آزادی میرا خواب

وہ پورے ایک ماہ بعد گھر لوٹا تھا۔ ابھی بھی اُسے اپنے ساتھیوں کی جانب واپس جانے اور اپنے مقصد کو پوراکرنے کی فکر گھیرے ہوئے تھی۔اتنے عرصے میں نہ صرف اس علاقے کے حالات مزید خراب ہوچکے تھے بلکہ اُس کے گھر کے حالات بھی کافی حد تک بگڑ چکے تھے۔بیوی کی بگڑتی حالت سے بھی وہ باخبر نہ تھا،جو گھر کے آنگن کو خوبصورت بنانے کے لیے ننھّے پھول کی آمد کا موجب بن چکی تھی.۔”موحد!…….. آج مت جاؤ۔میری بات مان لو نا……. بس! صرف آج کی رات مت جاؤ.” عاشی نے التجا کی۔
”دیکھو عاشی! میں ہر بار تمہیں کہتا ہوں, مجھے ایسے مت روکا کرو…. پر تم ہو کہ ضد……” وہ کہتے ہوئے رُک سا گیا تھا.ہٹو میرے راستے سے…..” ہزاروں سوالات چہرے پر سجائے وہ اُسے کندھے سے دھکیلتے ہوئے. جانے کے لیے بڑھا۔موحد! تمہیں میری کوئی فکر نہیں……. میری نہ سہی….. پر اپنے ہونے والے بچے کی تو فکرکرلو…… ابھی پہلے والے زخم ٹھیک نہیں ہوئے کہ آپ نے پھر مشن پہ جانے کی ٹھان لی ہے. ” وہ چلائی۔
”کشمیر صرف تمہارا تو نہیں جو تم….. ” وہ خود غرض سی ہوگئی تھی۔ کہتے ہوئے سہم سی گئی۔اُسے ڈر تھا کہ کہیں موحد کا ردِ عمل ناقابلِ برداشت نہ ہو۔ وہ آزادی کے معاملے میں غیر متوقع رویہ ہی رکھتا تھا۔ کشمیر!…….. میری رگ رگ میں رچا بسا ہوا ہے۔میں بھارتی افواج کو دیکھتا ہوں نا…تو میرا خون کھول اُٹھتا ہے. دل چاہتا ہے ایک ایک کو جہنم واصل کردوں. میرے جسم میں خون کا ایک بھی قطرہ باقی ہوگا نا…. تو میں پھر بھی اِس کی آزادی کے لیے لڑوں گا… آخری دم تک……! ” وہ غصّے سے اُسے جھنجھوڑنے لگا.
”ابّا کو دیکھا ہے تم نے…. کیسے لاش کی طرح پڑے رہتے ہیں. پتہ نہیں کب کیا ہوجائے۔کچھ پتہ نہیں….. گھر میں کس چیز کی ضرورت ہے۔تمہیں کچھ پتہ
نہیں…..” وہ ابّا کی معذوری دیکھ کے پھٹ پڑی۔
”اللہ مالک ہے…. کشمیر کا ہر گھر ایسے ہی سُلگ رہا ہے…. تمہیں پتہ ہے کل جو بلال کی شہادت ہوئی ہے. وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔اُس کی ماں کا ایک بھی آنسو نہیں گرا… اُس کا بھی تو اللہ مالک ہے… نا……….” موحد نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی.
”میں اپنی نسل کو غلام نہیں پیدا ہونے دوں گا.عاشی!……..میں چاہتاہوں۔ جب ہماری اولاد اس دنیا میں آئے تو وہ آزادی سے سانس لے… آزادی اُس کا مقدر ہو….. آزادی میرا خواب ہے۔جس کی تعبیر کے لیے اگر میری جان بھی چلی جائے تو مجھے پروا نہیں…. میں رہوں نہ رہوں…کشمیر آزاد ہوگا. ”
وہ بولتے ہوئے گھر سے نکل گیا.
”اتنے عرصے سے کشمیری ایسے ہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے چلے آرہے ہیں،پتہ نہیں کب آزادی ان کا مقدر بنے گی.” وہ گہری سوچ میں پڑگئی۔
درد بھری سوچ کو جھٹکتے ہوئے اُس نے گھر کی طرف اپنی توجہ مرکوز کی۔راشن ختم ہوچکا تھا۔وہ بوکھلائی ہوئی ابّا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
” میں شام ڈھلنے سے پہلے کچھ راشن لے آؤں.”
گھر سے نکلی ہی تھی کہ اُس کی نظر سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑی بھارتی فوج پہ پڑی جو چیخ و پکار کرتی ہوئی، چند خواتین کو گھسیٹتے ہوئے سڑک کے بیچ لے آئی تھی،جنھوں نے راشن ختم ہوجانے کی وجہ سے گھروں سے باہر آکر، کرفیو کی خلاف ورزی کی تھی۔ خواتین ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے اُنھیں کوس رہی تھیں۔ مگر وہ زبردستی اُنھیں ساتھ لے جانے کے لیے بضد۔ گھسیٹے چلی جارہے تھے۔
وہ چند لمحے حیرت میں ڈوبی ایک ہی جگہ جامد رہی۔
” چلو چلو گھر…. چلیں….. ورنہ ہمیں بھی پکڑ لیں گے یہ…… کل لالہ عبدالغفور نے ان کی چوکی پہ فائرنگ کی ہے،جس وجہ سے یہ لالہ کے گھر کی عورتوں کو پکڑ کے لے جا رہے ہیں.” پاس کھڑی خواتین کی گفتگو سُنتے ہی وہ لرزی اور تیز قدموں کے ساتھ گھر کی دہلیز میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر کے ابّا کی چارپائی کے ساتھ زمین پہ بیٹھ گئی. اُس کے اندر ہل چل سی مچی اور سانس مزید اُکھڑنے لگی. اچانک دروازہ کھٹکنے لگا.وہ ابّا کی چارپائی کے نیچے رکھے ڈنڈے کو اُٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی. کچھ لمحے بعد معلوم ہوا کہ دروازے پہ موحد آیا ہے. وہ دروازہ کھولتے ہی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی. وہ لفظوں کے جوڑ توڑ سے تھر تھراتی زبان سے اُسے بتانے لگی. آج محلے میں لالہ غفور کو ڈھونڈنے کے لیے فوج آئی تھی. وہ نہ ملا تو گھر کی عورتوں کو نشانہ بناتے ہوئے،گھسیٹ کرلے گئی.”وہ کانپتے ہوئے اُس کے ٹھنڈے وجود کے ساتھ چپک گئی. تم ایک بہادر مجاہد کی بیوی ہو جودشمن کے پچاس آدمیوں کو اکیلا ہی موت کی نیند سلا دینے کے لیے کافی ہے…… کل میں بھی لالہ کے ساتھ تھا… اور ہم نے ان بھارتیوں کے گلے کاٹ پھینکے تھے. ” موحد نے اُسے بتایا تو وہ مزید شوہر کے ساتھ چپک گئی،جیسے کوئی بہت بڑی حفاظتی طاقت کے حصار میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی ہو.عاشی کو راشن پکڑانے کے بعد وہ ابّا سے مل کر جانے کے لیے مڑا۔ بیوی کی افسردہ آنکھیں اُسے ڈھیر سارے سوالات لیے دکھائی دیں. وہ آنکھوں میں اُبھرے پانی کو کہیں آنکھوں کے ساحل میں پڑی دکھ اور تکلیف کی ریت میں ہی جذب کر لینا چاہتا تھا. مگروہ پلکوں کے کناروں سے تجاوز کرکے بے رونق رُخسار پہ آن ٹپکے تھے۔ وہ سر جھکائے وقتِ مغرب کے بعد اپنے مشن پر روانہ ہوگیا۔
کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ موحدکی تلاش میں بھارتی فوج اس وادی میں آن پہنچی اور تمام گھروں کی تلاشی لینے لگی. وہ ایک ایک کر کے ہر گھر میں گھستے گئے اور عورتوں پر تشدد کرتے ہوئے، اُنھیں گھسیٹ کر سڑک پہ لے آئے. وہ گھر میں موجود مردوں کو بھی پیٹ رہے تھے.چیخ و پکار کی آوازیں بڑھنے لگیں. فوجی موحد کے گھر کے دروازے کو زور دار آواز کے ساتھ کھولتے ہوئے، صحن تک آگئے. عائشی تھر تھراتی اور الماری میں جا چھپی.وہ الماری کے ہلکے سے کھلے ہوئے دروازے سے تمام منظر دیکھنے لگی
اوے!…… بڈھے……. کدھر ہے تیرا مجاہد بیٹا….. بتا… نہیں تو گولی مار دوں گا. ” فوجی زوردارآوازمیں گرجا.
ابّا مسلسل مسکراہتے ہوئے فوجی کودیکھتے رہے…. مگر منہ سے ایک لفظ تک نہ کہا.
جس وجہ سے فوجی کا غصّہ مزید بڑھا اور وہ بندوق تانے ابّا کی تھوڑی پہ رکھ کے اکڑتے ہوئے بولا.
”تیرا مجاہد بیٹا!…… جب تیری لاش دیکھے گا نا….. ” فوجی نے چند الفاظ کہے.ابّا کی زبان بھارتی فوج کے ارکان نے کاٹ دی تھی وہ بول تو نہ سکتے تھے مگر چہرے پہ بکھرے تاثرات سامنے کھڑے فوجی کو بخوبی سمجھ آرہے تھے جو بھارتیوں کے گھناؤنے فعل کے لیے سوائے شدیدنفرت کے کچھ ظاہر نہ کررہے تھے.ایک دم گولی کے چلنے کی آواز آئی اور ابّا نے آنکھیں موند لیں. الماری میں چھپی عاشی نے اپنے دل کو تھامتے ہوئے جلدی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا. فوجی لاش کو بے یارو مددگار چھوڑ کر موحد کی تلاش میں وادی میں نکل گئے. اگلی صبح موحدکی شہادت کی خبر لے کر طلوع ہوئی اور عاشی پیٹ میں پلنے والی ایک نئی امید کاسہارا لیے دوبارہ آزادی کا خواب دیکھنے لگی……..

حصہ

جواب چھوڑ دیں