لبادہِ منافقت

منافقت کسی قوم کی زندگی کا بہت بڑا روگ ہے -یہ ایک سرطان کی طرح ملّی وجود کی رگ رگ میں سرایت کر جاتا ہے اور اس سے ایک قوم دُنیا میں رسوا ہو کر رہ جاتی ہے -یہ ایسی خطرناک دِلدل ہے کہ جو اس میں ایک بار دھنس جائے اس کے لیے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا – سادہ الفاظ میں منافقت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ انسان اندر سے کچھ اور ہو اور باہر سے کچھ اور – یہ کلمہ گو,نام نہاد مسلمان دائرہ اسلام میں داخل ہونے والا ایسا شخص ہے جس کے قول و فعل میں تضاد ہو -جس کا ظاہر وباطن ایک دوسرے کے برعکس ہوں -انسانی زندگی کا ایک دائرہ اس کی ذاتی اور انفرادی زندگی تک محدود ہوتا ہے اور دوسرا دائرہ سماجی اور معاشرتی زندگی سے تعلق رکھتا ہے -منافق شخص ہر وقت دھوکہ دینے میں لگا رہتا ہے –
نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافق شخص کی تین نشانیاں بتائی ہیں: جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے, جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے-ہمیں یہ بات سوچنی چاہئیے آیا کہ ہم میں تو اس کے آثار نہیں پائے جاتے؟؟
سب سے پہلے منافقت کرنے والے کو ذاتی طور پر اس دُنیا میں بہت سے نقصانات پہنچتے ہیں – اس کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے بہت سے کام رُک جاتے ہیں – اگر وہ کاروباری شخص ہے, تو اس کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے – سیاستدان ہے تو اس مستقبل کی کامیابی ختم ہو جاتی ہے – دوست رشتے دار ایسے شخص سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور وہ معاشرے میں نفرت وحقارت کی علامت بن کر رہ جاتا ہے -.منافقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک انسان اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ اندر سے کھوکھلا اور گناہ گار ہے -اس لیے وہ جھوٹے انداز میں اچھا بننے کے لییمنافقت کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے- ایسا شخص لوگو ں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے کہ وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے –
قرآن مجید نے منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ تعالی اور اہل ایمان کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں -حالانکہ حقیقت میں تو وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں -(”ان لوگوں نے اپنی جھوٹی قسموں کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے اور(اس کی آڑ میں لوگوں کو)اللہ تعالی کی راہ سے روکتے رہتے ہیں بے شک وہ بہت بُرے کام کر رہے ہیں ”(المنٰفقون:2)منافقوں کو اہل کتاب کا بھائی کہا گیا ہے کیونکہ ان کے درمیان کفر قدرمشترک ہے اگرچہ دونوں کے کفر کی نوعیت مختلف ہے -منافق شخص بڑا عقلمند بنتا ہے اس لیے وہ دوغلے پن کی راہ پہ چلتا ہے لیکن در حقیقت اس سے بڑھ کر کوئی بیوقوف نہیں -آخرت تو آخرت, اپنی دنیا بھی تباہ کر رہا ہے -منافق شخص صرف ظاہری طور پر ایمان لاتا ہے باطنی وہ کافر ہی رہتا ہے -ایسے لوگ نہایت فصاحت اور چرب زبانی سے ایسی لچھے دار باتیں کرتے ہیں کہ خوامخواہ سننے کو دل چاہتا ہے -نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا گیا تھا کہ ”اور(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تو ان منافقوں کو دیکھتا ہے تو ان کے ڈیل ڈول تجھ کو بھلے لگتے ہیں اور وہ کوئی بات کریں تو تُو ان کی بات (اچھی طرح) سنتا ہے وہ (آدمی نہیں ہیں)لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر رکھی جائیں جہاں زور کی آواز ہوئی وہ سمجھتے ہیں ہم للکارے گئے بڑے دشمن یہی لوگ ہیں ”(المنٰفقون:4)جیسے لکڑیوں میں عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں یہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھیں تو یہ نہ سمجھئیکہ آدمی بیٹھے ہیں بلکہ یوں سمجھئے کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر رکھ دی گئیں ہیں گو بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں -(قرطبی)
منافق انتہائی بزدل اور ڈرپوک ہیں – اپنے سنگین جرائم اور بے ایمانیوں کی وجہ سے انہیں ہر آن دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ان کی دغا بازیوں کا پردہ چاک نہ ہو جائے -کیونکہ یہ مارآستین ہیں, ظاہر ہے جو نقصان گھر کا بھیدی پہنچا سکتا ہے وہ باہر کا دشمن نہیں پہنچا سکتا -تاریخ اسلام میں غزوہ احد کے موقع پر منافقین کھل کر سامنے آگئے تھے-ان کے چہروں سیمنافقت کے نقاب اتر گئے تھے
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ (جنگ تبوک کے کچھ عرصہ بعد) جب منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبّی کاانتقال ہو گیا -اس کے بیٹے (حضرت عبداللہ بن عبداللہ جو مخلص مسلمان تھے) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے باپ کے کفن میں شامل کرنے کے لیے کُرتہ مانگا -آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کُرتہ دے دیا -پھر آئے اور نمازِ جنازہ پڑھانے کی درخواست کی -آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کُرتہ پکڑ لیا اور کہنے لگے:” اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں -حالانکہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منافقین کے لیے دعا کرنے سے منع فرمایا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے ان کے لیے ستّر مرتبہ بھی بخشش مانگو, ان کی بخشش نہیں ہوگی -اگرمجھے معلام ہو کہ ستّر مرتبہ سے زیادہ بخشش مانگنے سے ان کی بخشش ہوجائے گی تو میں زیادہ مرتبہ بھی بخشش مانگنے پر تیار ہوں -آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی -اس کے بعد سورت التوبہ کی یہ آیت نازل ہوئی -”اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان (منافقوں) میں سے اگر کوئی مر جائے تو اُس (کے جنازے) پر کبھی نماز نہ پڑھ اور نہ اُس کی قبر پر کھڑا ہو کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کو نہ مانا اور مرے (بھی تو) نافرمانی کی حالت میں اور ان کے مال اور اولاد (بہت دیکھ کر) پر تعجب نہ کر اللہ اور کچھ نہیں یہ چاہتا ہے کہ دُنیا میں اِن چیزوں کا عذاب ان کو لگا دے اور جب ان کی جان نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے (84-86) اللہ تعالی نے وحی نازل کر کے اس بات پر مہر لگا دی کے آئندہ کسی منافق کا جنازہ تو دور کی بات اس کے لیے مغفرت کی دعا بھی نہیں کی جاسکتی اللہ تعالی نے اعلان فرما دیا ”(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تُو اُن کے لیے بخشش کی دعا کرے یا نہ کرے دونو اُن کے واسطے برابر ہیں اللہ تعالی تو کبھی ان کو بخششنے والا نہیں کیونکہ اللہ تعالی بدکاروں کو راہ پر نہیں لاتا (المنٰفقون:6)- ایک اور مقام پر فرمایا ”مشرک اور منافق پر نمازِ جنازہ ممنوع ہے”(التوبہ:84)
اللہ تعالی نے سورت الاحزاب میں فرما دیا کہ ”اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ڈرتا رہ اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان بے شک اللہ (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے (آیت نمبر:1)اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی منافق کی نماجنازہ نہیں پڑھتے تھے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوتے تھے اپنی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی (حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ) کو مدینے کے تمام منافقین کا بتا دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب مدینے میں کوئی شخص فوت ہوتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پتہ کروایا کرتے تھے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ اس شخص کی نمازِ جنازہ کے وقت حاضر ہے تو ان کی موجودگی پا کر جنازے میں شرکت فرماتے تھے جس شخص کی نمازِ جنازہ میں حزیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ موجود نہ ہوتے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نہیں شامل ہوتے تھے -(ابن کثیر)
اب ہم زرا نظر دوڑائے اپنے اردگرد تو ہم پر منافقت کی تلخ حقیقتیں واضح ہوگی – ہمارے آپس کے تعلقات اور رشتہ داری میں اخلاص نہیں رہا, آپس کے لین دین میں کسی کے ساتھ ہمارے تعلقات زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ معمولی اور واجبی سے-اب اس بات کی آخر کیا ضرورت ہے کہ ہم ہر ایک پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کریں کہ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت گہرے ہیں -ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ تمہیں واقعی محبت ہو اسے یہ بات بتا دیا کرو -اس کا مقصد یہ ہے کہ جھوٹی محبت جتا کر دھوکہ نہ دیا جائے- ایسیہی ایک تاجر اور دکان دار خریداروں سے محبت جتاتا ہے -کہتا ہے یہ رعایت صرف آپ کے لیے ہے -اس طرح انہیں چالبازی سے اعتماد میں لے کر ان کو دھوکہ دیتا ہے -ملاوٹ کے ذریعے لوگوں کو ناقص اشیاء فراہم کر کے اُن کی صحت برباد کرتے ہیں -نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ” ایسے لوگ مسلمانوں میں سے نہیں ہیں ” –
ہمارے سماجی معاملات بھی اس رزیلی بیماری سے پاک نہیں رہے آج کل سماجی خدمت کا بھی کافی رواج ہے -کچھ لوگ مصیبت زدہ اور ضرورت مندوں کی مدد اور خدمت کرتے ہیں وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے اندر ملک و ملّت کی خدمت کا جذبہ ہے لیکن ان کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں – ہماریمعاشرے میں منافقت کی زندہ مثالیں موجود ہیں -ہمارے تھانے رشوت کا گڑھ ہیں لیکن وہاں لکھا ہوتا ہے کہ” رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”
ہماری کچہری میں سستے داموں میں گواہ مل جاتا ہے مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ” جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے”
ایسے ہی ہماری عدالتوں میں انصاف نیلام ہوتا ہے مگر وہاں بھی لکھا ہوتا ہے” لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرو”
ہماری درس گاہیں جہالت بیچتی ہیں مگر وہاں بھی لکھا ہوتا ہے ”علم حاصل کرو, ماں کی گود سے قبر کی گود تک ”
ہمارے ہسپتالوں میں موت بانٹی جاتی ہے مگر وہاں بھی لکھا ہوتا ہے ”اور جس نے ایک زندگی بچائی اس نے گویا سارے انسانوں کو بچایا ”ہمارے بازار جھوٹ,خیانت اور ملاوٹ کے بہت بڑے اڈے ہیں مگر وہاں بھی یہ لکھنا ضروری سمجھا گیا ہے کہ ” جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ”ہم جو لکھتے ہیں وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جو کرتے ہیں وہ ہمارا عمل ہے -جب عمل عقیدے کے خلاف ہو تو اس کا ہی نام منافقت ہے – افراد کی منافقت معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے -جس معاشرے کے لوگوں کا ظاہر وباطن ایک نہ ہو ان کا باہمی اعتماد ختم ہوجاتا ہے -ایسا معاشرہ امن اور خوشحالی سے محروم ہو جاتا ہے -اسی منافقت کی وجہ سے ملک و ملّت کو نقصان پہنچتا ہے-قوموں کی برادری میں ذلّت ورسوائی ہوتی ہے -برآمدات متاثر ہوتی ہے -بیرونی تجارت کم ہوجاتی ہے -قومی ترقی رُک جاتی ہے -صنعتیں تباہ ہو جاتی ہیں -بے روزگاری بڑھتی ہیں – یہ ایک ایسا ناسور ہے جو ہماری جڑیں کھوکھلی کررہا ہے –
کیا آج ہم ایسی صورت حال سے دوچار نہیں ہو رہے؟؟؟ ہم وعدہ کرکے بھول جاتے ہیں.. بات کرتے ہیں تو جھوٹ کی ملاوٹ ضرروی سمجھتے ہیں اور جب کوئی امانت ہمیں سونپی جائے (یہ امانت مال وزر..دفتری, زمینی ضروری کاغذات ہو یا کسی کے راز کی پردہ داری رکھنی ہوں… یہ راز فرد کا ہو, معاشرے کا ہو یا ملک وملّت کا) اس میں جان بوجھ کے خیانت کرتے ہیں اور پھر شرمندہ بھی نہیں ہوتے….. منافقت کرنے والی کی دنیا تو تباہ ہوتی ہی ہے ساتھ وہ اپنی آخرت بھی برباد کرتا ہے ارشادِ ربّانی ہے کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوگے -قرآن میں اس کے لیے درک کا لفظ آیا ہے -عربی میں اِس کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی سیڑھی سے نیچے اتر رہا ہو تو سیڑھی کا ہر نچلا پایہ درک کہلاتا ہے -یعنی منافق شخص انسانیت اور زندگی کی سیڑھی پر مسلسل ذلت پستی ہی کی طرف سفر کرتا رہا ہے اور اپنی پستی کے اس سفر کی بنا پر آخرت میں جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں پہنچ گیا -منافق کی خوراک جہنمیوں کا خون اور پیپ ہوگی -جو انتہائی بد بو دار خوراک ہے -ابھی وقت ہے اپنے آپ کو سدھارنے کا اپنا محاسبہ کرنے… دعا ہے اللہ تعالٰی ہمیں ذلت وپستی کی اِس اِنتہا سے اپنی پناہ میں لے لیں -آمین یا رب العلمین

حصہ

جواب چھوڑ دیں