کشمیر تیرے باپ کی جاگیر نہیں ہے

بچپن سے ہی ایک ذکر سنا تھا، ایک دلفریب تذکرہ، کشمیر کی ارضی جنت کا، اور ذرا بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ ارضی جنت تو دشمن کے قبضے میں ہے، اور اس کا تھوڑا سا حصہ پاکستان کے ساتھ الحاق شدہ ہے، اور پھر اس جبری قبضے کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو کشمیری قوم کی حالت پر سخت دکھ ہوا، جو آج سے نہیں بلکہ ڈوگرہ راج کے زمانے سے غلامی در غلامی کا عذاب سہہ رہی ہے، بار بار اسے دھوکہ دیا گیا، اور کتنی ہی بار آزادی کی منزل دو ہاتھ کے فاصلے پر پہنچ کر ان سے چھین لی گئی، کسی مکار نے، کسی عیار نے کسی بین الاقوامی ادارے کی طفل تسلیوں نے ہر بار ہی کشمیریوں سے حق ِ آزادی چھین لیا۔ یہ کہانی۶۴۸۱ء سے شروع ہوتی ہے جب کشمیری قوم کا سودا ۵۷ لاکھ نانک شاہی میں ہوا، اور اسے گلاب سنگھ کی جھولی میں ڈال دیا گیا، ۷۴۹۱ء کی تحریک آزادی میں مسلم آبادی کا علاقہ جموں و کشمیر آزادی کے خواب دیکھ رہا تھا، مگر ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کی سازش کی، جسے کشمیر کے عوام نے تسلیم نہیں کیا اور بزور شمشیر اپنا حق حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی، اور اپنی قوت ِ ایمان اور جذبہء جہاد سے کشمیر کے کافی حصّے کو آزاد کروا لیا، بھارت نے کشمیر کی ریاست کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اقوام ِ متحدہ میں پہنچ کر واویلا کیا، اور یوں کشمیر ایک متنازعہ خطہ قرار پایا جس کے عوام نے اپنی مرضی سے رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا، کشمیر کے آزاد شدہ حصّے نے پاکستان سے الحاق کر لیا، اور دوسرے حصّے پر بھارت نے جبراً اپنی فوجیں داخل رکھیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت اپنے وعدوں کی تکمیل میں لیت و لعل ہی سے کام نہیں لیتا رہا بلکہ ہر کچھ عرصہ بعد ظلم کے اس شکنجے کو اور زیادہ شدید کرتا چلا جا رہا ہے۔
کشمیر کے دکھ کی کہانی کہاں سے شروع کروں، جب معاہدہء امرتسر کے نتیجے میں اس آزاد قوم کو غلام بنا لیا گیا، اور ڈوگروں نے اس پر ظلم کی انتہا کر دی، ان سے جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا، مساجد کو اصطبل اور بارود خانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا اور مسلمانوں کو اذان دینے اور جمعہ کا خطبہ دینے کی بھی اجازت نہ دی جاتی۔ ایک شر انگیز اور متنفر قوم کو کشمیر کے مسلمانوں پر اس طرح حاکم بنا دیا گیا کہ گویا سکھوں کو کشمیریوں کے قتل کا پروانہ تھما دیا، جس کی سفاکی کی انتہا یہ تھی کہ اگر کوئی سکھ کسی کشمیری کو قتل کر دیا جاتا تو اسے سزا کے طور پر (سولہ روپے) ۶۱ نانک شاہی ادا کرنے پڑتے، جس میں سے دو روپے مقتول خاندان کو (دیت کے طور پر) ادا کئے جاتے۔یعنی انیسویں صدی میں ایک کشمیری کے خون کی قیمت صرف دو روپے تھی۔
معاہدہء امرتسر کو علامہ اقبال نے یوں بیان کیا:
دہقاں وکشت وجوئے و خیابان فروختند
قومے فروختند وچے ارزاں فروختند
۰۳۹۱ء میں عوام میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی، اور کچھ نوجوانوں نے ڈوگرہ مظالم کے خلاف عوامی مطالبات کی یاد اشت پیش کرنے کا منصوبہ بنایا، اوراسے عوام کے ایک اجتماع میں پیش کیا، وہیں ایک نامعلوم تعلیم یافتہ نوجوان عبد القدیر نے لوگوں کو ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح مزاحمت پر آمادہ کیا،ڈوگرہ حکمران کو خبر ملی تو اسے فوری طور پر گرفتا ر کر لیا گیا، اس کا مقدمہ سنٹرل جیل سری نگر میں چلایا جا رہا تھا، جہاں عوام کی بڑی تعداد اس مقدمے کو سننے کے لئے جمع تھی، جب سیشن جج وہاں پہنچا تو لوگوں نے اس کی گاڑی روک کر اس سے مطالبہ کیا کہ عبد القدیر سے انصاف کیا جائے، جس پر جج مشتعل ہو گیا اور پولیس کو بلا لیا، اس موقع پر ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کی، تو پولیس کی جانب سے اس پر فائر کھول دیا گیا، پھر دوسرا نوجوان آگے بڑھا اور اس نے گولی کھائی، یہاں تک کہ اذان مکمل ہونے تک اکیس (۱۲) کشمیری رتبہء شہادت پا چکے تھے، یہ ہے کشمیر کی تاریخ!! یہ ہے ایمان کی وہ حرارت جسے ظلم اور جبر کی کوئی طاقت کشمیریوں کے دلو ں سے مٹا نہیں سکی۔
یوم ِ شہداء ۳۱ جولائی ۱۳۹۱ء ہی کو آزادیء کشمیر کا بیج ایمان اور تقوی کی سرزمین میں لگ گیا تھا، اس کے بعد اقتدار ڈوگرہ سامراج سے ہندو بنیے کو منتقل ہو، خواہ دہائیوں تک شیخ عبد اللہ اور اس کی اولاد بھارتی حکمرانوں کی کٹھ پتلیوں کا کام کرتے رہیں، کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کی شمع گل نہیں کر سکے۔ ملک اور ریاستیں خار دار باڑ لگا کر نہیں بنتیں، جبر کی زنجیریں اٹوٹ رشتے نہیں پیدا کرتیں، اور جذبہء آزادی طاقت کے زور پر سرد نہیں کیا جا سکتا، اگر ایسا ہوتا تو بھارتی ایوانوں میں آئین کی شق۰۷۳ کے خاتمے کے بعد کشمیری مایوسی کی چادر لپیٹ کر سو جاتے، لیکن ایسا ہو گا نہیں۔ہر طاقتور اسی زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ جبر اور ظلم سے حق دار کا منہ بند کر دے گا، یا کچھ مراعات دے کر رام کرلے گا، بھارت بھی گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیر میں ”کیرٹ اینڈ سٹک“ کی پایسی اپنائے ہوئے ہے مگر کشمیریوں کو ”کیرٹ“ متاثر کرتی ہے نہ وہ سٹک سے خوفزدہ ہوتے ہیں، بوڑھا علی احمد گیلانی جس کی جوانی آزادی کا خواب دیکھتے ہوئے گھل گئی، جس کا بڑھاپا اسی خواب کو دیکھتے ہوئے گزر رہا ہے، بلکہ یہی خواب اسے جوان کر دیتا ہے، وہ جب بولتا ہے تو شیر کی گرج سے، اور بھارت کی دلربا پر کشش پیش کش کے جواب میں غیر متزلزل ایمان کے ساتھ کہتا ہے:
اگر بھارت ہماری سڑکوں پر تارکول کے بجائے سونا بھی بچھا دے۔۔ تو بھی اس کا ساتھ قبول نہیں، کیونکہ یہ نظریے کا الحاق ہے، یہ مسلمان علاقے کا مسلمانوں کے ساتھ فطری الحاق ہے۔
اس فکر کی اہمیت کو وہی جان سکتا ہے جو قائدِ اعظم کے دو قومی نظریے کو سمجھ گیا ہے، ورنہ بھارت نے تعلیم اور روز گار اور اعلی مراتب اور پرتعیش زندگی کے حصول کا فریب بھی دینے کی کوشش کی اور انتخابات کے ذریعے اپنی کٹھ پتلی حکومت کی آڑ میں جمہوری ہونے کی مکاری بھی کی، لیکن جب کشمیری قوم آزادی سے کم کسی شے پر راضی نہ ہوئی تو انہیں طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، اور ان کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسی نہیں اٹھا رکھی، انکے باغوں کو آگ لگائی اور کبھی مکانوں کو، ان کے کاروبار تباہ کر دیے گئے، مردوں کی بڑی تعداد کو شہید کیا گیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ٹارچر سیلوں میں موت سے بڑھ کر اذیتوں سے دو چار کیا گیا، کتنے ہیں جو ابھی تک جیلوں میں بند ہیں، جنہیں مناسب خوراک ملتی ہے نہ علاج معالجہ کی سہولت، لبریشن فرنٹ کے سربراہ کشمیری لیڈر یاسین ملک مفلوج ہو چکے ہیں، انتہائی شدید بیمار ہیں، مگر آج بھی تہاڑ جیل میں قید ِ تنہائی کی سزا کاٹ رہے ہیں، کہ ان کے خاندان کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جاتا،کتنے ہی لیڈرز کو شہید کیا جا چکا ہے۔ سید علی گیلانی کی زندگی کا بڑا حصہ جیل کی دیواروں کے پیچھے گزرا ہے، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فریدہ بہن جی اور کئی خواتین بھی اسی ہمت کے ساتھ جدو جہد ِ آزادی میں شریک ہیں۔
