نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے نام 

دنیا والوں کی طرف سے مسلسل پہنچائی جانے والی ایذارسائیوں سے دل برداشتہ ہو کر آپ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ۔ سوچا کہ آپﷺ کو بتائوں کہ ہم وہی اجنبی ہیں جو آپﷺ کے سلام کے مستحق بننے کے لیے کوشاں ہیں، جن کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ” سلام ہو ان اجنبیوں پر”۔

آج کفار ہم پر بالکل اسی طرح حملہ آور ہیں جیسا آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  بتا کر گئے تھے؟۔  انھوں نے تو ہمیں واقعی دسترخوان پر موجود کھانوں کی مانند سمجھ لیا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ آسمان گرتا ہے نہ کوئی شہابِ ثاقب ٹوٹتا ہے۔ ہم  بڑی تعداد میں  ہونے کے باوجود بےبس و لاچار ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے ساتھی مسلمان نیند کی دوا کھائے عالم مدہوشی میں ہیں۔ آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ آج اس جسم کے بیشتر اعضاء شدت تکلیف کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن باقی جسم کے حصے اس تکلیف کو محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔

آپ ﷺنے ہی تو فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب دین پر چلنا انگارے کو ہاتھ میں تھامنے کے مترادف ہوگا ۔ ہمیں دیکھیے ہم اپنے ہاتھ میں انگارے تھامے دین پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ دنیا والے ہمیں زخمی کرتے ہیں۔ کبھی طنز و نشتر سے کبھی اپنی استہزائیہ مسکراہٹ سے۔ اور ہم۔۔۔ ہم آپ ﷺکی “فطوبی للغرباء” والی حدیث یاد کرکے پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔  آپﷺ کی باتیں ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کے لئے کافی ہیں۔

یہ لوگ ہمیں مکے کی سختیاں اور طائف کے پتھروں کی یاد تازہ کرواتے ہیں۔ ہم تیز ہوا کے جھونکوں کے سامنے اپنے ایمان کے ٹمٹماتے دیوں کو بچانے کی ادنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دنیا کی رعنائیاں اپنی مقناطیسیت لیے چہار جانب سے ہمیں اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں مسلسل مصروف ہیں۔

پیارے رسول ﷺ  یہ لوگ ایسے جی رہے ہیں جیسے کبھی مرنا ہی نہیں اور پھر ایسے مر جاتے ہیں جیسے کبھی جیے ہی نہیں۔  یہ لوگ آپﷺ کی اس حدیث کو فراموش کیے بیٹھے ہیں کہ ایک مسلمان کی جان، اس کا مال، اس کی آبرو دوسرے مسلمان کے لیے کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ باعث احترام ہیں۔ مگر یہ لوگ۔۔ ۔  یہ لوگ تو ایک دوسرے کا مال ہڑپنے کے لیے جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ بھلا کیسے بھول سکتے ہیں کہ کل ہمیں آپﷺ کا سامنا کرنا ہے؟ ۔ روز محشر یہ کیسے تسلیم کریں گے کہ کس طرح دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑتے رہے؟۔

آپ ﷺکا وہ فرمان عالی شان آپ کے دیگر فرامین عالیہ کی طرح  کس قدر بر حق ہے کہ دنیا مومن کے لئے اک قید خانہ ہے، میں اس جہان فانی کے مستعار شب وروز میں خود کو بندشوں میں جکڑا ہوا محسوس کرتی ہوں۔۔

ہر قدم پر رکاوٹ اور ہر اقدام پر بندشیں۔۔

آپ ﷺمجھے بہت یاد آتے ہیں۔

نا جانے کتنا عرصہ باقی ہے جب آپ سے کوثر پر ملاقات ہوگی۔ آپ اللہ سے ہماری شفاعت کر دیجئے گا۔ اللہ سے یہ بھی سفارش کیجئے گا کہ وہ بہت قدردان رب ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال کا وزن احد پہاڑ کے جتنا بڑھا کر وصول فرمائے۔

ہمیں اس دنیا میں آپﷺ کی پاک صحبت تو نہ میسر ہو سکی لیکن یقین کیجیے آج بھی ہم اس دنیا میں سب سے زیادہ محبوب آپﷺ کی ذات کو رکھتے ہیں۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتی  ہوں کہ میرے رب گواہ رہئے گا۔ ہم آپﷺ کے حبیب ﷺ کے لائے ہوے دین پر ایمان لاتے ہیں۔

اے محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم آپ ﷺاس دور میں ہمارے لیے روتے تھے۔ ہم اس دور میں آپﷺ کو یاد کرکے روتے ہیں۔ آج بھی نعت میں آپﷺ کے نام کے ساتھ اپنا نام سنا میرے لیے باعث مسرت ہے۔

 روز محشر آپﷺ کی صحبت کی خواہاں،

آپﷺ کی گناہگار امتی،

مدحت رشید۔

حصہ

2 تبصرے

  1. انتہائی دل چیر دینے والی تحریر ۔۔۔ اللہ زورِ ایمان اور زورِ قلم سے مزید نوازے۔ ۔۔آمین

  2. بھت اعلی تحریر یہ حقیقت ھے ھمیں فخر ھے کہ ھم نبی محترم کے امتی ھیں امدحت نے ٹھیک کہا اے اللہ گواہ رھیے گا ھم اپ کے علاوہ کسی سے نہھی مانگتے مگر ھم دو کشتیوں کے سوار ھو گے ھیں

جواب چھوڑ دیں