کراچی لاوارث!

ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں عید الاضحی اور قربانی کا فریضہ مذہبی جوش و جذبے سے منایاگیا۔ لاکھوں مسلمان جدِ امجد حضرتِ ابراہیم(علیہ السلام)اور فرزند حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی یاد میں اللہ کے حضور اپنے مال میں سے بہترین جانوروں کی قربانی پیش کی۔کراچی میں بھی ہر سال لاکھوں لوگ قربانی کرتے ہیں،لیکن اس سال قربانی کے دنوں میں شہرِ قائد کی صورت حال نے شہری انتظامیہ،بلدیاتی اداروں (کے ایم سی ڈی ایم سی) کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے۔ حالیہ بارشوں میں شہرِ قائد کو تنہا چھوڑ دیا گیا، ندی نالوں میں پہلے سے موجود کچرا صاف نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کا اضافی پانی سڑکوں پر آگیا اور شہریوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ شہرِ قائد کو صاف ستھرا رکھنے اور اسے عالمی معیار کا شہر بنانے کے جو دعوے عوام سے کیے گئے،کسی سیاسی پارٹی نے اس پر عمل نہیں کیا۔سب اپنے سیاسی مفاد کی خاطرشہر قائد سے پہلو تہی کئے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی عید کے رو ز شہریوں سے یہ اپیل صوبائی حکومت کی ناکامی کی غمازی کرتی ہے کہ ہوسکے تو آج کے دن قربانی نہ کریں، جبکہ ہمارا دین کہتا ہے پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے۔ قربانی مسلمانوں میں بہت بڑا اسلامی فریضہ ہے اوراس کا تقدس،صفائی ستھرائی، اس مبارک عمل کی انجام دہی کے لیے سہولیات فراہم کرناریاست اپنے اوپر فرض سمجھے۔

گزشتہ سال مئیر کوئٹہ کلیم اللہ خان کاکڑ کابیان تحسین کے قابل ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ عید قربان میں جانوروں کی آلائیشوں کو سڑکوں،نالیوں،چوراہوں، فٹ پاتھوں پر ڈالنے کی بجائے، حکومت کی طرف سے رکھے گئے کچرا دانوں میں ڈالیں۔ عوام کو پیشگی اطلاع دینے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے عملے کو صفائی میں دشواری نہیں ہوتی۔ عوام کواس طرح کے قابلِ قدر بیانات شہرِ قائد میں کب سنائی نہیں دیں گے؟ کئی دن گزرنے کے بعد بھی جانوروں کی آلائیشیں گلیوں، سڑکوں، چوراہوں، ندی نالوں میں پڑی ہوئی ہیں، جس سے تعفن پھیلنے کی وجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے اورشہری کئی طرح کے امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ صوبائی عملہ وذمہ داران منظرعام سے بالکل غائب ہیں۔
امسال شہر قائد میں 5 لاکھ جانوروں کی قربانی ہوئی،جس کا تناسب گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ شہر میں 5 جولائی سے 14 اگست تک لگنے والی مویشی منڈی میں 50 فیصد جانور خریداروں سے محروم رہے،ا سکے بعد بھی شہر قائد میں آٹھ ارب روپے کا ریکارڈ بزنس ہوا، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، غریب عوام کوفائدہ ہوا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ عید کے دنوں میں عوام سب کچھ ریاستی اداروں پر چھوڑ کر خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ کچھ کام عوام کے کرنے ہوتے ہیں۔ عید کے دنوں میں جو ماحول ہم بناتے ہیں وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔گلیوں، سڑکوں پر جانور قربان کرکے گلی،سڑک خون آلود کرنے کے بعد دوبالٹی پانی بہانا گوارا نہیں کرتے۔ ڈیڑھ لاکھ کا جانور لاتے ہیں، دوہزار گاڑی کا کرایہ ا داکرتے ہیں پانچ چھ سو کا چارہ کھلا نے کے بعد دو تین سو میں اپنی گلی، سڑک صاف کرانا بھاری ہوجاتا ہے۔ پھر آلائیشوں کو قرب و جوار میں پھینک دیتے ہیں جس سے ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت خراب ہوتی ہے۔ بدبودار آنتوں،چربی،آلائیشوں سے جہاں ہم اپناماحول گندا کرنے میں حصہ شامل کرتے ہیں، کچھ مفاد پرست ضمیر فروش انھیں پگھلا کر گھی،کوکنگ آئل بناکر ہمیں کھلاتے ہیں۔گزشتہ سال پنجاب فورڈ اتھارٹی کی اس حوالے سے صوبہ بھر میں کی گئی کاروائیاں ریکارڈ پر ہیں۔ لاہور، فیصل آباد میں فیکٹریوں سے 73 ہزار لیٹر زہریلا کوکنگ آئل پکڑا گیا تھا جو مردار جانوروں،گندی آلائیشوں سے بنا یا جا رہا تھا۔
جب سے وفاقی حکومت نے اختیارات صوبوں کو منتقل کئے ہیں سب اپنے اپنے مرغے چھیلنے میں مصروف ہیں۔

وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے شہرِ قائد میں صفائی ستھرائی کا سخت ترین نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ بلدیاتی حکومت عوام کو مشکلات سے جلد نکالے، لیکن شہریوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے وفاقی حکومت سمیت وزیر اعظم صاحب کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ کراچی گرین لائن منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑتا دیکھائی دے رہا ہے،وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ سرجانی ٹاؤن تا ٹاور دورہ کرلیں تو سارے عوامی مسائل کھل کر سامنے آ جائیں گے۔حالیہ بارشوں میں 30 سے زائد اموات ہوئیں،لیکن ابھی تک صوبائی،وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کی پکڑ کی نہ کوئی نوٹس بھیجا۔

کئی شہری میدانی علاقوں کی آبادی میں بارش کا پانی جمع ہونے سے تلاب کا منظر پیش کررہے ہیں۔بجلی کئی دنوں سے اس لیے بند کی ہوئی کہ وہاں انسانی جان کے لیے خطرات ہیں۔ یہ ساری صورت حا ل ارباب اختیار اور متعلقہ محکموں کی جانب سے ذمہ داری دوسروں کے کاندھوں پر ڈال کر خود بری الذمہ قرار پانے کی غماز ہے۔شہر کی ذمہ داری کوئی لینے کو تیار نہیں۔
حکومت کو قربانی کے عمل میں دشواریوں، مسائل کو ختم کرنے کے لیے جامع پالیسی بنانی ہوگی۔ اجتماعی عوامی مفادات کو دیکھتے ہوئے عسکری، سیاسی،سماجی اور سویلین قیادت کو مل بیٹھ کر انفرادی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صحت مند معاشرے کی تعمیرِ نو کے لیے کوششیں کرنا ہوگی۔2030 تک ہماری آبادی کا تناسب 24% ہو جائے گا،ا س لحاظ سے پاکستان آبادی میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک کہلائے گا اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے قومی تضادات بہت گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ یہی تضادات نوجوان نسل کو غلط سمت دھکیل کر سسٹم سے متنفر کرتے ہیں۔ حکومت کو سوچنا ہوگا کہ کیا ہم عوام کو صحت مند زندگی دینے میں کامیاب ہوئے ہیں،جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا؟

حصہ
mm
محمد عنصر عثمانی نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات و عربی کیا ہے،وہ مختلف ویب پورٹل کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں