خداراغریبوں کی جان چھوڑدیں

اونٹ ذبح کرنے آئے تھے اورچوزوں کاخون چوسنے لگے۔کراچی سے گلگت،چترال سے کاغان اورسوات سے مکران تک یہ چوں چوں ویسے نہیں۔حالات اورواقعات بتارہے ہیں کہ موجودہ حکمران بھی غلط بہت ہی غلط راستے اورڈگرپرچل پڑے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اقتدارمیں آنے سے پہلے کنٹینرپرکھڑے ہوکرفرمایاکرتے تھے کہ حکومت میں آکرہم چوراورڈاکوؤں کے پیٹ چاک کرکے ان سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت برآمدکریں گے۔مگریہ کیا۔۔؟سترسال سے جنہوں نے ملک کولوٹا۔قوم کولوٹا۔خزانے کوسرسے پاؤں تک خالی کیا۔جن سیاستدانوں اورحکمرانوں نے قوم کے ایک ایک بچے کوماں کی گودمیں لاکھوں اورکروڑوں کامقروض بنایا۔ وہ چوراورڈاکوتوآج بھی موج مستیاں کررہے ہیں۔۔سیاست سیاست کھیل رہے ہیں اورمفادات کاگیم انجوائے کررہے ہیں مگرجوبدقسمت قوم ماضی میں لٹی۔مہنگائی کے بوجھ تلے دبی۔غیروں کے قرضوں میں جکڑی۔بھوک وافلاس سے بلک بلک کرتڑپی۔اس بدقسمت قوم کوآج ماضی سے بھی زیادہ تڑپانے،رلانے اورمقروض بنانے کاسلسلہ عروج پر ہے۔ماضی قریب اوربعیدمیں جنہوں نے ملک وقوم کودونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ان چوراورڈاکوؤں میں کوئی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے سہارے اقتدارکی کشتی سے چمٹ کرمزے کررہاہے توکوئی اے اوربی کلاس لیکرجیلوں میں عیاشیاں اڑارہاہے۔ دس روپے کی چوری کرنے والے غریب کے لئے توان جیلوں میں اے اوربی کیا۔۔؟سی اورڈی کی بھی کوئی کلاس نہیں ہوتی۔غریب کوتوجیل کے اندرجاتے ہی نہ صرف کھدال،جھاڑواورسترسالوں کے زنگ آلودبرتن پکڑائے جاتے ہیں بلکہ انہیں بیڑیاں اورہتھکڑیاں پہناکرجیل کی تاریک کال کوٹھریوں اوربیرکوں میں بھی اوندھے منہ ڈال دیاجاتاہے مگرقومی خزانے سے اربوں اورکھربوں لوٹنے والے لٹیرے ان جیلوں میں بھی زندگی کی تمام ترسہولیات سے آراستہ وپیراستہ اے اوربی کلاس لے کرجیلوں کے اندرمحل بناکے بیٹھے ہوتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان ماضی میں جن کے پیٹ پھاڑنے کی باتیں کررہے تھے ان کوتووہ آج جیل کے اندراورباہردودھ پلاکر،،بلے،،بنارہے ہیں مگرجن غریبوں،مظلوموں،بے سہاراوبے کسوں کے خالی پیٹ بھرنے کے لئے وہ اقتدارمیں آئے تھے ان کے وہ کچومرنکالنے میں لگ گئے ہیں۔جن چوروں اورڈاکوؤں نے ماضی میں ملک وقوم کولوٹ کراپنے جہنم بھرے۔وہ آج بھی مسلسل اپنے جہنم بھرتے جارہے ہیں مگراس ملک کا غریب آج بھی پیٹ بھرنے کے لئے ایڑھیوں پرایڑھیاں رگڑرہاہے۔قومی چوروں اورڈاکوؤں سے اربوں اورکھربوں نکالنے والوں نے تاریخ کی بدترین مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے ذریعے غریبوں کے خالی پیٹ سے انتڑیاں نکالنے کاکام بھی شروع کردیاہے۔