ڈالر میری”طنز“ میں

دوحہ سے واپس اسلام آباد ائیر پورٹ پر عجب مشاہدہ ہوا کہ ایک کمسن قلی بچے نے میرا سامان باوجودیکہ میرے منع کرنے ٹیکسی میں رکھنا شروع کردیا،سامان رکھ چکنے کے بعدمیں نے اس بچے کی کمسنی دیکھتے ہوئے ازراہ ہمدردی سو روپے کا ایک نوٹ دینا چاہا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکارکر دیا کہ صاحب مجھے روپیہ نہیں بلکہ ڈالر دے دو تو بہتر رہے گا،میں نے کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ڈالر نہیں ہیں تو بچے نے خالصتا ً ہندکو لہجے میں جواب دیا کہ ”اپنی جیب تکو،ماڑے کو نظر اشنے پئے آں“یعنی اپنی پاکٹ چیک کرو مجھے نظر آرہے ہیں۔بچے کے پر اعتماد لہجے نے مجھے حیران ششدر کر دیا،کہ اسے کیسا پتہ چلا کہ میرے پاس واقعی ڈالر ہیں،ابھی میں محو حیرت تھا کہ بچے کی ایک اور بات مجھے ورطہ حیرت میں ڈال گئی کہ ”سر ڈالر جہاں بھی ہو بولتا ہے“ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال اور ڈالر کی اونچی پرواز سے لگتا ہے کہ واقعی ڈالر جہاں بھی ہو صرف بولتا ہی نہیں بلکہ بہت سو کی بولتی بھی بند کروا دیتا ہے۔
امریکی انقلاب 1775 کے بعد امریکی کانگریس نے کاٖغذی زرکو جاری کیا جسے کانٹینینٹل کرنسی کہا جانے لگا۔بعد ازاں یونائیٹڈ سٹیٹ منٹ نے ایک قانون پاس کیا جسے coinage Act 1792 کہا جاتا ہے۔جس کے مطابق ڈالر کو یونائیٹڈ سٹیٹ کی کرنسی قرار دیا گیا،ڈالر کا سب سے بڑاا نوٹ سو ڈالر کا ہے،ایک ڈالر سے لے کر سو ڈالر کے نوٹ پر مختلف امریکی صدور کی تصاویر ہیں،جیسے کہ ایک ڈالر کے نوٹ پر جارج واشنگٹن،دو ڈالر پر تھامس جیفرسن،پانچ ڈالر پر ابراہم لنکن،دس ڈالر پر الیگزینڈر ہیملٹن،بیس ڈالر پر انڈریو جیکسن،بیس پر الیس ایس گرانٹ اور سو ڈالر پر بنجمن فرینکلن کی تصاویر کو شائع کیا گیا ہے۔ڈالر کے 9 نوٹ پر نو صدور کی تصاویر اس بات کی بھی غمازی ہیں کہ کیسے کیسے امریکی حکمران ہم پر مسلط رہے ہیں،یہ تو تھیں سنجیدہ باتیں اب ذرا ایک طنز ڈالر کی بڑھتی ہوئی ویلیو پر،ڈالر دنیا کی واحد بدمعاش کرنسی ہے جس کے سامنے چھوٹے ممالک کے نوٹ ”تیلی تنبولی“نظر آتے ہیں۔ڈالر ایک ایسا سر کاری سانڈھ ہے جسے نہ کوئی روک سکتا ہے،نہ ٹوک سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے”کنٹرول“کر سکتا ہے۔اسے صرف وہی کنٹرول کر سکتا ہے جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتا۔خصوصا اگر پاکستان کی بات کی جائے تو آجکل ڈالر کسی کے کنٹرول میں نہیں خاص کر حکومت پاکستان کے تو کنٹرول سے مکمل طور پر باہر ہے۔ویسے بھی پاکستان میں بیوی اور ڈالر بے لگام ہو جائیں تو کبھی کنٹرول میں نہیں آتے،ان دونوں کو کنٹرول کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انہیں بے لگام ہی رہنے دیا جائے وقت کے ساتھ ساتھ یہ خود ہی کنٹرول میں آجائیں گے،مسئلہ دراصل یہ ہے کہ بیوی کی لگام اور ڈالر کی کمان اگر کسی بدمعاش قسم کے انسان کے پاس ہو تو کنٹرول میں کرنے آسان ہو جاتے ہیں لہذا ڈالر کے ساتھ بھی آجکل اگر ایسا ہی سلوک کیا جائے تو یہ حساب کتاب میں آسکتا ہے وگرنہ ہمارے حساب تو خراب ہو ہی چکے ہیں۔ جیب میں ڈالر ہوں تو ”کملے بھی سیانے“ہو جاتے ہیں وگرنہ جس شرح سے ڈالر مضبوط ہو کر روپیہ کی ویلیو کو کم کر رہا ہے اگر یہ صورت حال چند ماہ اور رہی تو سیانے بھی کملے ہونا شروع ہو جائیں گے۔حقائق سے ویسے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ ڈالر،شیخ رشید اور امریکی جہاں بھی جاتے ہیں اپنے اثرات ضرور چھوڑتے ہیں وہ اثرات سیاسی ہو یا معاشی یا پھر”شیخ رشیدی“۔پھر سے یاد آیا کہ سنا ہے کہ ڈالر پھر سے مہنگا ہو گیا ہے،ارے یہ سستا کب ہوا تھا جو پھر سے مہنگا ہو گیا ہے۔ایک بار میرے ایک امریکی دوست نے یہ خبر سن کر کہ ڈالر ایک بار پھر بے لگام ہو گیا ہے،اسے لگام دینے کے لئے اس نے اپنے اکاؤنٹ سے تمام ڈالر اپنی بیوی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دئے،اب ڈالر تواس کے کنٹرول میں ہے مگر اس کی بیوی ان ڈالرز کی وجہ سے بے لگام ہو گئی ہے۔خبر تو یہ بھی ہے کہ ڈالر نے اونچی اڑان بھرنا شروع کردی ہے اب دیکھئے کہ ڈالر کا یہ شاہین کہاں جاکر بسیرا کرتا ہے،ایک بار ہوا یوں کہ ایسی ایک خبر پر ہم نے بھی چند ہزار ڈالرز لے کر رکھ چھوڑے کہ تمام چینلز دن رات ایک ہی خبر کا ٹکر چلا رہے تھے کہ ڈالر ابھی اور اڑان بھرے گا،پھر کیا ہوا کہ اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ پر کاٹ دیے۔اگلے ہفتے ہی ایسی پرواز نیچے آئی کہ جیسے شاہین شکار دیکھ کر بلندی سے ایک سرعت سے نیچے آتا ہے۔اس کے بعد ہماری توبہ کبھی ڈالر پر بھروسہ نہیں کیا،مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ ملکی معاشی صورت حال دگرگوں ہے اور ڈالر واقعی کنٹرول سے باہر ہے،مجھے امام غزالی کا ایک قول یاد آگیا کہ اگر ملک میں اشیا مہنگی ہو جائیں تو چند روز ان کا استعمال ترک کر دیں قیمتیں خود بخود نیچے آجائیں گی۔کیا خیال ہے اگر ہم بھی ایسا کر کے دیکھ لیں؟

جواب چھوڑ دیں