آئیے پہلے پاکستانی بنیں

ہم شرمندہ ہیں اقبال ہم تیرے نہ شاہین بن سکے نہ قائد کی امید۔
احتجاج ایک جذباتی کیفیت کا نام ہے اور آج کل کشمیر کے حالات کے پیش نظر ہر پاکستانی ایک غم و غصہ کی کیفیت سے دوچار ہے۔ اورہرجگہ مظاہرے جلسے ہو رہے ہیں۔آج کل ہر کوئی غم غصے کی حالت میں اپنے جذبات کا اظہار کر رہا ہے۔ ہماری نئی نسل جذبات کی رو میں فوراً بہہ جانی والی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کو میڈیا گوگل ٹی وی کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور اسی کے پیش نظر ہر بات کو دل مانگے more اور ابھی ابھی کرتی ہے۔جذبات میں آکربہت کچھ کہہ جاتے ہیں مگر کرتے نہیں
جسے کہ اقبال نے کہا
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
صرف زبانی کلامی باتیں نہیں اب عمل کی ضرورت ہے۔ ہم اگر واقعی سچے پاکستانی قوم ہیں اور واقعی مسلم اور کشمیریوں سے محبت کرتے ہیں۔72 سال سے ظلم سہنے والے کشمیری سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں تو پہلے اپنے اندر اور گھروں سے انڈین ازام کو نکالیں۔زبانی نفرت سے کچھ نہیں ہو گا عمل کرکے دکھائیں۔صحیح معنوں میں مسلم پاکستانی بنے ان کی اور ہماری ثقافت مین زمین آسمان کا فرق ہے مگر ہم نے ان کی برائی کو اپنا لیا۔اور شادی بیاہ کی رسموں فلم ڈرامے لباس عادت اور اب الفاظ بول چال میں بھی انکی اندھی گندی تقلید کی جا رہی ہے۔
کیونکہ ہم اتنے پاکستانی ہیں کہ بازار میں سبزی و فروٹ سے لے کے غرارے۔ شرارے۔ جیولری۔کولاپوری سینڈل انڈین ہے۔گھر اور دکان گاڑی میں انڈین گانے بجتے ہیں۔
ہم اتنے پاکستانی ہیں کہ ہر کمرشل انڈیا میں بنتا ہے چاہے باتھ روم صاف کرنا ہو یا شیمپو یا دودھ کا ایڈ ہو۔سب انڈیا میں بنائے جاتے ہیں ہمارا پیسہ انڈیا کو جارہا ہے۔پچھلے دنوں کچھ مصالحے لینے جانا ہوا تو وہاں پاپڑ جیسی ادنیٰ چیز بھی انڈیا کی دیکھی میں نے پوچھا تو بتایا کہ وہاں کے زیادہ مزے دار ہوتے ہیں۔حیرت ہے یہ مزے پاکستانی قوم کو لگائے کس نے؟ اتنی معمولی چیز کیا پاکستانی نہیں بنا سکتے؟انکی پروڈکٹ کیوں پاکستان آتی ہیں؟
کپڑے خریدنے جاؤ تو کہا جاتا ہے کہ آپ کوبہترین سوٹ دکھاتے ہیں بالکل جدید ماڈل ہے کسی دکان پر آپ کو نہیں ملے گا اور بمبئی سے منگوایا ہے انڈین شرارہ اور اگر کہو کہ بھئی پاکستانی غرارے شرارے دکھائیں تو دکاندار کہتے ہیں باجی آج کل تو یہ ہی لیڈیز کی ڈیمانڈ ہے۔
ہم اتنے پاکستانی ہیں کہ آپ کوئی بھی ٹی وی شو دیکھ لیں ڈانس ہوگا تو انڈین گانے پر گانے کا مقابلہ ہو گا تو انڈین گانا گایا جائے گا کیونکہ کسی کو پاکستانی گانے یاد ہی نہیں۔ فلمیں انکے ملک کی دیکھی جاتی ہیں۔ہیرو ہیروئن انکی پسند کی جاتی ہے یہ کیسی نفرت ہے؟ کیسی عداوت ہے؟ کہ دشمنی بھی کر رہے ہیں اور ہم خود ہی ان کو پروموٹ کر رہے ہیں۔
کیبل والے انکی فلمیں ڈرامے لگا رہے ہیں۔ان کے بیہودہ ترین ڈراموں نے پاکستان کی جڑیں ہلادی ہیں۔ ان ڈراموں کے ذریعے سازش حسد دھوکہ ہی سمجھایا گیا۔ایک گندہ کلچر کئی سالوں سے پاکستانی قوم کو دیا گیاجو ہماری گھریلو زندگی عورتوں اور بچوں کے ذہنوں کو دیمک کی طرح چاٹ کر کمزور کر گیا۔ ہماری روایت ہماری ثقافت ہماری پہچان ہماری خوبصورتی اور بچوں کی معصومیت سب اپنے ساتھ بہا کے لے گیا۔ ہمارے یہاں ان کے چینلز چل رے ہیں جب کے انڈیا میں پاکستان کا کوئی چینل نہیں دکھایا جاتا۔پھر ہم کیوں دیکھتے ہیں آج کل کے حالات کے حساب سے جو بیانات آرہے ہیں۔ہم انکی آنکھیں نوچ دیں گے۔ تو پہلے گھروں میں پڑی جیولری توڑیں۔ان کے ہاتھ توڑ دیں گے۔تو پہلے انکی گانے فلموں کی سی ڈی توڑ دیں اور ان دکانوں کا بھی بائیکاٹ کریں جو انڈیا کی چیزیں سیل کرتے ہیں۔
ہم اگر واقعی پاکستانی ہیں۔انڈیا کی ہر پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں۔صرف ہاتھ توڑدوں گا سے اب کام نہیں چلے گا۔عمل اپنے گھرسے شروع کریں اپنے گھروں کو انڈیا کے آسیب سے نجات دلائیں اور ہماری حکومت انکے تمام فضاء بحری روٹ بند کرے۔ اندرہی اندر ایسی چوٹ لگائے کہ دشمن کا وجود ریت کے ٹیلے کی مانند زمین بوس ہو جائے۔
پھر ہم فخر سے کہیں گے کہ ہاں ہم پاکستانی ہیں اور انڈیا ہمارا اور کشمیر کا دشمن ہے۔
اور اب لے کے رہیں گے کشمیر۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں