“جانبدارانہ ہی سہی، احتساب تو ہو”

تنخواہیں جائیں بھاڑ میں

معیشت کی ایسی کی تیسی

ایٹم بم بنا پڑا ہے، دفاع ہمارا مضبوط ہے

سیاسی انتقام سمجھ لیں

جانبدارانہ احتساب سمجھ لیں

کچھ بھی سمجھ لیں، کچھ بھی کہہ لیں

لیکن یقین کیجیے

چالیس سال سے ارض پاک پر مسلط اس حرام خور سیاسی اشرافیہ کے دو باپوں کا علاج بالکل صحیح ہو رہا ہے.

چور کے بچے

 روپے میں سے چَوَنّی (25 فیصد) لگا کر جاہل عوام کو پاگل بنایا ہوا تھا انہوں نے

اور باقی بارہ آنے (75 فیصد) سے

بچے باہر سیٹ کرو

جائدادیں بناؤ

اندرون و بیرون ملک

کاروبار لگاؤ

پیسے سے پیسہ بناؤ

امیر سے امیر ہوتے جاؤ

اور پھر اسی پیسے سے دوبارہ حکومت میں آؤ

مری کے سرسبز پہاڑوں اور چھانگا مانگا کے ویران جنگلوں میں مفادات کے بدلے سیاسی وفاداریوں کے سودے کرو

دو تہائی اکثریت ملے تو بغیر داڑھی کے امیر المومنین بننے کی کوشش کرو

مارشل لا لگے تو معاہدے کر کے صندوقوں میں سامان بھر کے بھاگ جاؤ اور پھر معاہدوں سے مکر جاؤ

پھر واحد سیاسی مخالف سے فوجی مداخلت کے خلاف میثاق جمہوریت کے نام پر مل بانٹ کر ملک کو کھانے کا بھیانک پلان بناؤ اور پھر ایک دہائی تک نورا کشتی کرو

پھر ایک دوسرے کو حاجی حاجی کہہ کر دنیا سے حاجی صاحب کہلوانے کی منافقت کرو

ملک کا بال بال قرضوں میں ڈبو کر آج تم کہتے ہو کہ میں نے کوئی چوری نہیں کی؟ عدالتیں بکاؤ ہیں

حالانکہ تم خود یہی عدالتیں خریدا کرتے تھے، یاد کرو وہ کال ریکارڈنگ

چلو آج عدالتوں کی جانبداری ہم بھی تسلیم کر لیتے ہیں لیکن پھر تم اسے مکافات عمل سمجھ لو

اس ملک پر قرضوں کا بوجھ آخر کس نے ڈالا ہے؟

میں تو اقتدار میں نہیں تھا

نہ اس تحریر کا قاری مقتدر تھا

ہمارے حکمران ہی تھے نا اقتدار کا ہما سر پر لیے ہوئے

تیس سال فوج کے

تیس سویلینز کے

اور آج ملک کی حالت زار آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں

آخر کسی کو تو ذمہ داری قبول کرنی ہے بربادی کی؟؟؟

کس منہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی کرپشن نہیں کی اور ہم آئیڈیل حکمران ہیں۔

پہلے ملک ٹوٹا پھر ملک ڈوب گیا

اور آج تک کسی موجودہ و سابقہ حکمران سے یہ نہیں سنا کہ میں یہاں غلط تھا

وہ باہر ایک حرام خور، ڈالروں کے عوض قوم کی بیٹیاں بیچنے والا بے غیرت فوجی بیٹھا ہے

ٹی وی پر آ کے قوم کو مُکّے دکھانے والا اب کھانا تک اپنے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا لیکن آج بھی اپنی غلطیاں ماننے کو تیار نہیں

حکمران ایلیٹ خواہ سیاسی ہو یا عسکری

اخلاقی جرات سے عاری ہے

عمران خان نا اہلی کی انتہا پر ہے

لیکن جو بھی ہو رہا ہے،بہتری کے لیے ہورہا ہے

اللہ پاک اس ملک کے تمام دشمنوں کو بے نقاب کر دے گا، انہیں دشمنوں کے ہاتھوں

آج صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عوام کی واضح اکثریت نہ تحریک انصاف سے خوش ہے، نہ نون لیگ سے پر امید ہے نہ پیپلز پارٹی پر بھروسہ کر سکتی ہے اور نہ فوج کے انتظار میں ہے جیسے پہلے خراب ملکی حالات میں ہوا کرتا تھا۔ فوجی حکومت کا دور ختم ہو چکا اور آئندہ کبھی پاکستانی عوام جھنڈے لے کر ٹرپل ون بریگیڈ کا استقبال نہیں کریں گے۔

یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قوم دھیرے دھیرے جاگ رہی ہے

میری پیشن گوئی آپ لکھ کر رکھ لیں

اللہ پاکستان کو ایک دہائی کے اندر اندر ایک عظیم لیڈر سے نوازے گا

وہ فوجی ہو گا، سیاسی ہو گا، نیا ہو گا یا کسی پرانے کو ہدایت ملے گی، یہ اللہ جانتا ہے

لیکن اللہ ایک دہائی کے اندر اندر ایک عظیم لیڈر کے ذریعے پاکستان کی تقدیر بدل دے گا

عوام کے کرنے کا صرف ایک کام ہے

“سیاسی عینکیں اتار دیں، سیاسی وابستگیاں ختم کر دیں، قومیت کا جذبہ پیدا کر کے پوری دیانتداری سے غلط کو غلط سمجھیں اور ببانگ دہل غلط کہیں

اور صحیح کو صحیح سمجھیں اور کھلے عام صحیح کہیں”

اللہ کا غیبی نظام حرکت میں آ چکا ہے

حصہ
mm
پیشے کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہیں۔ مذہب، سیاست، معاشرت، اخلاقیات و دیگر موضوعات پر لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں متعدد ویب سائٹس پر باقاعدگی سے پبلش ہوتی ہیں۔ درج ذیل ای میل ایڈریس پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے nomanulhaq1@gmail.com

جواب چھوڑ دیں