تحریری صلاحیت بڑھانے کے شوقین طلبہ کے درمیان

” جامعہ کے کچھ طلبہ آپ سے ملاقات اور گفتگو کرنا چاہتے ہیں_” جامعہ اسلامیہ ، شانتاپورم (کیرلا) میں اسٹوڈینٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) کے ذمے دار عزیزی سرور حسین نے خواہش ظاہر کی تو میں نے ہامی بھر لی _ ملاقات کے لیے نمازِ فجر کے بعد کا وقت طے ہوا _

دس بارہ طلبہ اکٹھا ہوئے _ مجھے اپنے ساتھ لیا _ جامعہ کیمپس سے باہر نکل کر کھیتوں سے ہوتے ہوئے روڈ پر آئے اور ایک کینٹین میں بیٹھے کہ گفتگو کے ساتھ چائے نوشی بھی ہو _

پہلے سب کا تعارف ہوا _ یہ طلبہ مختلف ریاستوں ، مثلاً مہاراشٹر ، راجستھان ، تلنگانہ ، دہلی ، مغربی بنگال ، اترپردیش وغیرہ کے تھے _ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں طلبہ ملک کی تمام ریاستوں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں _

ایک طالب علم نے خواہش کی : ” ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی علی گڑھ ، جس کے آپ سکریٹری ہیں ، وہاں چلنے والے تصنیفی کورس کے بارے میں کچھ بتائیے _”
میں نے بتایا کہ ” یہ دو سالہ کورس ہے ، جس میں اسلامیات کی بنیادی کتابوں کا مطالعہ کروانے کے ساتھ تحریر و تصنیف کی مشق کروائی جاتی ہے _ ادارہ میں قیام لازمی ہے _ مصارف کے لیے 5 ہزار روپے اسکالر شپ دی جاتی ہے ، جس میں سے مصارفِ طعام طلبہ کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے _ “

” اس کورس میں داخلہ کیسے ہوتا ہے؟ ” اس سوال کے جواب میں میں نے بتایا کہ ” اس کا اعلان کیا جاتا ہے _ درخواستیں آنے کے بعد امیدواروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے _ ان میں سے بہتر صلاحیت والوں کا انتخاب کیا جاتا ہے _”

” مختلف موضوعات پر آپ کی پوسٹس کثرت سے آتی رہتی ہیں _ آپ اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں؟” ایک طالب علم نے سوال کیا _
میں نے جواب دیا : ” فیس بک پر میری جو تحریریں آتی ہیں انھیں میں عموماً ایک نشست میں نہیں لکھتا ، بلکہ صبح سے شام تک تھوڑا تھوڑا لکھتا رہتا ہوں _ شام میں فرصت پانے پر انھیں مکمل کرتا ہوں _ آیات اور احادیث کے متن اور حوالے مکمل کرتا ہوں ، پھر اسے عام کرتا ہوں _”

ایک طالب علم کا سوال تھا : ” آپ کے موضوعات میں بڑی جدّت اور ندرت ہوتی ہے _ آپ موضوعات کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟”
میں نے بتایا : ” آدمی ذہن کھلا رکھے تو اسے موضوعات کی کمی کا شکوہ نہیں ہوگا _ روزانہ اخبار کا مطالعہ کیجیے تو بے شمار سماجی مسائل سامنے آتے ہیں _ موضوعات تلاش کرتے وقت وہ سماجی سمائل میری دل چسپی کے ہوتے ہیں جن میں عوام کو رہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے _ میری کوشش رہتی ہے کہ کسی مسئلے کا تجزیہ کرتے وقت میں لازماً یہ بھی بتاؤں کہ اس مسئلے میں اسلام کیا رہ نمائی کرتا ہے؟ ایسے مسائل اٹھاؤں جو عام لوگوں کی دل چسپی کے ہوں _”

” اچھی مضمون نگاری کیسے کی جائے؟ اس سلسلے میں کچھ مفید مشورے دیجیے _ ” ایک طالب علم نے سوال کیا _
میں نے بتایا : ” پہلے ذہن بنائیے کہ کس موضوع پر لکھنا ہے؟ پھر لکھنے آغاز کرنے سے پہلے نکات کی شکل میں خاکہ بنائیے کہ کس ترتیب سے لکھنا ہے؟ عین ممکن ہے کہ لکھنے کے دوران ترتیب بدلنی پڑے ، لیکن بغیر خاکہ بنائے نہ لکھیے _ تمہید مختصر ہو اور بہت جلد موضوع پر آجائیے _ بہتر ہے کہ مضمون میں ذیلی عناوین بھی قائم کیجیے _ مضمون کے شروع ہی میں بیان کردیجیے کہ آپ مضمون میں کس مسئلے کو اٹھانا چاہتے ہیں اور کس موضوع پر بحث کرنا چاہتے ہیں؟ مضمون کا خاتمہ خلاصے اور حاصل بحث پر کیجیے ، یا وہ اصل بات لکھیے جو آپ نے مضمون میں کہی ہے _ نئے لکھنے والے اپنی تحریروں میں بھاری بھرکم اور مشکل الفاظ لانا خوبی سمجھتے ہیں ، حالاں کہ یہ خوبی نہیں ہے _ تحریر کو آسان ، سادہ اور عام فہم بنانے کی کوشش کرنی چاہیے _”

اس پر ایک صاحب فوراً بول پڑے : ” آپ کی تحریریں بہت سادہ ہوتی ہیں ، ان میں بہت آسان الفاظ کا استعمال ہوتا ہے ، لیکن وہ بہت مؤثر ہوتی ہیں _ کیا آپ اس کے لیے شعوری طور پر کوشش کرتے ہیں _”
میں نے جواب دیا : ” میری ابتدائی تعلیم رام پور میں ہوئی ہے _ تحریری اسلوب کے بارے میں میں نے جناب مائل خیرابادی سے کافی استفادہ کیا ہے _ ان کے رسالے ‘حجاب’ میں میرے کئی مضامین شائع ہوئے ہیں _ ایک مرتبہ میں نے ‘سیرتِ نبوی’ پر ایک مضمون بھیجا ، جس میں ایک جملہ ان الفاظ میں تھا : ” جب اللہ کے رسول کی بعثت ہوئی _” اسے کاٹ کر انھوں نے یوں کردیا :” جب اللہ کے رسول نبی بنائے گئے _”
میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنی تحریروں میں آسان سے آسان الفاظ استعمال کروں _ آسان ہونے کا مطلب بازاری یا بول چال کے الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں کہ قاری پر ان کا مفہوم واضح ہو ، اسے کسی لفظ کا مطلب سمجھنے کے لیے ڈکشنری کی مدد نہ لینی پڑے _
میں نے کہا کہ ” علماء اور فارغینِ مدارس اس پہلو کو ملحوظ نہیں رکھتے _ عموماً ان کی تحریریں عربی زدہ ہوتی ہیں _ ان میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے _ اس بنا پر وہ بوجھل ہوجاتی ہیں اور عام لوگوں میں انھیں پڑھنے کی دل چسپی پیدا نہیں ہوتی _”

” تحریر میں روانی لانے کا کیا طریقہ ہے؟ ” ایک طالب علم نےسوال کیا _
میں نے جواب دیا : ” کوئی مضمون لکھنے کے بعد اسے کئی بار پڑھیے _ املا درست کیجیے _ ایک ایک لفظ پر ٹھہر کر سوچیے کہ کیا اس کی جگہ کوئی دوسرا بہتر لفظ آسکتا ہے؟ ایک بات کو مثبت انداز میں لکھنے کے بجائے اگر اسے استفہامیہ اسلوب میں لکھا جائے تو کیسا رہے گا ؟ اگر غائب کے صیغے کو حاضر سے بدل دیا جائے تو کیا یہ بہتر رہے گا ؟ جملوں کی نشست درست کیجیے _ خلاصہ یہ کہ اپنی تحریر کے خود ناقد بنیے اور بے دردی سے کاٹ چھانپ کیجیے _ جب تک اپنی تحریر کی اصلاح کے لیے دوسروں پر آپ کا انحصار باقی رہے گا ، اس میں خوبی پیدا نہیں ہوسکتی _ آپ اپنی تحریر کو خود بار بار اصلاح کی نظر سے دیکھیں گے تو اس کی تاثیر اور روانی میں اضافہ ہوتا ہے _ میں اپنی ہر تحریر کو عام کرنے سے پہلے کئی بار پڑھتا ہوں اور بار بار اس کی نوک پلک درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں _”

طلبہ اور بھی سوالات کرنے کے موڈ میں تھے ، مگر ان کی کلاس کا وقت ہورہا تھا ، اس لیے مجلس برخواست کرنی پڑی _ آخر میں انھوں نے ایک گروپ فوٹو کی خواہش کی ، جسے میں رد نہ کرسکا _

حصہ
mm
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی صاحبِ طرز قلم کار ،مصنف اور دانش ور ہیں۔ وہ تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیربھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں