلوں کو زیادہ اہمیت نہ دیں بلکہ ان سے سبق حاصل کر یں۔ خود کا ر تجربہ اکثر نقصان کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔اسی لئے طلبہ اساتذہ،والدین اور دانشوروں کے تجربات سے استفادہ کو اپنے پر لازم کر لیں۔فیصلہ سازی کے فقدان کی ایک بڑی وجہ دوسروں کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دینا اور اپنے فیصلوں کو بیکار سمجھنا بھی ہوتا ہے۔ مشورہ کرنا سنت ہے لیکن درست مشورہ بھی آپ اس وقت قبول کر پائیں گے جب آپ میں قوت فیصلہ کی صلاحیت موجو د ہوگی۔کسی بھی شخص کے فیصلے پر عمل پیرائی سے اگر آپ کو کوئی نقصان اٹھا نا اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تب آپ مشورہ دینے والے شخص کو قصوروار نہیں ٹھہر ائیں۔اپنی ذات پر یقین اور اعتماد زندگی کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک اہم اصول ہے۔ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت بہتر نتائج کے حصول کے متعلق فیصلہ ساز کا پر امید ہونا ضروری ہوتا ہے۔بے جا خوف و اندیشوں کی وجہ سے ہم بہتر فیصلے لینے سے قاصر رہتے ہیں اسی لئے فیصلہ کرتے وقت بے جا خوف اور اندیشوں کو ذہن سے نکال دینا بہتر ہوتا ہے۔ مایوسی اور تذبذب کو امید اور خود اعتمادی پر غلبے سے باز رکھتے ہوئے قوت فیصلہ کی صلاحیت کو بہتر بنا یا جا سکتا ہے۔مثبت رویہ قوت فیصلہ کو پروان چڑھانے میں نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔طلبہ مشکلات اور دشواریوں سے نہ گھبرائیں اور مصائب اور پریشانیوں کا پامردی سے مقابلہ کریں۔استقلال اور جوانمردی قوت فیصلہ کو مہمیز کرتی ہے۔طلبہ اپنے آرا اور نظریات کو اعتماد کے ساتھ پیش کریں۔اگرآپ کی کوئی بات یا رائے قبول نہ کی جائے تو دل برداشتہ نہ ہو اور نہ اس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔صاف گوئی سے کام لیں۔ کسی کی دل آزاری نہ کریں۔دوران گفتگو اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ایسی گفتگو قول اور وعدوں سے پرہیز کریں جس کو آپ پورا نہ کر سکیں۔تذبذب کی کیفیت،ذہن میں متضاد خیالات کا ہجوم،ناکامی کا خوف وغیرہ قوت فیصلے کی کمزور ی کا سبب ہوتے ہیں۔قو ت فیصلہ کو تیز اور موثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ذہن کو غیر ضروری اور فضول خیالات سے پاک و صاف رکھا جائے۔طلبہ اپنے ذہن اور رویے کو مثبت رکھیں کیونکہ مثبت ذہن ہی مثبت کردار کا عکاس ہوتا ہے۔

حصہ
mm
فاروق طاہر ہندوستان کےایک معروف ادیب ،مصنف ، ماہر تعلیم اور موٹیویشنل اسپیکرکی حیثیت سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ایجوکیشن اینڈ ٹرینگ ،طلبہ کی رہبری، رہنمائی اور شخصیت سازی کے میدان میں موصوف کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے فارغ ہیں۔ایم ایس سی،ایم فل،ایم ایڈ،ایم اے(انگلش)ایم اے ااردو ، نفسیاتی علوم میں متعدد کورسس اور ڈپلومہ کے علاوہ ایل ایل بی کی اعلی تعلیم جامعہ عثمانیہ سے حاصل کی ہے۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں