ہم آزاد کہاں ہیں

گرین شرٹس زندہ باد گرین شرٹس ۔۔۔۔میدان میں بڑی اسکرین نصب تھی اور لڑکے لڑکیاں گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی ٹیم کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔مگر ہوا وہی جو اکثر ایسے موقع پر ہوتا ہے۔
کیا ہوا بھئ دادی پوچھنے لگیں…..پاکستان انڈیا سے میچ ہار گیا اور کیا ہوادادی۔۔۔۔ رخشی نے میچ ہارنے کی ساری جھنجھلاہٹ دادی پر اتار دی۔ارے اس سے پہلے بھی تو ہارا تھا میچ جب تو تمہیں اتنا غصہ نہیں آیا تھا بیٹا۔میری بھولی دادی وہ سارے میچ  انڈیاسے نہیں تھے اور پاکستان چاہے کسی سے بھی ہارے مگر انڈیا سے نہیں ہارنا چاہیے بس ۔ ہوں۔۔۔میں تو سمجھی کہ وطن کی محبت میں موۓ سب مرے چلے جارہے ہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔کیا معاملہ ہے بھئی کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے ریحان جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا پوچھنے لگا ۔سب ٹسل ہے بیٹا وطن سے محبت وحبت کچھ نہیں ۔
ہیں۔۔۔کیا کیا ٹسل۔۔۔اچھا دادی یہ جو سب نے اتنا خرچہ کیا کالج کی چھٹیاں کیں کاروبار بند کیے  نعرے بازی کی۔۔۔ یہ سب کیا تھا یہ محبت نہیں تھی کیا ؟ریحان حیرانگی سے بولا ۔اللہ ریحان بھائی مجھے تو سچ میں بہت مزا آیا جب سب نے گرین شرٹس اور برانڈڈ سوٹس کے ساتھ گالوں اور بازو پر ٹیٹو بنوائے بال ڈائی کراۓ وہاں میدان میں ٹیم مقابلہ کر رہی تھی اور یہاں لڑکے لڑکیوں کا آپس میں کانٹے کا مقابلہ تھا کہ کون زیادہ اسمارٹ اور خوبصورت نظر آرہا ہے اور تو اور یمنی اور حماد کا تو گلا بیٹھ گیا تھا نعرے لگا لگا کے پاکستان کی محبت میں۔۔۔
ہنہ۔۔۔۔۔محبت نہ ہو تو۔۔ نری بے حیائی ہے یہ بیٹا اسے محبت نہیں کہتے دادی بولیں ۔رخشی کھانا لگاؤ ابو آگئے ہیں کمرے سے جیسے ہی امی کی آواز آئی
رخشی۔۔جی آئی امی کہتی ہوئی کچن کی طرف چل دی ۔
پچھلے کئی  دنوں سے دادی اماں دیکھ رہی تھیں کہ ہر جوان بچہ بوڑھا جسے دیکھو وہ کرکٹ فوبیا میں مبتلا تھا یہ بخار اس وقت ٹوٹا جب ٹیم حسب روایت ہار گئی اور نوجوان نسل ذرا ٹھنڈی ہو کر بیٹھی مگر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا رہا دونوں جانب کے عوام جیسے گتھم گتھا تھے اور نشریاتی ادارے بھی اپنے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں عوامی جذبات بھڑکانے میں پیش پیش تھے یہ سب دیکھ کر وہ اپنے دل میں کڑھتی رہتی تھیں ۔آج بھی سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کرہے تھے اور بچوں آج کل کیا چل رہا ہے پڑھائی بھی ہورہی ہے یا صرف موج مستی میں مصروف ہو ابو خوشدلی سے بولے بس ابو آج آخری پیپر تھا اب سکون سے انجوائے کریں گے ہم ۔اچھا تو کوئی لمبا پروگرام ہے آپ لوگوں کا ۔ابو بولے جی ابو اسی کی پلاننگ کرنی ہے ،ہمیں آج .کیونکہ اس بار قربانی اور چودہ اگست ساتھ ساتھ آرہے ہیں. ابو آپ کب گائے لا رہے ہیں میرے سب دوست انتظار میں ہیں ریحان بولا۔اس اتوار کا پروگرام ہے  اور ہاں اب  کے ذرا ہاتھ روک کر گوشت بانٹنا کہیں سب غریبوں کے نام کردو  پچھلی دفعہ بھائی کے گوشت کم پہنچا تھا بڑی باتیں بنی تھیں ۔۔۔امی بولیں۔ مگر بیٹا انکے تو ماشاء اللہ خود قربانی ہوتی ہے انہیں کیا ضرورت گوشت کی اس  گوشت پر زیادہ غریبوں مسکینوں کا حق ہے جو سارا سال دل بھر کے گوشت نہیں کھاتے۔۔۔ دادی بولیں۔ مگر اماں جان وہاں سے بھی گوشت آتا ہے ہمارے گھر۔ تو بیٹا انھیں سمجھا دیا کرو کہ ہم سے زیادہ اس پر غریبوں کا حق ہے دادی بڑے رسان سے بولیں۔ابو جانور کیسا بھی ہو مگر سلیم کے جانور سے بڑا ہونا چاہیے  آخر محلے رشتے داروں میں عزت بھی تو کرانی ہے نا بیٹا فکر مت کرو پہلے کبھی بے عزتی ہوئی ہےکیا؟؟۔ مجھے تمام انتظامات کے لیے کچھ اضافی رقم چاہئےامی بولیں اچھا بھئی میں آفس سے ایڈوانس لینے کی کوشش کرتا ہوں اور ابو اس بار ھم چودہ اگست بڑی شان سے منائیں گے ۔ ضرور مناؤ بھئ آزادی کا دن منانا ہر پاکستانی کا حق ہے .جی ابو میں نے تو سوچ لیا ہے پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجاؤنگی  اور ایک بہت بڑا سا سب سے بڑا جھنڈا چھت پر لگائیں گے اور میری تمام سہیلیاں چودہ اگست کو انوائٹڈ ہیں اس کے لیے سب نے بہترین ڈریس بنواۓ ہیں اور تم تو جیسے پرانے کپڑے پہنوگی ریحان چڑانے والے انداز میں بولا میں کسی سےپیچھے ہوں کیا میں نے وہ ڈریس بنوایا ہے جو شاہ رخ کی ہیروئن نے ایک شوٹ میں پہنا تھا اور پھر مووی کا پروگرام ہے سچ میں بہت مزہ آنے والا ہے ہمیں رخشی خیالوں میں مزے لیتی ہوئی بولی ۔ اماں آپ خاموش کیوں ہیں کیا آپ آزادی نہیں منائیں گی؟۔ابو دادی کا کہنا ہے ہمیں پاکستان سے محبت نہیں ہے، رخشی نے گویا انکشاف کیا ۔کیوں نہیں ہے اماں جان یہ ساری تیاریاں اسی لیے ہی تو ہیں کہ ہم سب پاکستان سے محبت کرتے ہیں ابو پیار سے بولے۔۔بس کردو بیٹا، اب یہ محبت کا راگ الاپنا بند کرو ۔کیا ہوا اماں جان اب بچے آزادی کا جشن  بھی نہ منائیں ۔امی نےبرا مانتے ہوۓ کہا ۔ہم آزاد کہاں ہیں میرے بچوں ہم توابھی تک غلام ہیں۔ دادی تاسف بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ کیا مطلب دادی غلام کیسے جبکہ ہم ہر سال آزادی مناتے ہیں رخشی حیران تھی۔ضرور مناتے ہیں بظاہر ہمارے جسم آزاد ہیں مگر ہماری روحیں ابھی تک غلام ہیں ۔۔۔سب پریشانی سے دادی کو دیکھنے لگے جیسے انکی ذہنی روح بہک گئی  ہو ۔دادی پھر گویا ہوئیں ۔انگریز نے ہمارے جسموں کو تو آزاد کردیا مگر روحوں کو قیدی بنا کے لے گیا اس لیے ہم اسکے بناۓ نظام کے غلام ہیں معیشت کے غلام ہیں اس سود بھرے نظام میں غریبوں کا حصہ کہاں ہے؟ ارے حصہ تو تب بچے گا نا جب ہم اپنے بے جا اسراف چھوڑیں گے ،ہماری اضافی خواہشیں غریبوں کا حق کھارہی ہیں۔ انڈیا سے ہم ہارنا نہیں چاہتے ہار سے ہمیں نفرت ہے مگر اسکے کلچر سےمحبت ہے۔۔۔ فلمی گلیمر سے اسکی بے حیائی سے محبت ہے انکی نقل باعث فخر اور رسومات سے محبت ہے تو پھر کرکٹ میں ہارنے کا ڈرامہ کیوں یہ سب وطن سے محبت نہیں ہے۔ میرے بچوں دادی یہ کہتے ہوۓ آب دیدہ ہوگئیں ۔اوہ دادی سوری اس طرح توہم نے سوچا ہی نہیں کبھی رخشی روہانسی ہوکر بولی۔ہاں بیٹا یہ ہمارا قصور ہے جو آزادی اور قربانی کا صحیح مفہوم نئی نسل میں  اتارنہ سکے۔ اللہ ہمیں معاف کرے ۔ ہاں اماں جان آپ نے ٹھیک کہا یہ قرض ھےہم پر ھماری اولاد کا۔ امی شرمندہ سی بولیں ۔اب بھی دیر نہیں ہوئی میرے بچوں پاکستان اللہ کی نعمت ہے ہمیں کفران نعمت سے بچناہے ورنہ اس کی پکڑ بہت شدید ہو گی اور ابراہیم علیہ ا لسلام کی قربانی ہمیں اپنے نفس اور خواہشات کو قربان کرناسکھاتی ہے۔ بلکل اماں جان اس عید پر ہم  بے جا اسراف اپنی اضافی خواہشیں قربان کریں گے۔دادی نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تشکر بھرے دو آنسو بہ کر جھریوں بھرے چہرے  پر امڈ آۓ وہ اٹھ کرجانے لگیں سب ڈر کے بولے کہاں دادی۔۔ چھت پر جھنڈا لگانے اور کہاں آج میں بھی جشن آزادی مناؤنگی تم سب بھی چلو کیوں نہیں دادی سب خوشی سے چھت کی جانب چل دیئے۔۔

حصہ

2 تبصرے

  1. بہت اچھی تحریر ہے ۔ ماشاللہ ۔۔ اللہ تعالی آپ کی اس کاوش کو قبول کرے ۔ اور نئی نسل کو شعور عطا کرے آمین

  2. بہت اچھی تحریر ہے ۔ ماشاللہ ۔۔ اللہ تعالی آپ کی اس کاوش کو قبول کرے ۔ اور نئی نسل کو شعور عطا کرے آمین یا رب الآلمین

Leave a Reply to عشرت زاہد جواب منسوخ کریں