مسئلہ

آئن اسٹائن کا قول ہے کہ ایک ہی کام کو ایک ہی طریقے سے بار بار کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنے کمتر شعور سے پیدا کردہ مسائل سے نبرد آزما کیسے ہوسکتا ہے، شعور کی سطح کو کیسے بڑھایا جائے؟ وہ کیا محرکات ہیں جن پر عمل کر کے انسان اپنے شعور کو اس سطح پر لے آئے جہاں وہ مسائل کے انبار جو کہ کوہِ ہمالیہ کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ان سے نمٹ سکے؟

ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے پاس ہر حل کے لیے ایک مسئلہ ہوتا ہے، کوشش کریں ایسے لوگوں سے دور رہیں، حقیقت کی دنیا میں جینے کی کوشش کریں، بل گیٹس فکشن موویز نہیں دیکھتا نہ ہی فکشن پڑھتا ہے، بقول بل گیٹس فکشن انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے، کوئی بھی بڑا فیصلہ کرتے وقت جن عوامل کو مدنظر رکھنے کی آپ فہرست بنائیں ان میں سب سے آخر میں کہیں اپنی خواہش کو رکھیں، اپنے فیصلے میں سب سے پہلے حقیقت پسندی کو جگہ دیں، دماغ کا کام دل سے مت لیں اور دل کا کام دماغ سے مت لیں، جب درزی کا کام داعی سے اور داعی کا کام درزی سے لیا جائے گا تو  تنیجتاً وہی حال ہوگا جو حال اس وقت پاکستان کا ہے۔

اپنے فیصلوں کو لچکدار بنائیں، میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا بس بات ختم، یہ جہالت پر مبنی رویہ ہے اس سے جتنی جلد ممکن ہوسکے جان چھڑا لیں، زندگی میں کوئی بھی حرف حرفِ آخر نہیں ہوتا، انسان اپنے تئیں جتنے تیر چلا لے جتنے پہاڑ سر کرلے، مگر آخری فیصلہ قدرت کا ہی ہوتا ہے، انجام طے کرتا ہے کہ آپ نے زندگی میں کیا غلط کیا اور کیا صحیح کیا، تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ انجام آپ کے حق میں گواہی دے تو پھر اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے عمل کو تیز کیجئیے، عین فیصلے کے وقت اپنی خواہش کے تابع ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کو مد نظر رکھئیے، اکثر لوگ غلط فیصلہ بھی پوری نیک نیتی سے کر رہے ہوتے ہیں، با قاعدہ کہتے ہیں کہ میں نے تو پوری نیک نیتی سے کیا تھا اب نتیجہ غلط نکل آیا تو میں کیا کرسکتا ہوں؟ انسان پوری نیک نیتی کے ساتھ بسمِ اللہ پڑھ کر اگر زہر کا پیالہ پی لے اور کہے کہ میں نے تو نیک نیتی سے پیا تھا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ میری موت کا سبب بن جائے گا، تو خدارا اللہ پاک کا امتحان لینا بند کر دیں، اللہ نے عقل استعمال کے لئیے ہی دی ہے، مائنس ٹمپریچر میں اگر آپ برف بیچنے نکلیں گے تو برف نہ بکنے کا قصوروار آپ کی قسمت نہیں بلکہ آپ کی عقل ہوگی۔

حصہ
mm
ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں۔شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایک ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔.

جواب چھوڑ دیں