بھارت کے عقوبت خانے دنیا کے بدترین ٹارچر سنٹرز ہیں، جہاں نوجوانوں کے ناخن زنبور سے نوچ کر الگ کر دیے جاتے ہیں، ایسی اذیت کہ جسموں کی کھال تک ادھڑ جاتی ہے، کتنے ہی قیدی ذہنی طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں، اور کتنے جسمانی معذور، اور جو اس اذیت کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، ان کی تعداد بھی کم نہیں۔
گزشتہ کچھ برس سے بھارتی فوج عوام کے جسموں پر ”پیلٹ گنز“ سے حملہ کر رہی ہے، جس سے کئی نوجوانوں کی آنکھیں تک ضائع ہو چکی ہیں، لیکن کیا جبر کے ان ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام آزادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دے گی، کیا پون صدی کی قربانیاں ایک صدارتی آرٹیکل کی منظوری سے بے نشان ہو جائیں گی؟؟ ہر گز نہیں، یہ کشمیریوں کے جذبہ ء آزادی کے لئے مہمیز ثابت ہو گا، کشمیر کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، جہاں ایک شہید کا خون گرتا ہے تو ایک اور فصل سر کٹانے کو تیار کھڑی ملتی ہے، چند برس پہلے ہی کی تو بات ہے، جب برہان مظفر وانی کو شہید کر کے بھارت نے اپنے طور ایک کانٹا صاف کیا تھا، مگر اس کے پچاس مرتبہ پڑھے جانے والے جنازے نے ہی بھارت کی نیندیں اڑا دی تھیں، اور آزادی کی تحریک کو نیا ولولہ مل گیا تھا۔
مجھے صلح حدیبیہ کے موقع پر بیڑیوں میں جکڑے ہوئے کفار کی قید سے بھاگ کر آنے والے ابو جندلؓ یاد آ رہے ہیں، جن کی اذیت تو ان کے حال پر لکھی تھی، اور کرب ان کے الفاظ بیان کر رہے تھے، اور جب رسول ِ کریم ﷺ نے انہیں معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ظالم کافر باپ کے حوالے کیا تو کوئی اور راستہ نکل آنے کا اشارہ بھی کیا تھا، اور ابو جندل ؓاور ابو بصیرؓ اور کتنے ہی اور مجبوروں کو ظلم سے نکلنے کا راستہ اللہ نے سجھایا تھا، جب انہوں نے شام کی شاہراہ پر کفار کی اقتصادی شاہراہ کو پر خطر بنا دیا تھا، اور اے پیارے کشمیریوں، اگر پون صدی سے تمہارا جذبہء آزادی کوئی سرد نہیں کر سکا، تو اب بھی نہیں کر سکے گا، ہاں تمہارے اس حال تک پہنچنے میں ہماری غفلت بھی شامل ہے، تم تو بھارتی ثقافت کے رسیا نہ بنے، اس کی بڑی بڑی صنعتوں اور نت نئے کاروباروں اور دنیا میں پھیلتے ہوئے اثر و رسوخ پر تم تو نہ ریجھے، مگر ہمارے حکمران ریجھ گئے، اور معاش کے سدھار اور کاروباری رابطوں ہی کو اولیت دے دی، یہ بھول گئے کہ ان کی شہ رگ اغیار کے پنجے میں ہے، اور پاکستان کی آزادی کا نقشہ ابھی ادھورا ہے، ہر برسر ِ اقتدار گروہ نے کشمیر کو اپنی انتخابی مہم کا حصّہ تو بنایا، مگر اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے اس کی تکمیل کا کم ہی خیال آیا، کبھی حریت رہنماؤں کی فہرستیں بھارتی حکمرانوں کو فراہم کی گئیں اور کبھی ان کی پاکستان آمد پر کشمیر ہاؤس کے بورڈ تک اتروا دیے، کبھی واجپائی کا بھر پور استقبال، اور اس کے سامنے مظاہرہ کرنے کی تیاری کرنے والوں پر بد ترین تشدد! کبھی مودی اور جندال سے خفیہ اور اعلانیہ رابطے!
