کلینک سے کتاب تک

کثیر الجہات،اجماع اوصاف یا محاسن و شمائل کا مجموعہ کسی بھی مرد سخن یا بشرِ قلندر کو عام انسانوں سے ممیز وممتاز بنا دیتے ہیں۔یہ سب انفرادی کسب یا محنت شاقہ سے کبھی بھی ممکن نہیں ہوتا بلکہ بارگاہِ ایزدی سے عطا،احسان اور عنایتِ خاص کے سبب ہوتا ہے۔اللہ جسے چاہے عزت و توقیر کے ارفع و اعلیٰ مقام پر فائز فرما دے اور جسے چاہے اوجِ ثریا سے پاتال میں دفن کر دے۔وہ لوگ کیا ہی خوش بخت ہوتے ہیں جنہیں خدا منتخب اور پسندیدہ فرما لیتا ہے۔اور ان کی قسمت و تقدیر کے ہاتھ میں مسیحائی کا قلم تھما کر اس دنیائے بو قلمونی میں خدمت خلق کے لئے اس حکم کے ساتھ کہ جائو میرے بندوں کی تکالیف میں کمی کرو اور انکی خدمت کے لئے اپنا فرض پورا کرو،انتخاب فرما لیتا ۔ڈاکٹر مبشر سلیم ان خوش قسمت دوستوں میں ایک ہیں جنہیں خدا تعالی ٰ نے طبی،فلاحی اور اصلاحی خدمات کا ایسا قلم عطا فرمایا ہے کہ وہ کلینک میں ہوں تو انسانی مسیحائی کے لئے اسی قلم سے نسخہ جات لکھ کر لوگوں میں زندگی کی رمق کو مینارہ نور بنا دیتا ہے،کلینک سے فراغت پاتے ہی اسی قلم سے شگفتہ وسنجیدہ تحریروں کی ادبی چاشنی سے بیمار معاشرہ کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔گویا ’’کلینک سے کتاب تک‘‘امید ِ پیہم اور جاوید و جاودانی کی پیامبری کرتا دکھائی دیتا ہے۔کلینک سے کتاب تک ڈاکٹر مبشر سلیم کی وہ پہلی تصنیف ہے جو مشاہدات و تاثرات،ذاتی تجربات،علمی بصیرت اور انسانی ہمدردی کی بہترین عکاس ہے۔حرف حرف حقیقت کی شاہد یہ کتاب دراصل ہمارے ارد گرد بکھرے معاشرتی کرداروں اور رویوں کی حقیقی ترجمان اس لئے ہے کہ ڈاکٹر مبشر نے معاشرتی مسائل اور کرداروں کا تذکرہ صفحہ قرطاس پر اپنے قلم کے ذریعے من و عن کیا ہے،جیسے کہ وہ معاشرہ میں نظر آتے ہیں۔اس لئے کتاب میں پیش کردہ وہ تمام کردار سو فیصد حقیقی معلوم ہوتے ہیں انہوں نے ایک کہنہ مشق مصنف کی طرح معاشرتی کرداروں کو لفظوں کی زبان عطا کرکے مبالغہ آرائی سے کہیں دور رکھا ہے۔ بچپن اور لڑکپن کا ناسٹیلجیا ہو کہ کلینک میں ہونے والی مریض سے گفتگو ہو ،حب الوطنی کا تقاضا ہو کہ صحت عامہ کے مسائل و علاج،ڈائری کے اوراق سے فلسفہ محبت تک،معاشرتی روایات و اقدار سے انسانوں کے رویوں تک یا پھر یوں کہہ لیں کہ کلینک سے کتاب تک ایک ایک جزیات کا ایسے خیال رکھا ہے جیسے ایک ڈاکٹر جراحی سے قبل آلات جراحی کا رکھتا ہے ۔شگفتہ و سنجیدہ دو تحاریر پیش خدمت ہیں۔
تیز بخار،کانپتے جسم اور اکھڑے ہوئے سانس کے ساتھ صفیہ بیگم جب پہلی بار میرے پاس آئی تو شائد مارچ کا مہینہ تھا جب میں نے چیک اپ کر کے دوائی لکھ کر دی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگی کہ بیوہ عورت ہوں،گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے کچھ خدا ترسی کریں۔میں نے پرچ پکڑی اور اس پر فری لکھ کر اسے تھما دی کہ فکر نہ کریں دوائی مفت مل جائے گی۔رمضان کے مہینہ میں ایک بار پھر بخار کے ساتھ وہ آئی اور اپنی دوائی لینے کے بعد کہنے لگی کہ رمضان کا مہینہ ہے اپنی زکوۃ نکالتے وقت مجھے بھی یاد رکھئے گا۔یہ کل دوپہر کی بات ہے جب وہ میرے پاس آئی لیکن اس بار وہ اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ چہرہ کو چھپائے اٹھارہ انیس سال کی ایک لڑکی بھی تھی۔کرسی پر بیٹھتے ہی صفیہ بیگم نے اسے نقاب ہٹانے اور مجھے سلام کرنے کا کہا۔میں اب اس انتظار میں تھا کہ وہ لڑکی کی تکلیف یا بیماری کے بارے میں کچھ بتائے تو میں اپنی رائے دوں۔لیکن صفیہ بیگم نے بیماری کی تفصیل میں جانے کی بجائے بتانا شروع کیا کہ یہ میری بڑی بیٹی روبینہ ہے پانچویں پاس ہے اور قرآن بھی پورا پڑھا ہوا ہے،جی اچھا میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی سر اثبات میں ہلا دیا اور پوچھا تو پھر؟میرے پوچھنے پر اس نے لڑکی کو کمرے سے جانے کو کہا اور کرسی کھینچ کر میرے قریب کر لی اور بولی ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس ہزاروں لوگ آتے ہیں کوئی مناسب خاندان دیکھ کر اس کے لئے کوئی اچھا سا رشتہ ہی ڈھونڈ دیں۔۔معاشرتی حساسیت کی بات ہو تو ان کا قلم کچھ یوں اٹھتا ہے کہ ــ’’آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی نمائندگی ہمیشہ مختاراں مائی ،رمشا مسیح یا فاخرہ جیسی خواتین سے ہی کروائی جاتی ہے؟کیا ارفع کریم اس بات کی مستحق نہیں سمجھی جا سکتی کہ اس کی زندگی پر فلم بنائی جا سکے؟جس نے پاکستان کی عورت کی قابلیت کا لوہا منوایا۔حق تو حکیم سعید کا بھی بنتا ہے کہ ان کی تعلیمی خدمات پر کوئی فلم بنتی اور وہ کسی عالمی ایوارڈ کی مستحق قرار پاتی‘‘کتاب پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر کلینک سے کتاب تک کا فاصلہ ہی ہماری قوم ایمانداری اور عزم پیہم سے طے کر لے تو ہم وہ قوم بن جائیں جسے دنیا کی کوئی بھی بڑی سے بڑی طاقت نیست ونابود تو کجا میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ پائے گی۔ا ن شا اللہ

جواب چھوڑ دیں