وزیراعظم عمران خان کے پرفریب نعروں،وعدوں اوردعوؤں کے جھانسے میں آکراس بھولی بھالی قوم نے اس امید،تمنااورخواہش پرعام انتخابات میں تحریک انصاف کوووٹ دیئے تھے کہ ان کی حکومت میں ان کے حالات اوردن کچھ بدل جائیں گے۔لیکن کپتان اورکپتان کے آئی ایم ایف سے ٹریننگ یافتہ کھلاڑیوں نے حالات اوردن ایسے بدل دیئے ہیں کہ اب غیرتوغیرتحریک انصاف کے اپنے بھی کانوں کوہاتھ لگاکر ہائے ہائے اورتوبہ توبہ کر رہے ہیں۔سیاست کے رموزسے ناآشناء اورسیاستدانوں کے عادات واطوارسے ناواقف یہ پرسادہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وزیراعظم عمران خان اقتدارمیں آکرواقعی بڑے بڑے سیاسی اونٹ اوربیل ذبح کریں گے جن کاپاؤاک گوشت یہ بھی مزے مزے سے کھالیں گے مگران کویہ نہیں پتہ تھاکہ کرکٹ کے میدان میں چوزہ نماگیندکے پیچھے بھاگنے والے عمران خان کو اونٹ اوربیل ذبح کرنے سے زیادہ چھوٹے چھوٹے چوزوں کے پیچھے بھاگنے اوران سے کھیلنے کاتجربہ ہے۔اسی تجربے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان بڑے مگرمچھوں پرہاتھ ڈالنے کی بجائے غریبوں کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ ملک میں جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے غریبوں کوایک روپے کاکوئی ریلیف بھی نہیں ملا۔چوروں اورڈاکوؤں کے جہنم پھاڑکران سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت نکالنے کی بجائے غریبوں کے گلے پرچھریاں پھیرکران کی چمڑیاں ادھیڑی جارہی ہیں۔چوراورڈاکوؤں سے ابھی تک تو کچھ برآمدنہیں کیاگیالیکن غریبوں سے مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کے ذریعے جمع پونجی بٹورنے کاسلسلہ بندہونے کانام ہی نہیں لے رہا۔غریبوں کاخون نچوڑکر،،سیاسی بلوں،،کودودھ پلانے کایہ کام توپرانے پاکستان والوں کاخاصاتھا۔وہی چوراورڈاکوحکمرانوں والے کام اگرنئے پاکستان میں بھی ہونے ہیں توپھر22سال جدوجہدکی کیاضرورت تھی۔۔؟غریبوں کاخون نچوڑکرسیاسی سانپوں کوپلانااگرانصاف ہے توپھربے انصافی کیاہوگی۔۔؟اس ملک کونوازشریف،آصف علی زرداری اوردیگرچندلیڈروں اورحکمرانوں نے اکیلے نہیں لوٹا۔اس ملک کواس نہج تک پہنچانے میں،،مافیا،،ملوث ہے۔وہ مافیاجس کے چیلے اورکارندے آج بھی حکومتی صفوں میں شامل ہے۔نوازشریف،آصف علی زرداری اوردیگرلیڈراورحکمران اگرچوراورڈاکوہیں توماضی میں ان کی ایمانداری اوران کے سروں کی قسمیں اٹھانے والے پھرایماندارکیسے ہوسکتے ہیں۔۔؟کسی چوراورڈاکوکے سرپرہاتھ رکھ کراس کو ایمانداری کاسرٹیفکیٹ جاری کرنے والاپھرخودکبھی ایماندارنہیں رہتا۔وزیراعظم عمران خان اگرواقعی ملک وقوم سے مخلص ہیں تووہ کسی صحرااورپہاڑمیں کسی چوراورڈاکوکوتلاش کرنے کی بجائے اپنے آس پاس کھڑے ایمانداری کے لبادھے میں چھپے سیاسی چوروں اورڈاکوؤں سے احتساب کاآغازکردیں۔آمدن سے زائداثاثوں کی کسوٹی پرجس طرح سیاسی مخالفین کوپرکھاگیااسی کسوٹی پرسیاسی گھونسلوں سے پی ٹی آئی میں پروازکرنے والوں کوبھی پرکھاجائے۔قوم نے عمران خان کی قیادت پراعتمادکااظہارکرکے پی ٹی آئی کوتبدیلی کے لئے ووٹ دیئے تھے عوام کاتیل اورکچومرنکالنے کے لئے نہیں۔ پائی پائی ملا کر کچھ جمع کرنے والے غریبوں کی جیبوں سے ہرچیزکے بہانے سو،پانچ سو اورہزار روپے نکالنے سے بہترہے کہ اب کی بار سترسالوں سے ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے اورچاٹنے والوں پرہاتھ ڈالاجائے۔جب تک قومی لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں ہوتی اس وقت تک غریبوں کاخون چوسنے اورگوشت نوچنے سے سوائے گناہ اورناکامی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بڑے بڑے اژدھوں کوپال کرغریبوں کی زندگی اجیرن کرنے سے بندہ ایماندارنہیں گناہ گاربنتاہے۔جوحکمران اپنی رعایاپرظلم کرے وہ پھراللہ کے عذاب سے بھی کبھی بچ نہیں سکتا۔ملک کوریاست مدینہ بنانے کے نعرے لگانے والوں نے حکمرانی کاجواندازاختیارکیاہواہے وہ انصاف سے دورکوسوں دورہے۔ریاست مدینہ میں کسی کی زندگی اجیرن نہیں بنائی گئی۔ریاست مدینہ میں کسی پرزندگی کے دربندنہیں کئے گئے۔ملک میں بدترین مہنگائی،غربت اوربیروزگاری یہ غریبوں کوجیتے جی مارنے کے مترادف ہے۔ماناکہ اس قوم نے وزیراعظم عمران خان جیسے سبزباغات دکھانے والے کئی حکمرانوں،لیڈروں اورسیاستدانوں کوسروں پربٹھایالیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قوم نے عوام کومہنگائی،غربت،بیروزگاری اوربھوک وافلاس کی آگ میں جھونکنے والوں کوپھراقتدارسے باہربھی پھینکا۔وزیراعظم عمران خان سترسالوں سے ملک کولوٹنے والے چوراورڈاکوؤں کے ساتھ جومرضی کریں۔اپنے وعدوں اوردعوؤں کے مطابق ان کے پیٹ پھاڑکران سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت نکالیں یاپھرماضی کے حکمرانوں کی طرح سیاسی مجبوریوں کے تحت ان چوراورڈاکوؤں کواپنے ساتھ ملاکران کودوبارہ،،دودھ،،کی رکھوالی پرمامورکریں لیکن خداراغریب عوام کی جان اوران کاپیچھاچھوڑدیں۔ٹیکس اوردیگرمدمیں لوٹنے کی ہرکہانی عوام سے شروع کرکے عوام پرختم کرنے سے آج ملک کے ہرغریب کے لئے جینامحال اورحرام ہوچکاہے۔عوام عوام کی رٹ لگانے والے وزیراعظم عمران خان اگرچوروں اورلٹیروں پرہاتھ ڈال کران کے بڑے بڑے پیٹ اورجہنم پھاڑنہیں سکتے توپھرکم ازکم وہ غریبوں کی جان توچھوڑدیں۔اس ملک میں ایمانداری کے سرٹیفکیٹ اورسبزباغات کی سیرکے ذریعے غریب عوام آخرکب تک تماشابنیں گے۔۔؟

حصہ

جواب چھوڑ دیں