اس سب کے باوجود پاکستانی عوام کے دل اہل ِ کشمیر کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اور اس یوم ِ آزادی کے موقع پر جشن کا نہیں سوگ اور ماتم کا سماں ہے، لیکن ہر تاریک رات کے بعد روشن صبح طلوع ہوتی ہے، یہ اللہ کا نظام ہے، اور اسے کوئی الٹ نہیں سکتا، جموں و کشمیر پر چھائی تاریکی کی دبیز تہہ ضرور ختم ہو گی، کشمیر آزاد ہو گا۔ ان شاء اللہ
علامہ اقبال کا شعر تضمین کے ساتھ:
اگر”کشمیریوں“ پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
کشمیر کی حیثیت کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے، مگر نظریے کی اس لکیر کو مٹانا بھارت کے بس میں نہیں ہے، کیا یہ تقدیر کا مذاق نہیں ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی کی متحرک وزیر ِ خارجہ سشما سوراج آئین کے آرٹیکل ۰۷۳ کے خاتمے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش قرار دے رہی تھی، اور ابھی اس ٹویٹ کی سیاہی بھی نہ مٹی تھی کہ سشما سوراج پر شادیء مرگ طاری ہو گئی، اور کشمیریوں کے نظریے کو دفن کروانے میں پیش پیش سشما سوراج موت کی وادی میں چلی گئی۔
جب تک کشمیری زندہ ہیں، مسئلہ کشمیر بھی زندہ رہے گا، اور آزادی کی منزل بھی پائے گا۔ ان شاء اللہ
بھارت تیرے ہاتھ میں وہ لکیر نہیں ہے
کشمیر تیرے باپ کی جاگیر نہیں ہے!
٭٭٭

حصہ
mm
ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے آزاد کشمیر یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات امتیازی پوزیشن میں مکمل کرنے کے بعد انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ زمانہء طالب علمی سے ہی آپ کی ہلکی پھلکی تحریریں اور مضامین شائع ہونے لگیں۔ آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر آباد میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں، کچھ عرصہ اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی معلمہ کی حیثیت سے بھی کام کیا، علاوہ ازیں آپ طالب علمی دور ہی سے دعوت وتبلیغ اور تربیت کے نظام میں فعال رکن کی حیثیت سے کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز ۲۰۰۵ء سے کیا، ابتدا میں عرب دنیا کے بہترین شہ پاروں کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا، ان میں افسانوں کا مجموعہ ’’سونے کا آدمی‘‘، عصرِ نبوی کے تاریخی ناول ’’نور اللہ‘‘ ، اخوان المسلمون پر مظالم کی ہولناک داستان ’’راہِ وفا کے مسافر‘‘ ، شامی جیلوں سے طالبہ ہبہ الدباغ کی نو سالہ قید کی خودنوشت ’’صرف پانچ منٹ‘‘ اورمصری اسلامی ادیب ڈاکٹر نجیب الکیلانی کی خود نوشت ’’لمحات من حیاتی‘‘ اور اسلامی موضوعات پر متعدد مقالہ جات شامل ہیں۔ ترجمہ نگاری کے علاوہ آپ نے اردو ادب میں اپنی فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کیا،آپ کے افسانے، انشائیے، سفرنامے اورمقالہ جات خواتین میگزین، جہادِ کشمیر اور بتول میں شائع ہوئے، آپ کے سفر ناموں کا مجموعہ زیرِ طبع ہے جو قازقستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں آپ کے سفری مشاہدات پر مبنی ہے۔جسارت بلاگ کی مستقل لکھاری ہیں اور بچوں کے مجلہ ’’ساتھی ‘‘ میں عربی کہانیوں کے تراجم بھی لکھ رہی ہیں۔

2 تبصرے

  1. کشمیر کی موجودہ صورت حال پر دل بہت غمگین ہے۔۔۔ آپ کی بر وقت پر تاثیر تحریر پڑھ کر کچھ امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارے حکمران اپنی شہ رگ کے لئے سنجیدگی سے سوچ کر ، کچھ عملی اقدامات بھی کر لے۔ صرف بیان بازی اور مذمت سے کام نا لیں۔

Leave a Reply to بشری تسنیم جواب منسوخ کریں