ایڈ،ٹریڈ اور ایڈز

مذہب اسلام میں باہمی تعاون اور مدد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔مطالعہ تاریخ اسلام میں ہمیں باہمی ایثار اور تعاون کے بے شمار ایسے واقعات مل جائیں گے کہ جس میں شہادت پہ فائز ہونے والا مسلمان اپنے دوسرے بھائی کی مدد کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز خیال کرتے ہوئے اپنے حصۃ کا پانی بھی اسے پلانے پر بضد دکھائی دیتا ہے تاکہ دوسرے مسلمان بھائی کی جان بچ جائے۔اسلام یہ بھی درس دیتا ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے۔دین ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اپنے وسائل اور ذرائع کو استعمال میں لا کر اپنی ضروریات زندگی کو پورا کیاجائے اس سے انسان دوسروں کی محتاجی سے بچ جاتا ہے۔اور ریاست کی معاشی صورت حال بھی مستحکم ہو جاتی ہے۔گویا ریاست کو معاشی لحاظ سے مضبوط اور مستحکم کرنا ہو تو اندورن ملک قدرتی ذرائع کا استعمال بہت ضروری ہوتا ہے۔جو ریاستیں ملکی قدرتی ذرائع کا بر وقت استعمال کر پاتے ہیں وہی ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں وگرنہ سپر طاقتوں کے مرہون منت اور زیر سایہ زندگی گزارنا پڑتی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہم نے اس بات کا واویلا تو مچایا کہ ہم قدرتی دولت سے مالا مال ہیں ہم پر قدرت کی خاص مہربانی ہے کہ ہمارے ملک میں سونا،کاپر،کوئلہ،لوہا اور دیگر معدنیات کی وافر مقدار موجود ہے۔تاہم ان ذرائع سے مستفید ہونے کے لئے ہماری کسی حکومت نے خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔اگر ان معدنیات اور دیگر قدرتی ذرائع کا بر وقت استعمال کر لیا جاتا تو آج ہماری حکومت کو آئی ایم ایف،ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی طرف نہ دیکھنا پڑتا۔
اگرچہ عمران خان حکومت کے دورہ امریکہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے لے کر وزیر اعظم عمران خان تک سب ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ہم برابری کی سطح پر بات کرنے آئے ہیں،ہم کشکول لے کر نہیں آئے،ہمیں اپنی خود مختاری عزیز ہے،ہم سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر دورہ کرنے آئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن اہل علم ودانش اور فکر و بساط کے اذہان میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہوگا کہ ایک ایسا ملک جس کا بال بال قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔جس کا پیدا ہونے والا بچہ بچہ کوئی ایک لاکھ پچاس ہزار سے اوپر اپنی قسمت کے ساتھ ہی لے کر آتا ہے،جس کے نوجوانوں کی اکثریت ہاتھوں میں ڈگریاں تھامیں مناسب روزگار کی تلاش میں ہوں،کروڑوں کی تعداد میں پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں،ایسے ملک کے حکمرانوں کے منہ سے عزت نفس،انا اور برابری کی باتیں ماسوا سیاسی نعروں کے اور کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا۔اگر واقعی حکومت سنجیدہ ہے تو پھر ہر مسئلہ کو سیاسی نعرہ بنانے کی بجائے عملی اقدامات کر کے دکھانا ہونگے اس لئے کہ ایک تعلیم یافتہ ڈگری کے حامل بے روزگار کو مناسب روزگار کی ضرورت ہوتی ہے،بھوکے کو روٹی اور پیاسے کو پانی اور کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کو ایک چھت کی ضرورت ہوتی ہے نعروں کی نہیں۔دورہ امریکہ میں وہی باتیں دہرائی گئیں جو ہر نئی حکومت دور اقتدار میں آتے ہی کہتی ہے۔کیا مانگنے والے بھی اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں؟انہیں وہی کرنا ہوتا ہے جو دینے والا چاہتا ہے۔کچھ ایسی ہی صورت حال ملک پاکستان کی بھی ہے کہ قرض پہ قرض لئے جا رہاہے مگر واپسی کی کوئی راہ نظر نہیں آتی،ایسے میں عزت نفس کی باتیں کسے سمجھ نہیں آتیں۔حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ کی اہمیت کو مدنظر رکھے،کیونکہ ایڈ ہمیں ایڈز کی طرح چاٹ رہی ہے،لہذا اگر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے تو ہمیں ایڈ کی بجائے ٹریڈ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا اور قرض کے ایڈز سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا پھر ہی ہم ملکی استحکام کی راہ ہموار کر سکیں گے۔

جواب چھوڑ دیں