غریب عوام اور حکمران

پاکستان کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک جو بھی خاندان اس ملک کی سیاست پر راج کرتے آئے ہیں۔ ان خاندانوں کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔اب تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سسکتے، بلکتے غریب عوام کو خوشحال بنانے، اور غربت کا خاتمہ,سڑکیں، گلیاں، تعلیم اور صاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے۔پاکستان میں آمریت ہو یا جمہوریت، حکومت مسلم لیگ کی ہو یا پیپلز پارٹی کی، تحریک انصاف کی ہو یا پھر قاف لیگ کی،اے این پی کی ہو یا ایم کیو ایم کی اسمبلیوں تک نوے فیصد انہی خاندانوں کے لوگ ہیں۔اس وقت تمام سیاسی جماعتیں محض نام کی جمہوری جماعتیں ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے تمام تر فیصلے صرف بڑے لیڈر آمرانہ انداز میں کر رہے ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کی جمہوریت کی اوقات صرف اتنی ہے کہ ایک طرف نسلوں سے چلے آ رہے یہ خاندانی لیڈر ہیں اور دوسری طرف ان کی خدمت کرنے والے انکے غلام۔قیام پاکستان کے چند سالوں بعد سے لے کر آج تک ان تمام خاندانوں کا مقصد اپنے ذاتی مفادات، اپنے خاندان,اپنے رشتہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنا رہا ہے۔ پاکستان کے نوے فیصد ایم پی ایز اور ایم این ایز کی ذاتی لینڈ کروزرز، بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کو ایک پلڑ میں رکھیے اور دوسرے پلڑے میں پاکستان کی عوام کو ملنے والی سہولیات کو رکھیے، آپ کو فرق سے پتا چل جائے گا کہ قوم یا عوام کے مفاد میں انہوں نے کس قدر سے کام کیا ہے۔اپنی ذاتی مفادات کے لیے یہ خاندانی سیاستدان کسی بھی جماعت کو چھوڑ سکتے ہیں اور کسی بھی نئی جماعت اور اتحاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان خاندانی سیاستدانوں کو نہ تو نظریات اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں سے کوئی دلچسپی ہے۔ جمہوریت کے ان ٹھیکیداروں کی تمام تر ہمدردیاں متوقع مالی فوائد، ممکنہ وزارتوں، عہدوں، اقتدار اور طاقت کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایک طرف سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدوروں کے وہ بچے ہیں، جن کے مقدر میں جعلی ادویات لکھ دی گئی ہیں تو دوسری طرف اے سی کمروں میں بیٹھ کر ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی وہ کرپٹ لوگ ہے، جس کے لیے سر درد کی دوا بھی بیرون ملک سے آتی ہے اور ان کے جانوروں کے علاج کے لیے بھی الگ ڈاکٹر موجود ہیں۔
ایک طرف غریب کے پسینے سے چلنے والی موٹے ٹائروں والی سرکاری گاڑیاں ہیں، جو سیاستدانوں کے بچوں کو ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے نکال کر ایئر کنڈیشنڈ اسکولوں تک چھوڑتی ہیں، دوسری طرف وہ بچے ہیں جو پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں بسوں اور ویگنوں سے لٹک کر سرکاری اسکولوں تک پہنچتے ہیں۔اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ جاگیردار، یہ وڈیرے، یہ صنعت کار تحریک انصاف میں جا کر یا کسی دوسری جماعت کا جھنڈا لے کر راتوں رات اپنے عشروں کے مفاد پرستانہ کردار کو بدل ڈالیں گے تو یہ صرف خام خیالی ہے، دیوانے کا خواب ہے۔ یہ الیکٹ ایبلز، یہ ایک ہزار خاندانوں کے چشم و چراغ، یہ وڈیرے، یہ جاگیردار عمران خان کی جھولی میں بیٹھ کر بھی خیال اپنے مفادات کا ہی رکھیں گے۔چوروں اور ڈاکوؤں کی کم از کم یہ خوبی تو ہوتی ہے کہ وہ منافق نہیں ہوتے۔ آدمی دیکھتے ہی یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ لوٹنے آئے ہیں۔ ٹھگوں یا نوسر بازوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ پہلے بندے کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اس کے دل میں یقین پیدا کر دیتے ہیں کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں۔ لیکن لٹ جانے کے بعد انسان کو پتا چلتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہو چکا ہے۔ آئندہ انتخابات سے پہلے ایک مرتبہ پھر یہ بازی گر میدان میں اترے ہیں، ایک مرتبہ پھر ہسپتالوں میں لاعلاج مرنے والوں کا دکھ ان کو ستائے جا رہا ہے، ایک مرتبہ پھر غریب کی بیٹی کا جہیز نہ ہونے کا غم ان کی ’راتوں کی نیندیں اڑا چکا‘ ہے۔
یہ شعبدہ باز ماضی کی طرح پھر وہی پرانے سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ میرے علاقے کا جاگیر دار ایم این اے پھر کہہ رہا ہے کہ نوکریاں دلواؤں گا، نئی سڑکوں کا جال بچھا دوں گا، ہر دیہات میں گیس پہنچے گی، تمہارے بچے اسکول جائیں گے۔ عوام کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان نوسر بازوں نے تو گزشتہ برس بھی سڑک بنوائی تھی لیکن وہ ٹوٹی کیوں؟ ان ٹھگوں نے ٹھیکدار سے کتنا حصہ وصول کیا؟ عوام کے ٹیکس سے ہی سڑکیں اور پل بنا کر کیا احسان کیا ہے انہوں نے؟ سڑکوں اور تمام سرکاری کاموں کا ٹھیکہ ان کے دوستوں کو ہی کیوں ملتا ہے؟ جاگیر دار اناج اگانے والے بھوکے پیاسے کسانوں کی اولاد کو ایک مرتبہ پھر بریانی کی پلیٹوں کا جھانسہ دے رہے ہیں۔ دوائیاں سستی اور نئے ہسپتال بنانے کے خواب ایک مرتبہ پھر دکھائے جا رہے ہیں۔ وڈیروں کے ہاتھ غریب کے ”ناپاک“ ہاتھوں کو پھر چُھو رہے ہیں۔ مزدور کے پسینے کی بُو پھر چند لمحات کے لیے صاحب کے گلے پر لگے پرفیوم سے مدھم پڑ رہی ہے۔ پھر غریب اپنے بچے کو افسر بنتا دیکھ رہا ہے اور ایک مرتبہ پھر کسانوں کی آنکھوں میں کھادیں سستی اور گندم کے ریٹ مناسب ملنے کی اُمیدیں جاگنے لگی ہیں۔ لیکن پاکستان کے نسل در نسل دھوکا کھانے والے عوام کو اس وقت ہوش آتا ہے، جب نسل در نسل لٹیروں کی امپورٹڈ گاڑیاں ان کے درختوں کے حصے کا پانی تک پی چکی ہوتی ہیں۔ یہ سیاستدان ہرگز نہیں ہیں، یہ نوسر باز ہیں، یہ ٹھگ ہیں بلکہ یہ بنارسی ٹھگ ہیں۔ سچ پوچھیے تو ’دو ٹکے کے پاکستانی عوام‘ فوج، سیاستدانوں اور عدلیہ کے درمیان وہ فٹ بال بن چکے ہیں، جسے ہر کوئی ٹھوکریں مار رہا ہے۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی اُنہی سیاستدانوں کے خلاف متحرک ہوتی ہے، جو بوٹوں والوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے سے انکار کر دیتے ہیں اور دوسری طرف ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ بھی اسی وقت بلند ہوتا ہے، جب لاہور والوں کا اپنا تخت و تاج لٹ جاتا ہے۔ ورنہ عوام کون اور یہ ووٹ اور ووٹر کون؟

حصہ

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں