تم کھڑے تھے

لہو میں بھیگے تمام موسم

گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے

وفا کے رستے کا ہر مسافر

گواہی دے گا

کہ تم کھڑے تھے

سحر کا سورج گواہی دے گا

کہ جب اندھیرے کی کوکھ میں سے نکلنے والے یہ سوچتے تھے

کہ کوئی جگنو نہیں بچا ہے

تو تم کھڑے تھے

تمہاری آنکھوں کے طاقچوں میں

جلے چراغوں کی روشنی نے

نئی منازل ھمیں دکھائیں

تمہارے چہرے کی جھریوں نے

ھے ولولوں کو نمود بخشی

 

حصہ

جواب چھوڑ دیں