جسد واحد  

میں نے سقوط ڈھاکہ ہوتے نہیں دیکھا لیکن جب سے ہوش سنبھالا کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے بارے سنتے رہے ۔۔۔۔٦ ستمبر کا دن آتا تو دل میں ایک فخر اور ایک زندہ قوم ہونے کا احساس جاگتا۔۔۔ اپنے فوجیوں کی جوانمردی پر رشک آتا۔ اے راہ حق شہیدوں وفا کی تصویروں۔۔۔۔۔ سن کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلکنے لگتے ۔جب سولہ دسمبر کا دن آتا تو اس سانحے کے بارے میں سن کر اور پڑھکر دل خون کے آنسو  روتا ۔۔۔۔کیسے شاطر دشمن نے وطن عزیز کا دایاں بازو کاٹ کر پھینک دیا۔۔۔۔۔ ہمارے فوجی جوان جنھوں نے ٦٥ کی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ٧١ میں کس طرح جنگ ہار گئے بلکہ ٩٠ ہزار کے قریب فوجی جوان قید ہو گئے۔۔۔۔ دونوں جنگوں اور حالات کا تجزیے نے یہ بتایا کہ ہماری سپاہ کا مورال بہت بلند ہے ہمارے  فوجی جوان شہادت کا درجہ پانے کیلئے ہر لمحے تیار رہتے ہیں لیکن حکومت وقت اور جرنیلوں کے غلط فیصلے اور ناقص خارجہ پالیسی نے فوج پر ناکامی کا لیبل لگایا۔۔۔۔

لائن آف کنٹرول پر حالات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں سویلین  اور سپاہی  مسلسل انڈین گولہ باری کی زد میں رہتے ہیں ۔۔۔۔رائٹ ٹائم پر اسٹرائک نہ کرنے کے سبب آزاد کشمیر اور ملکی سالمیت خطرے بھی میں ہے ۔۔۔تو دوسری طرف دل اس بات پر جل رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ننھے اور معصوم بچے بھوک و پیاس سے بلک رہے ہیں۔۔۔١٠ محرم سے پہلے وہاں کربلا کے مناظر ہیں۔۔۔۔۔راشن اور ادویات کی قلت ہے۔۔۔عورتيں اپنے گھروں کی وحشت  سے گھبرائی اپنے مردوں کی واپسی کی دعائیں کررہی ہیں۔۔۔۔۔ مائیں اپنے بیٹوں کو رو رہی ہیں۔۔۔  اجتماعی عصمت دری اور خون ریزی کے واقعات ۔۔۔۔۔کرفیو پکڑ دھکر ۔۔۔۔۔گاؤں محلے جلا دینے  کے واقعات ۔۔۔

نبی محمدﷺ کی یہ حدیث کہ مومن تو جسم کی مانند ہیں ایک حصے کا درد دوسرا حصہ محسوس کرتا ہے۔ہم کس طرح مسلمان ہوسکتے ہیں کہ کرب میں مبتلا اپنے مسلمان بھائیوں کا درد محسوس نہ کریں۔

اماں روٹی۔۔۔۔اماں روٹی۔۔۔کیا ننھے حمزہ کی صدائیں میرے کانوں کو سنائی نہیں دیتی۔۔۔۔مدد کیلئے پکارنے والے حسن اور سعد کی صدائیں مجھے سنائی نہیں دیتی جنہیں  انڈین آرمی زدوکوب کرکے گاڑیوں میں بھر رہی ہے۔۔۔۔۔ انعم اور حبیبہ کی صدائیں مجھے سنائی نہیں دیتی جو مدد کیلئے پکار رہی ہیں جنہیں آر ایس ایس کے غنڈے نوچ رہے ہیں  عصمتوں کو تار تار کررہے ہیں ۔۔۔۔۔ہسپتال میں ننھے سعد کی ماں کی صدائیں سنائی نہیں دیتی جو دوائیں نہ ہونے کے سبب اپنے لخت جگر کی میت سے لپٹ کر رورہی ہے ۔۔۔۔پیلٹ گنوں اور بھارتی مظالم کے شکار معذور افراد کی صدائیں جو زندہ ہوتے ہوئے بھی مردوں سی زندگی گذارنے پر مجبور  ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں مجھے سنائی  دیتی ہیں۔۔۔ وہ آہیں وہ سسکیاں۔۔۔۔ بلکہ مجھے ہی نہیں مجھ جیسے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو سنائی  دیتی  ہیں۔۔۔۔نہیں سنائی  دیتی۔۔۔ ان حکمرانوں اور جرنیلوں کو سنائی نہیں دیتیں جو دنیا کی چھٹی بڑی آرمی اور ایٹمی قوت ہونے پر بھی جوانمردی کا ثبوت نہیں دے رہے۔۔۔۔جسد واحد ہونے کا ثبوت نہیں دے رہے۔۔۔ کہاں سے لائیں محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی جو آج کشمیری مسلمانوں کی مدد کیلئے کافی ہو جائیں ۔۔۔۔

حصہ

جواب چھوڑ دیں