میرا خواب

رات کا وقت تھا، آسمان تاروں سے بھرا ہوا تھا، روشن آسمان پر جگمگاتے جھلملاتے تاروں سے اپنا راستہ پوچھا۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، اور راستہ بہت خاموش اور پر سکون تھا۔ چلتے چلتے کافی دیر ہو گئی، مجھے محسوس ہوا کہ ہوا زور پکڑ رہی ہے۔ آسمان کی جانب دیکھا تو بے شمار تاروں میں سے بس دو تارے سہمے ہوئے نظر آئے۔ مجھے لگا کہ راستہ بھٹک گئی ہوں۔ دور کسی جگہ آگ دکھائی دی، راستہ پوچھنے کے لیے آگ کی طرف چل پڑی۔ جیسے جیسے قریب ہوتی گئی، آگ کا الاؤ بڑا ہوتا گیا۔ ہوا بہت گرم ہو چکی تھی اور ایک آندھی کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ اچانک چیخ و پکار سنائی دی، عورتوں کی، بہنوں کی، بس یہ آخری اونچائی تھی۔ اس کے بعد منظر صاف واضح تھا۔ بستی کو آگ لگی ہوئی تھی، بہت تیز، بہت اونچے شعلے، اور دل جل رہے تھے۔ تنکوں سے بنے گھر راکھ بن چکے تھے۔ اچانک اس شور کو دبا دینے والی لہر بلند ہوئی، پانی کا زور تھا کہ بستی سے ٹکرا گیا۔ لوگ کہاں ہیں؟ میری سوچ سے تیز وہاں کا منظر تھا، لمحوں میں بدل گیا، بے بس لوگ ہاتھ پاؤں مار رہے تھے، سہارے ڈھونڈ رہے تھے، ڈوبتے ہوئے ۔۔۔ سہارے تو جان بچا چکے تھے۔ آگ سے بھی، پانی سے بھی۔ ان کو کسی چیز نے تکلیف نہیں دی، سہارے تھے وہ، اسی لیے لوگوں کو مرتا چھوڑ دیا۔ مجھے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی، بھیڑیا ۔۔۔ میں جنگل کی طرف بھاگی، اونچے درختوں میں سے چھنتی ہوئی تیز دھوپ نے چہرہ جلا دیا، مجھے پیاس لگ رہی تھی، حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے لیکن دریا خشک تھا۔ جنگل میں موجود جانوروں کی آوازیں اس قدر بلند تھیں کہ میرے کان بج اٹھے۔ میں اندازہ نہیں لگا پائی کہ کون سا جانور کتنے فاصلے پر ہے۔ خون، ہاں اس درخت سے ایک کپڑا لٹک رہا تھا، تازہ خون میں لتھڑا ہوا، جیسے کسی کا بازو کٹ گیا ہو۔ میرے سر سے کچھ ٹکرایا تھا، جیسے کسی نے نشانہ لے کر مارا ہو۔ مگر مجھے کیوں مارا؟ بند ہوتی آنکھوں نے جواب دیا کہ شائد ہم نے کوئی حقیقت جان لی ہے۔

آنکھ کھلی تو خود کو اپنے کمرے میں پایا۔ ہر طرف کاغذ بکھرے ہوئے، لیکن میرے سامنے میز پر صرف ایک کاغذ تھا، اس پر عنوان لکھا ہوا تھا “میرا خواب”۔ اور جب اپنا خواب بیان کرنے کے لیے قلم اٹھایا تو ۔۔۔ میرا قلم خاموش ہو چکا تھا۔

میرا قلم خاموش ہو چکا تھا!

حصہ

جواب چھوڑ دیں